جنگ دوبارہ ہو سکتی ہے!
مشرقِ وسطیٰ کی بساط پر ایک بار پھر تلاطم خیز لہریں اٹھ رہی ہیں،سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیانات میں ایران کے حوالے سے جس سخت گیر موقف کا اعادہ کیا ہے، اس نے عالمی سفارتی حلقوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں،صدرٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ان کی عائد کردہ اقتصادی پابندیوں نے ایران کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے کہ جہاں اپناتیل بیچنے سے قاصر ہے اور اس کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے ،لیکن اس سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امر یکہ کا ایران پر معاشی دباؤ ،خطے میں امن لائے گا یا ایک نئی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوگا؟
اگر دیکھا جائے تو طاقت کے زور پر امر یکہ اب تک ایران کو ہرا سکا ہے نہ ہی کچھ منو ا سکا ہے ،اس کے باوجود صدر ٹرمپ بضد ہیں کہ ”ایران اب معاہدہ کرنا چاہتا ہے” اور اس کے خلاف فوجی آپریشن پہلے شروع ہونا چاہیے تھا، یہ بیانات ان کی اسی جارحانہ سفارت کاری کی عکاسی کرتا ہے ، جو کہ اپنی پہلی مدتِ صدارت میں بھی آزماتے رہے ہیں،
صدر ٹرمپ کے مطابق، ایران کی 90 فیصد میزائل فیکٹریاں تباہ ہو چکی ہیں اور اس وقت تہران شدید دفاعی و معاشی بحران کا شکار ہے،اس کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق مشکل ہے، مگر یہ حقیقت واضح ہے کہ پابندیوں نے ایرانی عوام کی زندگی اور ریاست کی مالیاتی صلاحیت کو بری طرح متاثر ضرورکیا ہے، اس کے باوجود ایرانی عوام بڑے حوصلہ سے اپنا سینہ تانے اپنے سے بڑی قوتوں کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیںاور ہار ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں۔
ایران اور امر یکہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نہیں ہیں ،صدرٹرمپ کے بیانات میں سب سے اہم نکتہ ”جوہری ہتھیار” ہیں، امریکہ کا موقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے ہر قیمت پر روکا جائے گا،اس کو صدر ٹرمپ اسے اپنی کامیابی قرار دیتے ہیں کہ ان کے دباؤ کی وجہ سے ایران گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو رہا ہے ،تاہم، تہران کا بیانیہ اس کے برعکس ہے، ایران نے ہمیشہ اپنی دفاعی صلاحیتوں اور ایٹمی پروگرام کو پرامن مقاصد یا دفاعی ضرورت قرار دیا ہے ، لیکن اس میں تلخ پہلو وہ دھمکی ہے کہ جس میں صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے ،یہ جملہ خطے کے ان ممالک کے لیے ڈراؤنا خواب ہے، جوکہ پہلے ہی شام، یمن اور غزہ کی صورتحال سے نبرد آزما ہیں۔
کیا دنیا ایک اور بڑی جنگ کی متحمل ہو سکتی ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں لگی آگ کبھی ایک ملک تک محدود نہیں رہتی ہے ،ایران کی معیشت بلاشبہ دباؤ میں ہے، مگر ایرانی قیادت نے دہائیوں سے ”مزاحمتی معیشت” کا جو ماڈل اپنا لیایا ہے، وہ ہی اسے مکمل طور پر ٹوٹنے سے بچائے ہوئے ہے اور آگے بھی بچائے رکھے گا ، جبکہ دوسری طرف، عالمی سیاست میں چین اور روس جیسے نئے اتحاد بن رہے ہیں،
جو کہ امریکی پابندیوں کے اثر کو کم کرنے میں ایران کی مدد کر سکتے ہیں،اس لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات محض انتخابی مہم کا حصہ ہیں یا مستقبل کی طے شدہ پالیسی تو ہوسکتے ہیں ، لیکن ایران پر کچھ زیادہ اثرانداز ہو سکتے ہیں نہ ہی ایران کو مجبور کر سکتے ہیں کہ اپنی ہار کا اعلان کردیں ،اس کے بعد امر یکہ کیا کرے گا ،یہ تو وقت ہی بتائے گا، مگر ایک بات طے ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا حل بندوق کی گولی یا معاشی ناکہ بندی میں نہیں ہے، بلکہ برابری کی بنیاد پر ہونے والے مذاکرات میں ہی پنہاں ہے،
اس کیلئے عالمی براداری کو موثر کرادار ادا کرنا ہو گا، اگر اس بار بھی عالمی طاقتوں نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو دوبارہ جنگ کا خدشہ حقیقت بن کر پوری دنیا کو ہی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
اگر اس جنگ کو ایک عالمی جنگ میں بدلنے سے رو کنا ہے تو ہر ایک کو اپنا ذمہ دارانہ کر دار ادا کرنا ہو گا ، پا کستان اپنے سے بڑھ کر اپنا کرادار ادا کررہا ہے،پاکستان کو ایک طرف امریکہ کے ساتھ اپنے دفاعی اور معاشی تعلقات (بشمول نان نیٹو اتحادی کا درجہ) کو برقرار رکھنا ہے تو دوسری طرف ایک برادر اسلامی پڑوسی ملک ایران کی سالمیت اور اس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات کا تحفظ بھی کرنا ہے ،
پاکستان کی خارجہ پالیسی کا رخ غیر جانبداری کی طرف ہے کہ جہاں وہ کسی بھی فریق کا حصہ بنے بغیر خطے میں آگ بجھانے والے کا کردار ادا کر رہا ہے، صدر ٹرمپ کی ’میکسمم پریشر‘ پالیسی کے دوران بھی پاکستان کا کردار محض بیان بازی تک محدود نہیں رہاہے ،پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت (بشمول فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف) بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے فریقین کو جنگ سے روکنے اور مذاکرات کی میز پر لانے کی مسلسل کوششیں کر رہے ہیںاور پر امید ہیں کہ فر یقین میں جنگ ختم کرانے اور ایک موثر امن معاہدہ کرانے میں جلد ہی کا میاب ہو جائیں گے۔