26

اس بجٹ پر وزیرِ خزانہ کا امتحان !

اس بجٹ پر وزیرِ خزانہ کا امتحان !

ہر سال بجٹ سے پہلے ایک بیان آتا ہے کہ آئندہ بجٹ میں ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ نہیں ڈالا جائے گا، بلکہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جائے گی،اس بار بھی بجٹ سے پہلے ہی وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب کا بیان آگیا ہے ،یہ ایک ایسا دلاسا ہے، جو کہ عوام کوایک تسلسل سے دیا جارہا ہے اور ہر بار بجٹ کے قریب ایک ہی راگ الاپا جارہاہے، لیکن کیا اس بار واقعی کچھ مختلف ہو پائے گا،جبکہ پردے کے پیچھے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی کڑی شرائط ہیں، یہ وزیر خزانہ کی یقین دہانیاں آئی ایم ایف کے پہاڑ جیسے اہداف کے سامنے کتنی دیر ٹک پائیں گی؟
اگر دیکھاجائے توآئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام کے تحت ملکی بجٹ سازی کی خودمختاری شدید متاثر ہو چکی ہے ،عالمی ادارے نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے حکومت کو 17.1 ٹریلین روپے سے زائد کا مجموعی وفاقی ریونیو ہدف دیا ہے, اس میں سے صرف فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو 15.2 ٹریلین روپے سے زائد کا بھاری ٹیکس ہدف پورا کرنا ہے،اس کے باعث ہی آئی ایم ایف نے بجٹ میں تقریباً 430 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات متعارف کرانے کی سخت شرط رکھی ہے ،جب اہداف اتنے غیر معمولی ہوں، تو حکومت کے لیے تنخواہ دار طبقے کو حقیقی ریلیف دینا یا نان فائلرز پر انحصار کرنا ،ایک کڑا امتحان بن جاتا ہے۔
اس آئی ایم ایف کے بجٹ کے کڑے امتحان میں بھی وزیر خزانہ کی جانب سے ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ نہ ڈالنے کی یقین دہانی سمجھ سے بلا تر ہے ، جبکہ اس ملک میں ہمیشہ سے تنخواہ دار طبقہ، رجسٹرڈ کمپنیاں اور دستاویزی معیشت سے جڑے لوگ ہی قربانی کا بکرا بنتے آئے ہیںاور معیشت کے کئی بڑے ، بااثر شعبے قومی ذمہ داری سے تقریباً آزاد ہی رہے ہیں،لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس بار آئی ایم ایف کے بجٹ کے ساتھ واقعی صورتحال مختلف ہو گی یا ماضی کی طرح ایک بار پھر سارا بوجھ عام عوام کے ہی کندھوں پر ڈال دیا جائے گا، جو کہ پہلے سے ہی تھک چکے ہیں؟اس سے بڑی ستم ظریفی کیا ہو گی کہ ایک طرف مزید بوجھ نہ دالنے کا دلاسا دیا جاتا ہے تو دوسری جانب ان پر ہی مختلف ٹیکسوں کے ذریعے مزید بوجھ ڈالا جاتا ہے؟
پاکستان میںسب سے بڑی خرابی آئی ایم ایف کا بجٹ اور ٹیکس کلچر کا غیر منصفانہ ہونا ہے، حکومت کوجب بھی کسی دبائو میں ریونیو بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے، وہ مینوفیکچرنگ سیکٹر، پیٹرولیم مصنوعات، اور تنخواہ دار طبقے پر ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ ٹیکسز بڑھا دیتی ہے، اس کے برعکس، زراعت، ریٹیل (شاپ کیپرز)، اور رئیل اسٹیٹ جیسے بڑے شعبے سالہا سال سے ٹیکس نیٹ سے باہر یا برائے نام ٹیکس دے رہے ہیں، زراعت کا ملکی جی ڈی پی میں حصہ تقریباً 22 فیصد ہے، لیکن اس کا ٹیکس ریونیو میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے ،یہ ہی حال ہول سیل اور ریٹیل سیکٹر کا ہے، جو کہ معیشت کا ایک بڑا حصہ ہونے کے باوجود ٹیکس دینے سے کتراتا ہے ،وزیر خزانہ کا عزم اپنی جگہ درست ہو گا کہ نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے اور معیشت کو ڈیجیٹائز کیا جائے، لیکن ماضی کا تجربہ نہ صرف بے یقنی کاشکار کرتا ہے ، بلکہ ہمیں محتاط رہنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔
ماضی میں بھی ہر حکومت نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کا ہی نعرہ لگایاہے، مگر جب بجٹ سازی کا وقت آیا اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے (IMF) کی طرف سے ہدف پورا کرنے کا دباؤ بڑھاگیا تو ایک بار پھرشارٹ کٹ ہی اپنائے گئے ہیں، وہ شارٹ کٹ کیا ہیں؟ پٹرول، بجلی اور گیس پر لیوی بڑھانا یا پہلے سے رجسٹرڈ اداروں پر سپر ٹیکس لگا دینا،اگر حکومت واقعی اس بار تاریخ بدلنا چاہتی ہے، تو اسے روایتی ہتھکنڈوں سے ہٹ کر سخت فیصلے کرنا ہوں گے،یہ صرف بیانات سے ٹیکس نیٹ وسیع نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے رئیل اسٹیٹ کی اصل قیمتوں پر ٹیکس، ریٹیلرز کے لیے تاجر دوست اسکیم کا سخت نفاذ، اور بڑے زمینداروں پر انکم ٹیکس لاگو کرنا ہوگا۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو نان فائلرز پر محض معمولی جرمانے عائد کر کے انہیں کھلی چھوٹ ملتی رہی تواس بار بھی فائلرمزید پِس کر رہ جائیں گے۔
حکو مت جتنا مرضی عوام کو دلاسے دیتی رہے ،عوام جانتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے اہداف پورے ، ان کی ہی جیب سے کیے جائیں گے، جبکہ موجودہ معاشی صورتحال میں تنخواہ دار طبقہ اور دستاویزی معیشت پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، ان پر مزید اضافی ٹیکس لگانا ،معیشت کو مزید غیر دستاویزی بنانے کی طرف ہی دھکیلے گا،یہ بجٹ وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب کے لیے ایک کڑا امتحان ہے،ایک بار پھر عوام اور کاروباری طبقہ یہ دیکھنے کے لیے منتظر ہے کہ کیا حکومت واقعی بااثر نان فائلرز کے خلاف سخت ایکشن لینے کی سیاسی ہمت رکھتی ہے یا پھر ٹیکس نیٹ کی وسعت کا نعرہ صرف ایک بجٹ تقریر کی حد تک ہی محدود رہے گااور سارا نزلہ دوبارہ غریب اور تنخواہ دار طبقے پر ہی گرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں