ایران پر حملہ یا مذاکرات، اصل تنازع کیا ہے !

ایران پر حملہ یا مذاکرات، اصل تنازع کیا ہے !

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر اس نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے کہ جہاں ایک طرف جنگ کے سائے گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں تو دوسری طرف مذاکرات کا دروازہ بھی مکمل طور پر بند نہیں ہواہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل پیغام دے رہے ہیں کہ اگر ایران امریکی مطالبات کو تسلیم نہیں کرتا تو فوجی کارروائی کا راستہ دوبارہ اختیار کیا جا سکتا ہے، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے

کہ ایران امن اور مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے ساتھ تہران سوال بھی اٹھا رہا ہے کہ اگر مذاکرات کے دوران ہی فوجی حملے ہوتے رہیں تو پھر اعتماد کیسے قائم رہ سکتا ہے؟ ایک تازہ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایران کی امن پیشکش کو ناکافی قرار دیا اور دوبارہ بمباری کے امکان کا عندیہ دیاہے، جبکہ ایران نے سفارتی راستہ کھلا رکھنے کے ساتھ ممکنہ نئی امریکی کارروائی کی صورت میں زیادہ سخت جوابی ردعمل کی تیاری بھی شروع کر دی ہے۔یہ کتنے تعجب کی بات ہے کہ واشنگٹن اور تہران بیک وقت جنگ کی تیاری کر رہے ہیں اور مذاکرات کی بات بھی کرہے ہیں،اس پر ا یران کا مؤقف ہے

کہ اس نے سفارت کاری کا راستہ کبھی مکمل طور پر بند نہیں کیا، لیکن ایرانی صدر پزشکیان کے مطابق امن اور مذاکرات کے ماحول میں امریکہ کی جانب سے تین مرتبہ حملے کیے گئے ہیں،اس کے بعد تہران کے لیے امریکی وعدوں پر اعتماد کرنا مشکل ہو گیا ہے، اس دعوے کو ایران کے سرکاری مؤقف کے طور پر دیکھنا ضروری ہے، تاہم موجودہ بحران میں اعتماد کی کمی ایک بنیادی حقیقت بن چکی ہے، جبکہ دوسری طرف امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں سے متعلق بنیادی مسائل حل کیے بغیر مستقل امن ممکن نہیں ہوگا، یوں اصل تنازع صرف یہ نہیں ہے

کہ جنگ ہوگی یا مذاکرات، بلکہ یہ ہے کہ مذاکرات کی میز پر دونوں فریق ایک دوسرے سے کیا چاہتے ہیں اوراس کی کون ضمانت دینے کے لیے تیار ہے۔اس اعتماد کی کمی کے ساتھ امریکی صدر ٹرمپ فوجی دباؤ اور سفارتی دباؤ کے ساتھ چلتے نظر آتے ہیں، گزشتہ کئی ماہ کے دوران ٹرمپ نے متعدد مواقع پر ایران کو معاہدے کی طرف آنے کا پیغام دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ فوجی کارروائی کا خطرہ بھی برقرار رکھا ہے،اگست میں بھی ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کی بات کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کھولنے اور ایران کے جوہری خطرے کو ختم کرنے کو اہم شرائط کے طور پر پیش کیا تھا،

اس سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن مذاکرات کو محض سفارتی ملاقاتوں کے طور پر نہیں دیکھ رہاہے، بلکہ فوجی اور اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایران سے رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش بھی کررہا ہے ،دوسری جانب ایران کے لیے بڑا مسئلہ صرف جوہری پروگرام نہیں، بلکہ پابندیاں، اقتصادی دباؤ، آبنائے ہرمز اور مستقبل میں کسی بھی معاہدے کی ضمانت ہے۔امر یکہ اور ایران دونوں ہی ایک دوسرے پر اعتبار کررہے ہین نہ ہی اعتبار بنا نے کی کوشش کررہے ہیں ،اس بے اعتمادی کی ہی فضاء کے باعث کو ئی معاہدہ نہیں ہو پارہا ہے تو پھر مذاکرات کے ساتھ حملے اور جوابی حملے کی باتیں کیوں کی جارہی ہیں ،

اگر ایران کو دیکھا جائے توتہران بیک وقت دو پیغامات دے رہا ہے: پہلا، مذاکرات سے انکار نہیں کرتا اور دوسرا ، اگر اس پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو پہلے سے زیادہ طاقتور جواب دے سکتا ہے،جبکہ امریکہ کے لیے بھی صورتحال اتنی سادہ نہیںہے ،اس خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافے اور مزید بحری طاقت بھیجنے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، اس نے صورتحال کی حساسیت مزید بڑھا دی ہے، اس کو صرف امریکہ بمقابلہ ایران کے طور پر دیکھنا کافی نہیں ہو گا، اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ، عالمی توانائی کی منڈی اور پاکستان جیسے ہمسایہ ممالک تک پہنچ سکتے ہیں۔
اس لیے خطے کے ممالک کی کوشش ہے کہ جنگ کو روکا جائے اور کسی امن معاہدے پر پہنچا جائے ،ایران چاہتا ہے

کہ کسی بھی مذاکرات سے پہلے اسے مستقبل کے حملوں سے تحفظ، پابندیوں میں حقیقی نرمی اور معاہدے کی قابلِ اعتماد ضمانت ملے، جبکہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی پالیسی کے حوالے سے سخت شرائط چاہتا ہے ، یہ ہی بنیادی اختلاف مذاکرات کو مشکل بنا رہا ہے،لیکن فی الحال دونوں ہی کی جانب سے راستے کھلے ہیں،ایک طرف امریکی فوجی تیاری بڑھ رہی ہے تودوسری طرف سفارتی رابطے بھی جاری ہیں، ایران بھی ایک طرف جوابی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے تو دوسری طرف مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کر رہا ہے

،اگر اس دوران واشنگٹن اور تہران اعتماد سازی، جنگ بندی، پابندیوں، آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام پر مرحلہ وار سمجھوتے تک پہنچ جاتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے، لیکن اگر دونوں فریق اپنی شرائط سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے پر تیار نہ ہوئے تو موجودہ سفارتی بحران دوبارہ وسیع فوجی تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *