کیا سناتن دھرم میں دیوی دیوتاؤں کی مورتی پوجا کی جاسکتی ہے؟

کیا سناتن دھرم میں دیوی دیوتاؤں کی مورتی پوجا کی جاسکتی ہے؟

ابن بھٹکلی
۔ +919448000010

جن لکشمی اور دیگر دیویوں کی تصویریں، جسے روی ورما نے بنائی ہیں وہ سبھی کے سبھی کوٹھے پر بیٹھی عورتوں کو بٹھاکر روی ورما نے ان کی شاندار تصویریں بنوائی تھیں اور کوٹھے پر اس زمانے میں سمراٹ گھرانوں کی عورتیں نہیں بیٹھا کرتی تھیں۔ اور سابقہ دیڑھ دو سو سال سے ہی دیوی دیوتاؤں کی تصویریں بنائی گئی تھیں اس سے پہلے ان تصویروں کا وجود نہیں تھا۔ اب تو انہی دیوی دیوتاؤں کی تصویروں کو سامنے رکھے، ان کی ہو بہو نقل مورتیاں بنائی جارہی ہیں اور اسے مندروں میں براجمان کئے، پران پرشتھا کئے، ان کی پوجا ارچنا کی جاتی ہیں۔ یہ سب سناتن دھرم میں نہیں ہوتا تھا، لیکن آج کے سنگھیوں نے، اسے ہی سناتن دھرم کے طور ھندو سماج کا حصہ بنادیا ہے۔

 

ابتدائی ویدک عہد میں خدا یا دیوتاؤں کے بت یا موریاں بنانے اور مندروں میں ان کی پوجا کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملتاہے
سرسوتی اور بعض دیگر محققین یج وید (ادھیای 40، منتر 8 یا 9) کے اس شلوک کا حوالہ دیتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ “جو لوگ غیر مادی (بے شکل) خدا کو چھوڑ کر کسی جڑ یا فانی چیز کی پوجا کرتے ہیں، وہ اندھیرے میں بھٹکتے ہیں” جسے وہ مورتی پوجا کی مخالفت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

جب ایک سنیاسی نے ایودھیا میں مورتی پوجا کے خلاف ڈیرہ ڈالا تھا اور وہ سنیاسی کوئی اور نہیں بلکہ سوامی دیانند سرسوتی تھے۔
دیانند سرسوتی کہتے تھے کہ اول تو مورتی پوجا ناجائز ہے اور دوسرا یہ ملک کی ایکتا کے لئے خطرناک ہے۔
دیانند سرسوتی نے دیکھا کہ ایودھیا میں بڑی تعداد میں سادھو اور سنیاسی موجود ہیں۔ اس پر انہوں نے مشہور قول “رمتا جوگی، بہتا پانی نرملا” کا مفہوم بیان کیا اور کہا کہ سچے سادھو یا سنیاسی کو کبھی بھی ایک جگہ پر ہمیشہ کے لئے نہیں رہنا چاہئے۔ جس طرح پانی ایک جگہ ٹھہرنے سے آلودہ جاتا ہے، اسی طرح سادھو بھی ایک جگہ ٹھکانہ بنالے تو ، اس کی عقل جاتی رہتی ہے۔ اورمذہب کا مقصدہی ہے، بیوقوفی سے نجات حاصل کرنا۔
وہ بتاتے ہیں، ایک جگہ پر ٹھہرنے سے عقل ودانش جاتی رہتی ہے، یہ برائی کو جنم دیتی ہے، متعصب بناتی ہے اور ان سب سے ذہنی سکون ختم ہوجاتا ہے اور جس کو ذہنی سکون نہیں، اس کی روح یوگی نہیں۔ اور جس کی روح یوگی نہیں ہے، وہ سنیاسی کا لباس پہن کر بھی سنیاسی نہیں ہے۔ وہ یقیناً خود غرض اور متعصب ہے۔ تفصیل جاننے کے لئے لنک کھول پورا مضمون پڑھا جائے

 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *