عالمی معیار انتہائی مہنگی ترین ادویات بمقابلہ سستی جنرک ادویات کیوں استعمال نہیں کی جائیں؟
نقاش نائطی
۔ 966562677707+
12 اگست 2023 جاری ہوئے فرمان ھیلتھ منسٹری مطابق بھارت کی سرزمین پر پریکٹس کرنے والے ہر انگرئزی ادویات ڈاکٹر پر لازم ہے کہ وہ ہندستانی دوا ساز صنعت کی 90 فیصد دوائی جو جنرک ہوا کرتی ہے اسے عام مریضوں کو لکھ کر دیا کریں اور اگر کوئی بھی ڈاکٹر جنرک میڈیسن لکھ کر دینے سے انکار کرتا پایا جاتا ہے تو اس ڈاکٹر کے خلاف شکایت کئے جاتے اس ڈاکٹر کو سزا کا حقدار ٹھہرایاجاسکتا ہے
آخر یہ جنرک میڈیسن ہوتی کیا ہیں؟ دراصل عالمی دوا ساز مافیہ اپنے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ٹحقیق پر لاکھوں کروڑوں رقم خرچ کئے,ہراقسام اسقام کے لئے, بہتر سے بہتر نت نئی دوائی تیار کرتی رہتی ہیں اور اس دوائی تیار کرنے پر لگائے صرفے کو سود سمیت واپس حاصل کرنے کے لئے, وہ دوائی کی اصل قیمت سے کئی سو گنا منافع رکھے ابتداء میں دوائی مہنگے داموں بیچا کرتے ہیں اور اپنی مہنگی دوائی زیادہ سے زیادہ بیچے جانے کے لئے پریکٹیسنگ ڈاکٹر کو, بھاری کمیشن دئیے اپنی دوائی زیادہ سے زیادہ بیچتے پائے جاتے ہیں۔
بھارت کی دواساز کمپنیاں عالمی کمپنیوں سے عقد بند, بہت ساری عالمی ادویات بھارت میں مینوفیکچر کئے, مارکیٹ میں اونچی قیمتوں پر ہی بیچنے مجبور رہتی ہیں۔ لیکن عالمی کمپنی سے انکے دو تین چار دس سال کے عقد ختم ہونے کے بعد, بھارتیہ کمپنی اسی ادویات کو سستے قیمت بیچ سکتی ہیں یا دوسری دواساز کمپنیاں اسی عالمی دواساز کمپنی کی تیار دوائی کی نقل کو ہندستانی دواساز کمپنی کے ایگریمنٹ اختتام کے بعد کسی دوسرے نام سے تیار کئے کم قیمت پر مریضوں کو مہیا کرسکتی ہیں۔ایسی جنرک ادویات اس عالمی ادویات کے معیار مطابق ہی ہوتی ہیں اور مریضوں کی شفایابی بھی اسی عالمی ادویات جیسا ہی کرتی ہیں۔
بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر علی گڑھ سے تعلق رکھنے والےڈاکٹر خواجہ عبدالحمید نے بھارت کی مشہور ترین دوا ساز کمپنی سیپلا (Cipla) کی بنیاد 1935ء میں رکھی تھی اور انہوں نے سستے داموں ادویات فراہم کرتے ہوئے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالا تھا اور ابھی تک ان کے بیٹے ڈاکٹر یوسف حامد اس کمپنی کے چیئرمین ہیں اور انہوں نے طویل عرصے تک اس کی قیادت کی ہے اور اب بھی بھارتیہ کروڑوں لوگوں کو اپنی سستی دوائیوں سے وہ شفایاب کرتے آئے ہیں۔اگر کسی کو اس کمپنی کی تاریخ، مصنوعات یا پاکستان اور متحدہ عرب امارات میں اس کی دستیابی کے حوالے سے مزید معلومات درکار ہیں، تو وہ براہِ راست آفیشل ویب سائٹ Cipla Global پر وزٹ کر سکتے ہیں۔
اگر آج بھی کوئی ڈاکٹر ہم آپ سے ہمارے سقم کے پیش نظر ہمیں کوئی دوائی تجویز کرتا ہے اور فلان دوکان سےہی یہ دوا خریدی جائے اور ہمیں لاکر دکھائی جائے کہتا پایا جاتا ہے تو سمجھ لیں وہ دوائی دوکان سے اپنی سجھائی دوائی کمیشن کے لئے یہ کہتا پایا جاتا ہے۔ ہم آپ اس ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوائی کے بمثل جنرک دوائی کو خرید لئے جاتے ڈاکٹر کو لے جا دکھائیں اور پھر بھی وہ ڈاکٹر صرف اپنے کمیشن کے لئے, جنرک ادویات استعمال کرنے سے روکتا پایا جاتا ہے تو کنزیومر کورٹ کا نمبر حاصل کئے, ہم آپ حکومتی صحت عامہ منسٹری کو,اس ڈاکٹر کے خلاف شکایت درج کرسکتے ہیں اور انہیں سزا دلوا سکتے ہیں
چونکہ بھارت اسی کے دہے سے قبل تک عالم انسانیت کا ایک غریب ترقی پزیر ملک تھا اور سابقہ بارہ سالوں سے اس ملک بھارت پر سب کا ساتھ اور سب کا وکاس والے اچھے دن کے وعدے سے ایوان حکومت تک پہنچ,اپنے وعدے کے خلاف اپنی نفرتی حکومت چلارہی سنگھی حکومت, پونجی پتی نوازہوتے, بڑے پونجی پتیوں کے ہاتھوں اکثریتی آبادی کے منظم انداز لوٹے جانے کو دانستہ نظر انداز کئے, مہنگائی در عام شہریوں کے لئے بڑھائی ہوئی ہے, اس لئےاب بھی بھارت کی اکثریت غربت ریکھا سے کم میں جینے مجبور ہوتی ہےاسلئے بھارتیہ حکومت نے عام بھارت واسیوں کی افادیت کے پیش نظر,ایسی جنرک ادویات کی دستیابی آسان بنانے کے لئے, مجبوری ہی میں 22 اگست 2023 کو جنرک میڈیسن عام دستیابی کے لئے یہ نوٹیفیکیشن جاری کیا ہوا ہے اور مختلف سیول سوسائیٹی افراد پر مشتمل رضاکاروں نے پلاٹینم آرایکس نامی ویپ پورٹل جاری کئے, دکھی انسانیت کے لئے جنرک ادویات دستیابی آسان بنائی ہوئی ہے
۔ایسے میں ہم بھارت واسیوں کو چاہئیے کہ بمجبوری بعض دائمی امراض کے لئے مستقل کھائی جانے والی بعض ادویات کو, عالمی معیار والی اونچی قیمتی ادویات کھائے,ماہانہ معشیتی میزانئے کا خسارہ رفع کرنے کے لئے ,پلاٹینم آرایکس ویپ پورٹل معرفت آن لائیں جنرک ادویات منگوااسے استعمال کرنا شروع کریں, اب تو ہر شہر میں جنرک ادویات دواخانے بھی عام کھلے ہوئے ہیں, بھٹکل میں بھی بندر روڈ پر میسور کیفے ہوٹل کے سامنے جنرک دواخانہ کھلا ہوا ہے۔جب پچاس سے ساٹھ فیصد کم قیمت پر وہی عالمی معیار افادیت والی دوائی, کسی دوسرے نام سے, اسی عالمی دوائی کمپوزیش کے ساتھ نصف قیمت سےبھی کم سستے دام,ہم آپ کےگھرادویات ترسیل آسان بنائی گئی ہے تو عالمی معیار دواساز کمپنیوں کی طرف سے تشہیر سمیت ڈاکٹروں کو دئیے جانے والے بھاری کمیشن پر مشتمل, کئی گنا مہنگے
داموں بیچی جانے والی مہنگی ترین ادویات استعمال کرنے کے بجائے, بالکل وہی عالمی معیار ادویات جنرک ورشن استعمال کئے, دوائی اخراجات کی مد میں خرچ ہونے والی جملہ رقم سے نصف سے زیادہ رقم بچا, ہم کیوں نہیں لیتے ہیں؟ امید ہے اس اعلی تعلیم یافتہ دور میں اور خصوصا” ہر کس و ناکس کے دست تک اسمارٹ فون دستیابی صورت, کیوں نہیں اپنے گھر کے بزرگوں کے لئے صدا استعمال ہونے والی, بالکل اسی فیوض و برکات شفایابی کےساتھ جنرک ادویات استعمال کرنے کرانے کی عادت ڈالتے ہم پائے جائیں گے۔انشاءاللہ۔
سب سے اہم اپنے وقت کا,مرتی انسانیت کو شفایاب کراتا بھگوان کے اوتار جیسا مبارک پیشا انگریزی ادویات ڈاکٹری پیشہ,ایک آدھ اعلی تعلیم یافتہ لٹیروں کے ہاتھوں غریب و مفلس عوام کو لوٹے جاتے معاشرے میں بدنام و رسوا ہوتے ہوتے,”سب کا ساتھ سب کا وکاس”, اب کے اس خود ساختہ کبھی “ایشور کے اوتار” تو کبھی “ہم اس ملک کے چوکیدار ہیں,ہم کسی کو, ایک پائی بھی کھانے نہیں دیں گے” تو کبھی”ہم تو فقیر منش ہیں, کبھی بھی, کسی بھی دن,اپنا جھولا اٹھائے (پتلی گلی سے) کہیں بھی نکل جائیں گے”
اور “اچھے دن آنے والے ہیں” کہتے کہتے, “اب برے دن آنے والے ہیں”, کہتے غریب و متوسط دیش واسیوں کو ڈرائے, انہیں پیٹرول ذیزل اور پکوان گیس تک کم خرچ کرنے والی من کی بات بتائے
, نیز گولڈ خریدنے سے پرہیز کرنے کی بات تک کرنے والے مودی جی, غریب و متوسط دیش واسیوں کو ڈراتے ڈراتے انہیں اس بات کا احساس ہی باقی نہیں رہا کہ مہان مودی جے کے گجراتی دوست یا انکے سیاسی سرمایہ دار یا کہ جیو ٹیلی کومینیکیشن اشتہار کے برانڈ ایمبیسڈر بنے انہوں نے عالم کی سب سے بڑی سیکیولر جمہوریت کا وزیر اعظم رہتے جو جیوکااشتہار کیا تھا اسکے مالک و آقاء, ہم دو ہمارے والے امبانی کی بیٹی ایشا امبانی نے, صرف منگنی کی رسم میں 1800 کیرٹ کی جیولری کم و بیش 15 لاکھ کی پہنتے ہوئے, مودی جی کو شاید یاد نہیں رہا جو وہ دیش واسیوں کو سونا نہ خریدنے کی نصیحت کرتے پائے جاتے ہیں۔
انکے ایک اور گجراتی دوست ایڈانی جی کوامریکی حکومتی عتاب سے بچانے, دیش کے بینک میں موجود 12 بلین ڈالر قیمت کے برابرغریب و متوسط بھارت واسیوں کے ٹیکس پیسوں سے خریدا گیا سونا, بیچے جانے کی خبر جو سائبر میڈیا پر گردش کررہی اس میں کتنی سچائی ہے اور کتنا جھوٹ یہ تو ہم دو ہمارے دو گجراتیوں کے ساتھ ایشور بھگوان ہی جانے۔ دراصل عالمی کی سب سے زیادہ آبادی دوسرے نمبر والے بھارت میں بڑی بڑی انشورنس کمپنیاں جو ہیں وہ اکثر سنگھی گجراتیوں کی ملکیت ہی میں ہیں۔
بڑے ہاسپیٹلز میں عموما” مریضوں کو پڑوڈکٹ کی طرح چارہ کے طور استعمال کئے,انشورنس کمپنی ذمہ داروں کے ساتھ مل کر, انہیں لوٹنے ہی کی نیت سے, عام مارکیٹ شفایابی قیمتوں سے کہیں زیادہ قیمتیں بڑے ہاسپیٹل والے مقرر کئے ہوتے ہیں,اس سے انہیں بغیر انشورنس والے عام غریب و متوسط مریضوں کو بھی,انہیں کچھ فیصد تخفیض دئیے,لوٹنے راہ ہموار ہوتی ہے ۔ اسی لئے ہم اپنے قارئین سے یہ کہنا چاہتے ہیں جیسے جیسے جدت پسند عصری انگرئزی طبی تعلیم یافتہ نئی نسل, معشیتی دنیا میں قدم رکھ رہی ہے ان میں اکثریت اعلی انگریزی طب تعلیم یافتگان, اپنے فن پیشہ مہارت کے اعتبار سے زیادہ سے زیادہ کنسلٹیشن فیس, آپریشن یعنے جراہتی عملیات فیس, مریضوں سے لیتے ہیں
تو اس میں ایک۔حد تک کوئی قباحت یا برائی نہیں ہے, لیکن وہی شافی امراض بھگوان سمان ڈاکٹر, اپنے مریضوں کےان پر کئے اعتماد و بھروسہ کو دھوکا دئیے, دوائی دوکانوں سے مریضوں کوتجویز شدہ ادویات پر کمیشن ,خون و بول فضلہ تفتیش لیبارٹرییس سے اپنے تفتیش کے لئے بھیجے گئے مریضوں سے لوٹی رقم سے پچاس تا ستر فیصد کمیش لینے کی بات تو دھوکہ دہی, فریب کے زمرے والی انتہائی قبیح حرام کمائی ہوتی ہے,لیکن اس سے بھی گھناؤنی ڈکیتی یہ اعلی تعلیم یافتہ انگرئزی ادویات ڈاکٹر جو کرتے پائے جاتے ہیں
اسے دیکھ آنگریزی ادوہات ڈاکٹری پیشے ڈکیتی طرز لوٹ مار ہی سے گھن انے لگتی ہے۔ ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ تمام انگرئزی ادویات ڈاکٹرس لٹیرے نہیں, بلکہ انسانیت دوست اپنے مریضوں کی شفایابی کے لئے آتاہ کوشش کرتےبھی پائےجاتے ہیں۔لیکن ہزاروں چاول دانوں میں ایک آدھ پایا جانے والا گھن یا پھتر کھاتے ہوئے منھ میں آجانا ہے تو کیسی بدمزگی پھیلتی ہے دیکھا جاسکتا ہے۔ انگریزی ادویات بڑے ہاسپیٹل میں اچھی تنخواہ و کمیشن پر, جو اعلی تعلیم یافتہ ڈاکٹر متعین کئے جاتے ہیں, انہیں ان پر بھروسے کئے آئے, مریضوں کو لوٹنے, بیکار خوں و بول تفتیش کرائے یا ای سی جی, سٹی اسکین, ایم آر آئی کروائے, بنا ضرورت مریضوں کو لوٹنے مجبور کیاجاتا ہے یہاں تک کہ انہیں دی
جانے والی تنخواہ کے حساب سے, انہیں مریضوں کو انیک طریقے سے لوٹنے ٹارگیٹ دیا جاتا ہے۔اسی لئے بڑے ہاسپیٹل میں مصروف معاش عام ڈاکٹر حضرات نہ چاہتے ہوئے بھی شافی امراض بھگوان سماں ڈاکٹر کے بجائے مریضوں کو انیک ٹیسٹ و بے وجہ آپریشن کئے انہیں لوٹے جاتے وہ بیچارے ڈاکٹرحضرات تجارتی طرز قائم سرمائہ داروں کے ہاسپیٹل کے دلال یا ایجنٹ بنے, ان پر بھروسہ کرنے والے غریب و متوسط امیر مریضوں کو انیک بہانوں سے لوٹنے والے لٹیرے بننے مجبور ہوجاتے ہیں۔ یہاں کہ عام دوائی سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کو, زبردستی آپریشن کئے کروائے, انہیں مکمل صحت یاب کروانے کے بجائے الٹا غیر ضروری ان کے نازک قلب میں مہنگے ترین ڈبل ٹرپل قیمتوں والےاسٹنٹ ڈالے, انہیں لوٹا جاتا ہے اور مریضوں یا انکے رشتہ داروں کی معلومات سے پرے, انکے گردے تک نکالے, لاکھوں روپیوں میں تونگر ضرورت مندوں کو بیچے, متوسط و غریب مریضوں کی صحت و جان تک سے کھلواڑ کی جاتی ہے۔ اچھے اچھے انگرئزی ادویات ڈاکٹروں کے پکڑے جانے پر, قبول شدہ, انکے بیانات پر مشتمل ویڈیو کلپس سائبر میڈیا میں بھری پڑی ہیں
2015 کی مشہور بالی ووڈ فلم “گبر از بیک” گبر کی واپسی جس میں اکشے کمار نے ھیرو کا رول نبھایا تھا اس میں کس خوبصورتی سے ہاسپٹل,آئی سی یو میں دم توڑے کسی مالدار مریض کو اسکے مرنے کے بعد چوبیس گھنٹے تک آئی سی یو میں رکھے, مختلف ٹیسٹ اور کنسلٹنٹنگ ڈاکٹر فیس کےنام, وفات پائے شخص کے مالدار رشتہ داروں کو دانستہ لوٹا جاتا ہے۔ ممبئی شہر کے ایک نامی گرامی ہاسپیٹل میں ایک نئے ایڈمٹ گجراتی مریض کے دم توڑنے کے باوجود, اس مریض کو آئی سی یو میں رکھے,مریض کے رزستہ داروں تک کو آئی سی یو میں آئے اپنے۔مریض کو قریب سے نہ دیکھنے دیتے, اسے لوٹے گئے
اصلی واقعہ کی بنیاد پر ہی ‘ گبر کی واپسی’ فلم بناتے ہوئے ان اعلی تعلیم یافتہ ڈاکٹروں کے ہاتھوں انسانیت کو لوٹے جانے والے واقعات کو درشاکر عام انسانیت کو خبردار و ہوشیار رکھنے کوشش کی گئی ہے۔ گبر کی واپسی تو ایک فلم تھی لیکن اس فلم کے ریلیز کئے جانے کے بعد, بہار و ھند کے دیگر علاقوں میں, ایسے فوت شدہ مالدار مریضوں کو آئی سی یو میں رکھے,انہیں دانستہ لوٹنے والے متعدد واقعات کی تفصیل گوگل پر ڈھونڈنے سے مل پاتی ہے۔
انہی دانستہ مریضوں کو لوٹے جانے والے اقدار و اخلاق سے لبریز فی زمانہ اعلی تعلیم یافتہ شافی امراض بھگوان کا روپ لئے انگرئزی ادویات ڈاکٹر حضرات, کیسے وقتی دنیوی زندگی کے مزے لوٹنے, ان پر بھروسہ کئے مریضوں کو ڈرائے دھمکائے,اچھی صحت کی ضمانت دئیے, غیر ضروی انکا آپریشن کئے,انہیں دانستہ لوٹے, ان کے قلب میں غیر ضروری اسٹنٹ تک لگائے پائے جاتے ہیں مندرجہ ذیل لنک کلپ کھول دیکھا جاسکتا ہے۔
اس لئے ہم اپنے گرانقدر قارئین نقآش نائطی/ ابن بھٹکلی کی معرفت سے یہ بات عام انسانون تک پہنچانا ضروری سمجھتے ہیں کہ وقت موت, و جائے موٹ,ہر شخص کی قسمت میں پرور دگار کی طرف سے لکھے گئے جیسا ہی, ہر انسان کے مرنے سے پہلے,کن کن بیماریوں سے, کتنے وقفہ تک, کتنے ڈاکٹروں ہاسپیٹلوں کے چکر کاٹنے پڑیں گے یا بسٹر مرگ پر تڑپنا ہوگا یہ سب کچھ ہمارے پیدا پونے سے پہلے لوح قلم سے ہماری تقدیر میں لکھ العلیئین نامی جگہ پر محفوظ رکھا جاچکا پے, اس سے اپنے آپ کو یا اپنے کسی خاص الخاص شخصیت کو بچانا ناممکن عمل ہے اس لئے کسی کے بھی بیمار پڑتے ہی آپنا آپا کھوئے,جذبات میں سرشار غلط لٹیرے ڈاکٹروں کے ہاتھوں کا شکار بنے,خود کو لوٹنے سے بچانا بھی انتہائی ضروری ہوتا ہے۔اس لئے قدرت نے جو ہمارے جسموں میں خود مدافعتی۔ نظام صحت یابی ایمیوں سسٹم کو صحیح انداز کام کرنے کا موقع بھی دیں اپنے شافی کل امراض خالق و مالک دوجہاں پر بھروسہ رکھیں۔خدائے بزرگ و برتر کی طرف سے ذی روح کل مخلوقات خصو صا” ہم انسانوں کے اجسام میں رکھے گئے خود مدافعتی امراض نپٹنے والی خودکار صلاحیت ایمیون سسٹم پر لکھا اور طبع ہوا مضمون مندرجہ ذیل لنک کھول پڑھا جاسکتا ہے
*تفصیل مضمون فیس بک پر بھی*
چونکہ قدرت پر بھروسہ کئے لاعلاج بیٹھنے کے بجائے,قول رسول خاتم الانبیاء محمد مصطفیﷺ کے بتائے مطابق «لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ، فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَرَأَ بِإِذْنِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ»
’’ہر بیماری کے لئے شفاء ہے اور جب شفاء مرض پر لگ جائے گی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے شفاء ہوگی۔‘‘
اسی حکم رسول ﷺ پر عمل پیرا ضرورت پڑنے پر یونانی ہومیوپیتھی,نیچروپتی, اکیوپنکچر, ایوروید, وغیرھم میں سے کسی ایک قدرتی ادویات طریق علاج معالجہ کروائیں اور پھر بھی شفایابی نہ ہو تو انگریزی ادویات ڈاکٹر سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔لیکن اس بات کا یقین و ایمان کامل ضروری ہے شفا دوائی سے کم شافی امراض مالک الملک اللہ رب العزت کے پاس پوتی ہے ۔ اور اللہ اپنے بندوں سے ویسے ہی سلوک کیا پایا جاتا ہے جیسا اس کے بندے اپنے اللہ سے گمان و امید کرتے پائے جاتے ہیں۔اور ہم اپنے اللہ پر مکمل یقین و ایمان کے ساتھ کسی بھی نوع ہومیوپیتھی یونانی ایورویدک یا نانی اماں کے ٹوٹکے والی ادویات استعمال کرتے پائے جاتے ہیں ہمآرے ایمان و یقین مطابق شافی کل الامراض وہ پاک ذات خداوندی, کسی بھی ابتدائی دوائی سے شفایابی پانے وہ پروردگار کن کہتا پایا جاتا ہے پھر فیکون ہوتے
ہماری پہلی ادویات کوشش ہی میں ہم شفایاب ہوتے پائے جاتے ہیں۔ اور جن مریضوں نے یا ان کے رشتہ داروں نے,انگریزی ادویات ڈاکٹروں کو ہی ہی شافی امراض تسلیم کیا ہوا ہے انہئں بھی انہی کے ڈاکٹروں کے ہاتھوں وہ پروردگار ہی شفایاب کرتا پایا جاتا ہے۔ یاد رہے جدت پسند بڑے ہاسپیٹل والوں کے انکے پاس آیا ہر مریض انکی کمائی کے لئے ایک پروڈکٹ مانند ہوتا ہے۔ جس طرح تاجر اپنے کسی بیچے جانے والے پروڈکٹ کو کسی بھی گراہک کے ہاتھوں اچھے سے اچھی قیمت پر بیچنے کا متمنی پایا جاتا ہے بالکل ویسے ہے کسی نئے مرئض کو اپنے سامنے دیکھ کر ان لٹیرے ڈاکٹروں کو اپنی فیملی کی کوئی ضرورت یاد آجاتی ہے اور کسی بھی طریق اپنے اس مریض سے اپنی ضرورت سے زیادہ رقم ایٹھنے مصروف عمل پائے جاتے ہیں۔ جس طرح ہم آپ کی بیویاں انکے لئے درکار ڈریس خریدنے سے پہلے کئی دوکانوں کے چکر کاٹ انکے ڈریس کی کوالٹی اور قیمتوں کا تقابل کئے سستے سے سستا اور اچھے سے اچھا ڈریس خریدا کرتے ہیں بالکل ویسا ہی یا اس سے بھی زیادہ احتیاط برتے, کسی ڈاکٹر کے کہنے پر بڑا آپریش کرنے سے پہلے انیک ڈاکٹروں کی آراء بھی معلوم کرلیا کریں
کارپوریٹ بڑے ہاسپٹل کے ہاتھوں مریضوں کی لوٹ کھسوٹ پر گوگل میں موجود احتیاطی تدابیر جس پر عمل۔پیرائی ہمیں کارپوریٹ لوٹ کھسوٹ سے ایک حد تک آمان دلاتی پائی۔جاسکتی ہے۔
یہ انتہائی مایوس کن اور دباؤ کا باعث ہوتا ہے جب کوئی بڑا اور نامی گرامی ہسپتال غیر ضروری جانچ اور بلنگ کے ذریعے مریضوں کی دیکھ بھال پر منافع کو ترجیح دیتا پایا جاتاہے۔ کارپوریٹ ریونیو کے اہداف اور نظامی استحصال کے ذریعے کارفرما یہ عمل جدید نجی صحت کی دیکھ بھال میں ایک وسیع مسئلہ ہے۔ ہسپتال سے زیادہ چارج کرنے کے عام طریقے غیر ضروری تشخیص: خون کے دوبارہ ٹیسٹ، ایکس رے، یا MRIs کا آرڈر دینا جن کا اصل علاج کے منصوبے پر کوئی اثر نہیں ہوتا ہے۔ فلیٹڈ کنزیومیبلز: چارجنگ جیسے بنیادی اشیا، مارگلوٹین، اور دیگر اشیائے خوردونوش ادویات۔غیرضروری ماہرین سے مشاورت: جب کوئی پرائمری ڈاکٹر کیس کا انتظام کر سکتا ہے تو متعدد باہر کے ڈاکٹروں کو کال کرنا
۔ جبری توسیع: مریضوں کو زیادہ سے زیادہ کمرے کا کرایہ اور روزانہ کی نگرانی کی فیس کے لیے طبی ضرورت سے زیادہ دیر تک داخل ہاسپیٹل یا ائی سی یو میں رکھنا۔ اپنے آپ کو کیسے بچائیں اورکارپوتیٹ کی اس لوٹ کھسوٹ کے خلاف کیسے لڑیں۔ طبی ضرورت بڑے طریقہ کارپر سوال کریں۔ داخلوں، یا مہنگی تشخیص سے اتفاق کرنے سے پہلے، حاضری دینے والے معالج سے واضح طور پر تفصیلا” پوچھیں: “اس مخصوص ٹیسٹ کے نتائج میرے فوری علاج کے منصوبے کو کیسے بدلیں گے؟”
(مثال کے طور پر دبئی ہیلتھ اتھارٹی کے پاس ایک سرکاری شکایت درج کروائیں اگر دبئی امارات میں ہے، جو کہ انشورنس کمیٹی کو قانونی طور پر کم کرنے اور صحت کے بل کا جائزہ لینے کے لیے قانونی کارروائی کرتی ہے۔ فراہم کنندہ انشورنس کمپنیاں معمول کے مطابق فائلوں کا آڈٹ کرتی ہیں اور ہسپتال کے غیر منظور شدہ یا استحصالی چارجز کی ادائیگی سے انکار کر دیتی ہیں۔ جب تک ہم آپ کارپوریٹ ہاسپیٹل لوٹ کھسوٹ کے خلاف زاواز بلند نہیں کریں تو ہمیں انصاف کہاں سے ملیگا یاد رکھیں ہم آپ پر کئے جانے والے ظلم کو باوجود قدرت رکھنے کے ہم خاموش تماشائی بنے سہتے ہیں تو ہم بھی خود ہر ہوئے ظلم کے لئے ظالم جیسے پائے جاتے ہیں۔