قدرت نے اپنے مایکرو ایٹومک بلاسٹ عمل سے، ہم انسانوں میں ایٹومک سائینس کو ودیعت فرمایا پے۔
نقاش نائطی
۔ ×919448000010
“خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ”
“اس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔”
یہ ‘حکم خداوندی اولی’، آج سے 1460 سال قبل,مکہ مکرمہ کے جبلِ نور (نور پہاڑ) میں واقع غارِ حرا میں، نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا تھا۔ ہم مسلمانوں نے,اس حکم خداوندی پر عمل پیرا، کسی بھی دنیوی بر و بحر،جبل و غابات و صحراء، ماہ و انجم و خلاء میں،تخلیق کی گئی، کل اشیاء کے، ہم انسانیت کےمفاد و مضر تر اثرات معلوم کرنے والے تحقیقی علم کو،جب تک اپنایا تھا،
خداء بزرگ و برتر نے، ہم مسلمانوں کو،عالم انسانیت کا رہبر و امام بنائے رکھا تھا اور جب ہزار حیلے بہانوں سے، ہم مسلمانوں نے حکم خدا، حصول علم کو،دو مختلف،دنیوی عصری و دینی علوم میں بانٹے، حصول علم دین ہی کے لئے،ہمیں مسجدوں مدرسوں کی درودیوار میں مقید رکھا،ہم نے دینی علوم پر تحقیق و تدبر کئے، دین محمدی یا دین احمدی کو حنفی شافعی مالکی حنبلی مقلد و غیر مقلد قول رسولﷺ بہتراقسام کے دین بریلوئیت احمدیت، قادیانیت، شیعیت، رافضیت میں تقسیم کئے، ہم مسلمانوں کو عصری علوم سے ماورا رکھے، ہمیں یہود و ھنود و نصاری کے آگے
غلام ذلیل و رسوا سرنگوں رہنے مجبور چھوڑا ہے۔ یہ تو اچھا ہوا عالم انسانیت پر عالمی یہود ونصاری سازش کناں کی، امریکی ٹوین ٹاورز خود ساختہ دہشت گردانہ حملہ آوری اور اسکا الزام القاعدہ پر ڈالے، عالمی یہود ونصاری حربی قوات، افغانستان و عراق و شام و لیبیاء حملہ آوری سے،کم و بیش ستر اسی سے ایک کروڑ سے زائد معصوم ذکر و انث مسلمانوں کے قتل عام بعد اور عالم یہود و نصاری سازش کناں ہی کی مدد و نصرت کے ساتھ،امن وچین و آشتی کے گہوارے بھارت پر، مسلم دشمن سنگھی قوتوں کو براجمان کئے، ساڑھے پانچ سو سالہ تاریخی بابری مسجد کو، اپنے سنگھی دہشت گردوں کے واسطے سے شہید کئے کروائے، ہزاروں سالہ گنگا جمنی مختلف المذہبی سیکولر اثاث عدل و انصاف کو یرغمال بنائے، عدلیہ ہی کے مادھیم سے، شہید بابری مسجد اراضی کو، قاتل بابری مسجد ٹولے ہی کے سپرد کئے، عدل وانصاف کا گلا گھونٹے، الیکشن کمیشن تک کو یرغمال بنائے، عوامی رائے عامہ کے خلاف سنگھی حکومتوں ہی کو اقتدار پر برقرار رکھے رکھوائے، ابتک اتر پردیش مدھیہ پردیش گجرات صوبوں ہی میں ہزاروں مساجد و درگاہوں کو شہید کروائے، ھند و عالم کےمسلمانوں میں، حکم خدا، بسبیل وحی اولی، عصری علوم کو سیکھنے کی راہ پر گامزن کردیا ہے
۔انشاءاللہ کچھ سالوں بعد، اس کے مفید اثرات سامنے آتے ہوئے، ایک مرتبہ پھر عالمی سطح، ہم مسلمانوں کو،عالم انسانیت پر رہبری کے مواقع نصیب ہونگے۔اس سمت ہمارا ایک دہے قبل لکھا اور متعدد دفع اخباروں کی زینت بنا، تفکر “یہ چمن بھی گونج اٹھے گا نغمہ توحید سے” عالم اسلام مخالف،یہود ونصاری سازش کنان کے لئے، ایک ونڈو حکم سے، اپنے مرضی کے کام نکلوانے والے یہ عرب شیوخ،یہود و نصاری عالمی اسلام دشمنان کے لئے، وردان کی صورت ہیں۔اصلی باشندگان مملکت حرم مکی، حضرت اسماعیل علیہ السلام کے سسرالی یمنی قبائل پر، حرم مکی مدنی پر حملہ آوری کا بہتان لگانے
والے،سلطنت عثمانیہ کی پیٹھ میں خنجر گھونپے،اقتدار ممالک عربیہ ہتھیانے والے یہ شاہان عرب، جنہیں ایرانی شیعیت کے مقابلے، قول رسول ﷺ کفار و مشرکین کے لااعتبار قرار دیئے، یہود و نصاری کتنے اعتباری لگتے ہیں، انکے اخلاص آج نہیں تو کل جگ ظاہر ہوکر رہیں گے۔ عالم اسلام سربراہی سے، ان عربوں کی ماورائیت حصول کے لئے،انکے کردار کا کھل کر امت مسلمہ کے سامنے آنا جو باقی ہے۔ویسے بھی ہمارے پیشین گوئی کردہ، اسلامی خلافت، نشاط ثانیہ ظہور پزیری کے لئے، ابھی کم از کم نصف صد سال کا عرصہ باقی جو بچا ہے اگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا وما التوفیق الا باللہ
6 ستمبر 1945 امریکہ کے جاپانی شہر ھیروشیما ناگاساکی پر، ایٹم بم برسائے،ایک لاکھ سے زائد جاپانیوں کو لمحوں میں موت کی گہری نیند سلائے جانے والے دہشت گردانہ عمل سےپہلے تک، عالم انسانیت ایٹم بم کی ہلاکت خیزی سے انجان و ماورا تھی۔ لیکن قدرت نے ہزارہا سال قبل ہی سے، سمندر کی گہرائیوں میں، پہاڑی چٹانوں میں آباد، چھوٹے سے جھینگے کے، اپنے اغذیہ تلاشتے عمل کو، مایکروایٹومک بلاسٹ طریق تخلیق دئیے، اسے بحری علوم محقیقین کی طرف سے، عالم انسانیت کے سامنے لائے, لاکھوں انسانوں کو “بیک جنبش حکم، لب و رخسار” ختم کئے جانے کے والے ایٹمی قوت علم کو، ہم انسانوں میں ودیعت کیا تھا
۔ قدرت کی اس انوکھی ہلاکت خیز کاریگری کو دیکھنے کے بعد بھی عقل و فہم و ادراک رکھنے والا انسان،پیدا کرنے والے خالق کائیبات کی کبریائی کرنے سے ماورا کیسےرہ بھی سکتا ہے؟ یہ سوچنے اور تدبر و تفکر کرنے والا موضوع ہےانتہائی چھوٹے جھینگے کی ایک نسل، سمندر کی گہرائی میں پہاڑی چٹانوں کے پاس رہنے والا ایک چھوٹا جھینگا،اپنے شکار پر حملہ اوری کے لئے قدرت کے اسے عطا،ایک صلاحیت سے سکینڈ کے ایک حصے سے بھی کم وقت میں “مائیکروایٹومک کیویٹیشنل ببل بلاسٹ” کئے
،اپنے دشمن کی طرف ایک ہوائی ببل بھیجتا ہے جو انتہائی گرم ہوتی ہے جس سے اسکا شکار جھلس کر،اسکے قبضے میں آجانا ہے۔ اسے آچ کے لاسلکی مکر جال انٹرنیٹ بول چال وضاحت مطابق، جو چھوٹے سے جھینگے کی طرف سے پستول کی گولی داغے جیسا عمل ہوتا ہے جسے سائینسی زبان میں، “شرمپ اسنیپر اٹیک” بھی کہا جاتا ہے، یہ ایک چھوٹے سے جھینگےکے اپنے شکار کا طریقہ کار ہوتا ہے۔
“بلبل بلاسٹ” کیسے کام کرتا ہے۔ اس ننھے جھینگے کا ایک پنجہ دوسرے کے مقابلے کئی گنا زیادہ بڑے سائز کا ہوتا ہے جو عام پنسر کی طرح کم اور بھری ہوئی پستول کی طرح کام کرتا ہے۔
1.دی اسنیپر: جھینگا اپنے پنجوں کو 90 ڈگری کے زاویے پر جس تیزی سےکھولتا ہے، جس سے پٹھوں میں شدید تناؤ پیدا ہوتا ہے۔ جب وہ جھینگا پوری قوت کے ساتھ اپنا پنجہ بند کرتا ہے تو کیمرہ سے لی گئی پنچے کی تصویروں سے پتا چلتا ہے کہ وہ جھینگا اپنے پنجے کو 60 میل فی گھنٹہ (100 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے بند کرتا ہے۔
2.دی واٹر جیٹ: اپنے شکار کو جسمانی طور پر مارنے کے بجائے، تیز رفتار بندش پانی کے تیز رفتار جیٹ کو آگے بڑھانے پر مجبور کرتی ہے۔
3.بلبلہCavitatitional برنولی کے اصول کے مطابق، جیسے جیسے پانی کے جیٹ کی رفتار میں زبردست اضافہ ہوتا ہے، مقامی دباؤ پانی کے بخارات کے دباؤ سے نیچے گر جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے پانی لفظی طور پر پھٹ جاتا ہے، جس سے بخارات کا ایک چھوٹا سا بلبلہ بنتا ہے جسے کیویٹیشنل بلبلہ کہا جاتا ہے
4.”ایٹمک” امپلوژن: جیسے ہی یہ بلبلہ کم دباؤ والے جیٹ سٹریم سے نکل کر ارد گرد کے پانی کے دباؤ میں جاتا ہے، یہ انتہائی تیز آواز سے پھٹ جاتا ہے۔
اسے “مائیکرو اٹامک بلاسٹ” کہا جاتا ہے
بلبلے کے ٹوٹنےکی طبیعیات اتنی تیز شعائیں لہریں پیدا کرتی ہے کہئیے سو میٹر دور کھڑی عصری ترقی پزیر آبدوز تک میں لرزش پیدا ہوسکتی ہے۔ جو ایک خوردبین دھماکے سے مشابہ حالات پیدا کرتی ہیں:
درجہ حرارت لاوا سے زیادہ گرم ہوتا ہے، مائیکرو سیکنڈ کے ایک حصے کے لیے، ٹوٹتے ہوئے بلبلے کے اندر کا درجہ حرارت 4,000 ° C اور 8,000 ° C کے درمیان بڑھ جاتا ہے۔ یہ سورج کی سطح (~ 5,500 ° C) سے زیادہ گرم ہے۔
• لیزر سے ہلکا: انتہائی دباؤ اور گرمی بلبلے کے اندر گیسوں کو آئنائز کرتی ہے، جس کی وجہ سے یہ روشنی کی ایک چھوٹی، مختصر چمک خارج کرتی ہے۔ اس رجحان کو سونولومینیسینس (“shrim poluminescence”) کہا جاتا ہے۔
• سونک شاک ویو: امپلوژن ایک شاک ویو پیدا کرتا ہے جس سے بندوق کی گولی سے زیادہ آواز آتی ہے (200 سے زیادہ ڈیسیبلز)۔ یہ دباؤ کی نبض فوری طور پر چھوٹی مچھلیوں اور کیکڑوں کو دنگ کردیتی ہے، ٹکڑے ٹکڑے کردیتی ہے یا انہیں مار دیتی ہے جب تک کہ جھینگا کو جسمانی رابطہ کرنے کی ضرورت نہ ہو۔
اگر کوئی طبیعیات کے اس انتہائی میکانزم کو عملی شکل میں دیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو یوٹیوب پر تیز رفتار بریک ڈاؤن دیکھ سکتے ہیں جیسے کہ رچرڈ ہیمنڈ کی طرف سے پسٹل شرمپ کا کیویٹیشنل ببل پر سلو موشن فوٹیج دیکھ سکتے ہیں۔