کوہاٹ پولیس لائنز پر حملہ ، سکیورٹی نظام پر بڑا سوال !
خیبر پختونخوا ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے ایک ایسے المناک حملے کی زد میں ہے کہ جس نے نہ صرف کئی خاندانوں کے چراغ بجھا دیے ،بلکہ ریاستی سکیورٹی نظام کے سامنے بھی انتہائی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں،18 ستمبر 2026 کو کوہاٹ کی اولڈ پولیس لائنز میں مسجد کو نشانہ بنانے والے حملے میں کم از کم 21 افراد جاں بحق ہوئے کہ جن میں 15 پولیس اہلکار شامل تھے، جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ،پولیس اور صحت حکام کے مطابق حملہ ایک دھماکے تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس کے بعد مسلح دہشت گردوں نے پولیس کمپاؤنڈ میں داخل ہو کر حملہ جاری رکھاتھا۔
یہ ہی پہلو اس واقعے کو ایک عام دہشت گرد حملے سے مختلف بناتا ہے،اس واقعہ کی دستیاب اطلاعات کے مطابق بارود سے بھری گاڑی کو پولیس لائنز کے اندر موجود مسجد کے قریب لے جایا گیا اور دھماکے کے بعد متعدد مسلح حملہ آوروں نے کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی، پولیس کے مطابق سات حملہ آور اس کارروائی میں شامل تھے اور سکیورٹی آپریشن کے دوران انہیں ہلاک کیا گیاہے ، اس طرح حملہ ایک واضح دو مرحلوں پر مشتمل کارروائی دکھائی دیتا ہے ،پہلے مر حلے میں دھماکے کے ذریعے زیادہ سے زیادہ جانی نقصان اور افراتفری پیدا کرنا اور اس کے فوراً بعد فائرنگ اور داخلے کی کوشش کے ذریعے سکیورٹی فورسز کو براہِ راست نشانہ بناناہے۔
اس حملے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے
کہ ہدف کوئی عام بازار، سڑک یا عوامی مقام نہیں، بلکہ پولیس لائنز تھی، پولیس لائنز ایک حساس سکیورٹی تنصیب ہوتی ہے کہ جہاں پولیس اہلکار، افسران اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق اہلکار موجود ہوتے ہیں، اس کمپاؤنڈ میں کاؤنٹر ٹیررازم سے متعلق یونٹس بھی موجود تھے ،اس لیے یہ سوال اپنی جگہ انتہائی اہم ہے کہ حملہ آوروں نے اس مقام کا انتخاب کیوں کیا اور انہیں وہاں کی داخلی ترتیب، معمولات یا سکیورٹی انتظامات کے بارے میں کتنی معلومات حاصل تھیںاور کس نے فراہم کی ہیں ، کیا ادارے کے اندر کوئی سہو لت کار مو جود ہے؟
اس واقعے کا ایک اور تشویش ناک پہلو اس کا وقت ہے،یہ دہشت گرد حملہ جمعے کی نماز کے دوران ہوا، جب مسجد میں پولیس اہلکاروں اور دیگر افراد کی بڑی تعداد موجود تھی، یہی وجہ ہے کہ ایک محدود مقام پر ہونے والی کارروائی بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا سبب بنی، ابتدائی طبی رپورٹ کے مطابق زخمیوں میں پولیس اہلکاروں کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی ،دستیاب اعداد کے مطابق 103 زخمی افراد کو دو بڑے اسپتالوں میں منتقل کیا گیاکہ جن میں 73 پولیس اہلکار اور 30 شہری شامل تھے۔
یہ صورتحال اب ایک بنیادی سوال پیدا کرتی ہے کہ کیا حساس پولیس تنصیبات میں نماز، اجتماع اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران سکیورٹی پروٹوکول کافی مؤثر ہیں؟ اگر ایک بارود سے بھری گاڑی حساس کمپاؤنڈ کے قریب پہنچ سکتی ہے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ اسے پہلے مرحلے میں کس حفاظتی حصار پر روکا جانا چاہیے تھا،کیا داخلی راستوں پر گاڑیوں کی مؤثر اسکریننگ موجود تھی؟ کیا باؤنڈری کے گرد نگرانی کا جدید نظام کام کر رہا تھا؟ کیا مشتبہ نقل و حرکت کے بارے میں کوئی پیشگی انٹیلی جنس موجود تھی؟ اور اگر تھی تو اسے مقامی پولیس تک بروقت کیوں نہیں پہنچایا گیا؟اگر نہیں تو کیوں نہیں تھی ،اس بارے جانناضروری ہے۔
یہ سوال کسی ایک ادارے کو موردِ الزام ٹھہرانے کے لیے نہیں ہے، بلکہ مستقبل میں ایسے حملوں کو روکنے کے لیے ضروری ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صرف حملہ آوروں کو ہلاک کر دینا کافی نہیں ہوتا؛ اصل کامیابی اس وقت ہوتی ہے کہ جب حملہ آوروں کے پورے نیٹ ورک، سہولت کاروں، مالی ذرائع، نقل و حرکت، رابطہ کاری اور مقامی مددگاروں تک پہنچا جائے،اس ملک میں جب تک دہشت گردوں کے سہولت کار موجود ہیں ، دہشت گردی پر قابو پانا اور اس کاسد باب کرنا ناممکن ہے۔
یہ کو ہاٹ میں دہشت گردی کا کوئی پہلا حملہ نہیں ہے ،اس سے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں ،یہ تاریخی تسلسل ایک اہم سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر ماضی میں ایسے مقامات کو نشانہ بنایا جاچکا ہے تو کیا ان مقامات کے حفاظتی نظام کا وقتاً فوقتاً جامع آڈٹ کیا گیا؟ کیا دہشت گردوں کے بدلتے ہوئے طریق? واردات کے مطابق سکیورٹی حکمتِ عملی بھی تبدیل ہوئی؟ کیونکہ دہشت گردی کا خطرہ جامد نہیں ہوتا، اگر دہشت گرد خودکش گاڑی، فائرنگ، باؤنڈری توڑنے اور ایک ہی وقت میں متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی اختیار کر رہے ہیں تو سکیورٹی نظام کو بھی اسی سطح کی کثیرالجہتی تیاری درکار ہے۔
اس حملے کے بعد سب سے اہم ضرورت خیبر پختونخوا کی تمام حساس پولیس تنصیبات کا ازسرِنو سکیورٹی آڈٹ ہے، پولیس لائنز، تھانے، سی ٹی ڈی مراکز، پولیس رہائشی کالونیاں اور دیگر حساس مقامات کے گرد حفاظتی حصار، داخلی راستوں، گاڑیوں کی چیکنگ، سی سی ٹی وی نگرانی، باؤنڈری سکیورٹی، ایمرجنسی رسپانس اور انٹیلی جنس شیٔرنگ کا جائزہ لیا جانا چاہیے اور پتہ لگایا جانا چاہئے کہ دہشت گرد پولیس لائنز تک پہنچے کیسے؟ اگر اس سوال کا مکمل اور شفاف جواب مل گیا تو کوہاٹ حملہ صرف ایک سانحہ نہیں رہے گا ،بلکہ مستقبل کی سکیورٹی پالیسی کے لیے ایک اہم سبق بن سکتا ہے
،لیکن اگر تفتیش صرف حملہ آوروں کی ہلاکت پر ختم ہوگئی اور ان کے سہولت کار، منصوبہ ساز اور نیٹ ورک سامنے نہ آئے تو خطرہ اپنی جگہ برقرار رہے گا۔یہ کوہاٹ واقعہ ہمیں یبتا رہا ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ صرف طاقت سے نہیں ، بلکہ پیشگی انٹیلی جنس، مضبوط سکیورٹی، مؤثر تفتیش، اداروں کے باہمی رابطے اور دہشت گرد نیٹ ورک کی جڑ تک پہنچنے سے ہی کیا جاسکتا ہے،یہی اس سانحے کا سب سے بڑا سبق اور ریاستی اداروں کے لیے سب سے اہم امتحان ہے،اس امتحان میں سر خرو ہو کر ہی دہشت گردوں اور دہشت گردی کا سد باب کیا جاسکتا ہے اورخطے میں قیام امن لایا جاسکتا ہے۔