39

پا کستان کا نیا مو حولیاتی چیلنج !

پا کستان کا نیا مو حولیاتی چیلنج !

اس وقت ملک ایک ایسے غیر مرئی انتہائی ہولناک بحران کی زد میں ہے، جوکہ ہمارے سماجی، معاشی اور جغرافیائی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے، ایک تھنک ٹینک کی رپورٹ نے خطرے کی جو گھنٹی بجائی ہے، وہ اب محض ایک انتباہ ہی نہیں، بلکہ ایک تلخ حقیقت بن چکی ہے ،اس رپورٹ کے مطابق ملک کے مختلف حصوں، بالخصوص پنجاب میں شدید بارشیں، سیلاب، قحط سالی، ہیٹ ویوز اور دیگر موسمیاتی خطرات لاکھوں افراد کو اپنے آبائی علاقوں اور صدیوں پرانے گھروں کو چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور کر رہے ہیں،یہ محض آبادی کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی المیوں، معاشی تباہی اور سماجی عدم استحکام کا ایک ایسا ریلا ہے، جوکہ ہمارے شہری مراکز کی طرف بڑھ رہا ہے۔
اس حوالے سے گزشتہ برسوں میں آنے والے غیر معمولی سیلاب کے ہولناک نتائج ہمارے سامنے ہیں، جنوبی پنجاب کے صرف چھ اضلاع سے بے گھر ہونے والے پانچ لاکھ 23 ہزار سے زائد افراد اپنے تباہ شدہ گھروں، ڈوبتی ہوئی فصلوں اور مرتے ہوئے مویشیوں کو چھوڑ کر قریبی شہروں کا رخ کر چکے ہیں، جنوبی پنجاب، جسے کبھی صوبے کا زرعی گڑھ اور فوڈ باسکٹ کہا جاتا تھا، آج موسمیاتی تبدیلیوں کی پہلی صف کا شکار بن چکا ہے ،پانچ لاکھ سے زائد انسان جب اچانک اپنے روزگار اور چھت سے محروم ہو کر شہروں کی طرف ہجرت کرتے ہیں، تو یہ صرف ایک ہندسہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ پانچ لاکھ سے زائد پامال ہونے والے خواب، سسکتی ہوئی زندگیاں اور سلب ہوتے ہوئے انسانی حقوق کی کہانی ہوتی ہے۔
یہ کہانی ہر سال دہرائی جارہی ہے،اس اچانک اور بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی کے منفی اثرات ملکی معیشت پر انتہائی بھیانک انداز میں مرتب ہو رہے ہیں، یہ ایک زرعی ملک ہے، اس کی معیشت کا بڑا انحصار دیہی افرادی قوت پر ہے، کسان، ہاری اور زرعی مزدور جب موسمیاتی آفات کی وجہ سے اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیںتو زراعت کا پورا پہیہ ہی جام ہو جاتا ہے ،ایک طرف زمینیں بنجر ہو رہی ہیں، کپاس اور گندم کی پیداوار گر رہی ہے اور ملک غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو رہا ہے تو دوسری جانب شہروں میں پہنچنے والی بڑی آبادی فوری طور پر پیداواری عمل کا حصہ نہیں بن پارہی ہے،اس لیے شہروں کی غیر رسمی معیشت، دیہاڑی داری اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہے، اس سے حکومت پر سبسڈیز اور امدادی کاموں کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔
اگرمعیشت سے ہٹ کر شہری ڈھانچے (Urban Infrastructure) پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال مزید تشویشناک نظر آتی ہے ،ہمارے بڑے اور درمیانے درجے کے شہر پہلے ہی آبادی کے دباؤ، ٹریفک کے مسائل، پانی کی کمی اور سیوریج کے ناقص نظام سے نبردآزما ہیں،اس پر ان محدود وسائل کے حامل شہری مراکز پر جب لاکھوں موسمیاتی پناہ گزینوں کا اچانک بوجھ پڑتا ہے تو پورا شہری نظام ہی بگڑ جاتا ہے، اس شہر میں پینے کے صاف پانی کی قلت سنگین ہو جاتی ہے، کچی آبادیوں (Slums) میں بے تحاشا اضافہ ہو جاتا ہے، صحت اور تعلیم کے بنیادی مراکز پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور بجلی و گیس کی لوڈ شیڈنگ کا بحران مزید گہرا ہو جاتا ہے ،اب شہر اب پھیل نہیں رہے، بلکہ وہ آبادی کے بوجھ تلے دب کر دم توڑ رہے ہیں۔
اگر دیکھا جائے تواس بحران کا سب سے خطرناک پہلو سماجی استحکام پر پڑنے والے اثرات ہیں،بڑے شہروں میںجب مختلف ثقافتوں، زبانوں اور پس منظر کے حامل لاکھوں سیلاب زدگان اور ماحولیاتی تارکین وطن آباد ہوتے ہیں تو مقامی آبادی اور نئے آنے والوں کے درمیان وسائل کی تقسیم پر تنازعات جنم لینے لگتے ہیں، نوکریوں، رہائش اور بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے سستی مسابقت شروع ہو جاتی ہے، جو کہ بعض اوقات لسانی، طبقاتی اور سماجی تصادم کی شکل اختیار کر لیتی ہے، روزگار نہ ملنے کی صورت میں جرائم کی شرح میں اضافہ، مایوسی اور نوجوانوں میں انتہا پسندی کے رجحانات کا ابھرنا ایک قدرتی نتیجہ ہے، جو کہ ملکی امن و امان کے لیے ایک مستقل خطرہ بنتا جارہاہے۔
اس بدلتی صورتحال میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس طوفان کے آگے بندھ کیسے باندھا جائے؟اس مسئلے کا حل روایتی طرزِ حکومت اور وقتی امدادی پیکجز نہیں رہے ہیں،اس ہجرت کو روکنے اور شہروں کو بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر طویل مدتی حکمت عملی بنانا ہوگی ،اس میںسب سے پہلے، جنوبی پنجاب اور دیگر متاثرہ دیہی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والا بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنا ہوگا،وہاں پر ایسے مکانات، سڑکیں اور حفاظتی بند بنانا ہوں گے، جو کہ شدید سیلاب اور زلزلوں کا مقابلہ کر سکیں،اس کے ساتھ زراعت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، قطرہ قطرہ آبپاشی (Drip Irrigation) اور ایسی فصلوں کے بیج متعارف کروانے ہوں گے، جو کہ خشک سالی اور شدید گرمی (Heatwaves) کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، تاکہ کسان کو اپنی زمین چھوڑنے کی ضرورت ہی نہ پڑے ،دوسرا اہم قدم سمارٹ سٹی پلاننگ اور گرین اربنائزیشن ہے۔
اس بارے ہر حکو مت بہت کچھ جانتی ہے اور بہت کچھ گزرتے وقت کے ساتھ بتایا جارہا ہے ، اس حکومت کو چاہیے کہ وہ بڑے شہروں پر بوجھ کم کرنے کے لیے چھوٹے قصبات اور درمیانے درجے کے شہروں کو معاشی طور پر مستحکم کرے، ان چھوٹے مراکز میں بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، تاکہ ہجرت کرنے والے افراد بڑے شہروں کا رخ کرنے کے بجائے وہیں آباد ہو سکیں اور شہری انفراسٹرکچر یکدم تباہ ہونے سے بچ جائے ،تیسرا اور سب سے اہم نکتہ عالمی سطح پر پاکستان کے مقدمے کو بھرپور انداز میں لڑنا چاہئے ،پاکستان کو ”لاس اینڈ ڈیمج” (Loss and Damage) فنڈز کے مؤثر حصول کے لیے عالمی برادری پر دباؤ برقرار رکھنا ہوگا، تاکہ موسمیاتی ہجرت کے شکار افراد کی بحالی اور انہیں دوبارہ برسرِروزگار کرنے کے لیے بیرونی مالی امداد حاصل کی جا سکے اور اس کا درست طر یقے سے استعمال بھی کیا جاسکے ۔
موسمیاتی ہجرت اب کوئی مستقبل کا ہی خطرہ نہیں رہا، ہمارے آج کا المیہ بھی ہے، اگر ہم نے اب بھی اس خاموش بحران کا ادراک نہ کیا، اپنے دیہاتوں کو محفوظ نہ بنایا اور شہروں کی بے ہنگم بوجھ کو سنبھالنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی تو آنے والے چند برسوں میں سماجی اور معاشی سونامی پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، یہ وقت تیزی سے ریت کی طرح ہاتھ سے نکل رہا ہے اور فیصلے کی گھڑی اب ہی ہے، ہمیں ںہ سرف مشکل فیصلے کرنا ہوں گے ، بلکہ ان فیصلوں پر عمل در امد بھی کر نا ہو گا تو ہی نئے مو حولیاتی چیلنج کا مقابلہ کر پائیں گے اور عوام کی زندگی میں ایک بہتر تبدیلی لاپائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں