ترقی کا پیمانہ
ترقی کا پیمانہ جمہورکی آواز ایم سرور صدیقی میری اس سے ایک ہوٹل میں ملاقات ہوئی تھی کبھی کبھی حوادث ِ زمانہ سے گبھرا کر میں ایک ڈھابا ٹائپ ہوٹل میں گھنٹوں بیٹھ کر تلخی ٔ ایام کو چائے کبھی کافی کی
تازہ ترین
ترقی کا پیمانہ جمہورکی آواز ایم سرور صدیقی میری اس سے ایک ہوٹل میں ملاقات ہوئی تھی کبھی کبھی حوادث ِ زمانہ سے گبھرا کر میں ایک ڈھابا ٹائپ ہوٹل میں گھنٹوں بیٹھ کر تلخی ٔ ایام کو چائے کبھی کافی کی
انقلاب زیادہ دور نہیں ملک میں ایک طرف سیاسی انتشار ہے تو دوسری جانب بڑھتی مہنگائی اور بیروزگاری نے عوام کا بھرکس نکال کر رکھ دیا ہے، ایک ہی ہفتے میں دو بار پٹرولیم مصنوعات ،بجلی اور گیس کی قیمتوں
خوشی کامفہوم جمہورکی آواز ایم سرور صدیقی گاہک نے دکان میں داخل ہو کر دکاندار سے پوچھا: کیلوں کا کیا بھاؤ لگایا ہے؟ دکاندار نے جواب دیا: کیلے 100 روپے درجن اور سیب150 روپے کلو۔اتنے میں ایک عورت
اداروں پر بیان بازی سیاست نہیں ! ہمارے ہاں ایک عام تاثر پایا جاتا ہے کہسیاست میں سب کچھ جائز ہے ،سیاسی قیادت اظہارئے رائے کی آزادی کے نام پر سب کچھ کہہ سکتی اور کر سکتی ہے ،سیاست میں برادری ازم
آزادی کے متوالے جدوجہد کے علمبردار رہنما یاسین ملک ازقلم:ضحی شبیر کچھ سالوں سے شروع سازش کو اختتام تک پہچانے کی خبریں نشر ہوتی ہیں درد دل رکھنے والے انسانوں اور ہر محب وطن کشمیری کو اک ہی بات
ما قبل آزادی ھند, مسلم یکتا کی نشانی پانی والی مسجد شکار پور نقاش نائطی ۔ +966562677707 کیرتھر کینال کے بہتے پانی کے درمیان آج جو 6 کھمبوں والے پل کے ساتھ جڑی مسجد نظر آرہی ہے ، سو سال پہلے 1922
مزاحمت کی علامت جمہورکی آواز ایم سرور صدیقی مزاحمتی سیاست کا ایک درخشندہ باب بندہوگیا مصر کے سابق صد ر ڈاکٹرمحمد مرسی دوسال پہلے عدالت میں پیشی کے دوران اچانک غش کھاکر گرے اورانتقال کرگئے شاہ
حکومت بدلی، عوام کی حالت نہیں بدلی ! حکومت بدل گئی ،مگر عوام کی حالت نہیں بدلی ، آئے روز بڑھتی مہنگائی اپنے عروج پر ہے اور اس کے بوجھ تلے عوام زندگی گزارنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں،اس وقت ملک
باتیں اور حکائتیں جمہورکی آواز ایم سرورصدیقی ٭ امام شبعیؒ کا کہناہے میں قاضی شریح کے پاس ملنے گیا ایک عورت اپنے خاوندکے ظلم و ستم کی فریادلے کر آئی جب وہ عدالت کے روبرو اپنا بیان دینے لگی تو اس
معاشی غلامی سے نجات کب ملے گی دنیا میں وہی قوم ترقی کی منازل طے کرتی ہے اور اپنا لوہا منوا سکتی ہے کہ جس کی معیشت مضبوط اور عوام بھی ہر لحاظ سے طاقتور و خوشحال ہوں، لیکن ہماری شروع سے مجبوری رہی