غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا!
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا! اتحادی حکومت کو اقتدار میں آئے ابھی دو ماہ مکمل نہیں ہوئے، لیکن اسے اتنے سنگین قسم کے مسائل کا سامناہے کہ جن کا حل بس سے باہر دکھائی دیتا ہے،ایک طرف سیاسی و
تازہ ترین
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا! اتحادی حکومت کو اقتدار میں آئے ابھی دو ماہ مکمل نہیں ہوئے، لیکن اسے اتنے سنگین قسم کے مسائل کا سامناہے کہ جن کا حل بس سے باہر دکھائی دیتا ہے،ایک طرف سیاسی و
یہی حقیقت ہے جمہور کی آواز ایم سرورصدیقی کتنی عجیب بات ہے پاکستان میں اپنے اقتدارکو دوام دینے کیلئے ہمیشہ سیاستدان جمہوریت کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کرتے ہیں بعینہٰ مذہبی رہنما اسلام کا نام
سیاسی استحکام سے معاشی استحکام ملک میں جب تک سیاسی استحکام نہیں ہوگا، معاشی استحکام نہیں آسکتا ،اس آگہی کے باوجود ملک میںسیاسی و معاشی استحکام لانے میں ناکام نظر آتے ہیں،ہم نے کبھی غور کیا ہے
دنیاکی سب سے بڑی دہشت گردی جمہورکی آواز ایم سرورصدیقی ہادی ٔ برحق ﷺ سے بغض و عناد کوئی نئی بات نہیں اسلام دشمنوں نے ہردورمیں اپنی خباثت کا ثبوت دیتے ہوئے بنی ٔ آخرالزماں حضرت محمد ﷺکی شان میں
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا! اتحادی حکومت کو اقتدار میں آئے ابھی دو ماہ مکمل نہیں ہوئے، لیکن اسے اتنے سنگین قسم کے مسائل کا سامناہے کہ جن کا حل بس سے باہر دکھائی دیتا ہے،ایک طرف سیاسی و
اپنےجرات مندانہ ایمانی جذبہ کو ثابت کرنے کا وقت نقاش نائطی ۔ +966562677707 صد آفریں حضرت مولانا متیں الحق اسامہ قاسمی صاحب مدظلہ صدر جمیعتہ العلماء ھند یوپی و قاضی شہر کانپور بھارت کی آبادی کے ہم
توہین رسالت پربائیکاٹ انڈیا مہم ! اعلیٰ تہذیبی اقدار کی دعویدار مغربی دنیا کی قیادت ہو یا عدم تشدد کے نام نہاد پرچارک بھارتی حکمراں ‘ اسلام کی مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کا مظاہرہ ان کی جانب
زندگی کی تلخ حقیقتیں جمہورکی آواز ایم سرورصدیقی کہنے والے کہتے ہیں تو ٹھیک ہی تو کہتے ہوں گے کہ پاکستان میں جمہوریت کرپشن کی علامت بن چکی ہے بڑے بڑے رہنمائوںنے سیاست کو صرف اپنی ترقی کیلئے مخصوص
بھارت کی معشیتی بربادی کی ذمہ دارھندو دہشت گر تنظیم آرایس ایس ۔ نقاش نائطی ۔ +966562677707 دیش کے پرم پوجیہ مہاتما گاندھی کو قتل کرتے ہوئے بھارت کا پہلا دہشت گرد بننے والا گوڈسے نہ صرف ھندو ،
سیاسی بحران میں سیاسی حل کی تلاش ! حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جمہوریت میں اختلاف رائے کا ہونا معمول کی بات ہوتی ہے، بلکہ اس کو جمہوریت کے حسن سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے، تاہم اس اختلاف رائے کی بھی