ان حقائق باوجود, قرآن کے حکم خداوندی سے، کیا انکار کیا جاتا رہیگا؟
ابن بھٹکلی
۔ +919448000010
ساڑھے تین ہزار سال قبل والے واقعہ فرعون کو،دیڑھ ہزار سال قبل،خاتم الانبیاء محمد مصطفیﷺپر اتارے گئے قرآن مجیدکے واسطے سے، تاقیامت تک آنے والی انسانیت کو بتایا گیا سبق آموز واقعہ فرعون غرق یابی اور اسکے جسد خاکی کو تاقیامت باقی رکھے جانے والا عبرت انگیز واقعہ قرآنی۔ کیا اب بھی آسمانی مذاہب یہود و ہنود و نصاری قرآن کی حقانیت کے منکر ہوتےپائے جائینگے؟
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزے سے بحرِ احمر (یا بحرِ قلزم) کا دو حصوں میں تقسیم ہونا، بنی اسرائیل کا وہاں سے بحفاظت نکلنا اور فرعون کا اپنے لشکر سمیت غرق ہونا، تاریخِ انسانی کا ایک عظیم ترین اور عبرت ناک واقعہ ہے۔مختلف اسلامی و تاریخی مآخذ اور تاریخی و فلکیاتی حسابات کے مطابق، یہ واقعہ تقریباً 13ویں سے 15ویں صدی قبل مسیح (1300 BC سے 1500 BC کے درمیان،آج سے ساڑھے تین ہزار سال قبل) وقوع پذیر ہوا تھا۔
مصر کا بادشاہ فرعون، رموسس 2 اپنی افواج کے ساتھ، حضرت موسی علیہ السلام اور بنو اسرائل کا پیچھا کرتے ہوئے، بحکم خدا، بحر الاحمر میں ڈوب کر مرجاتا ہے اور کچھ دنوں کے بعد، اسکی لاش ساحل سمندر پر پڑی ملتی ہے تب مصر کے حکمران، انہیں پورے شاہی اداب کے ساتھ نامعلوم جگہ پر دفن کردیتے ہیں.
فراعین مصر کی ممیوں کے ساتھ دفن کروڑہا کروڑ کے خزانوں کی تلاش کرتے مصر کے فرعون رموسس 2 کا تابوت1889 دریافت کیا گیا تھا اور مصر کے عجائب گھر میں رکھا گیا تھا۔ اور 1970 میں جب مصری حکومت اوراثار قدیمہ کے نگہبانوں نے،رموسس 2 کے جسد خاکی کو سڑنے سے بچانے کے لئے، اور اسکے انتقال کا سبب جاننے کے لئے، فرانس کے سائینس دانوں کی خدمات حاصل کیں تو،اس وقت رموسس2 کے جسد خاکی کو باقاعدہ جدت پسند پاسپورٹ بنوا، فرانس لیجا، تحقیق کی گئی۔
تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر مورس نے جدت پسند سائینسی آلات کی مدد سے رموسس 2 کے جسد خاکی پر موجود کھارے پانی کے ذرات کو پاتے ہوئے،ساڑھے تین ہزار سال قبل، رموسس 2 کے سمندرمیں ڈوب کر مرنے کی اصل وجہ دنیا کے سامنے لائی تھی۔ تحقیقاتی ٹیم میں موجود مصری سائینس دانوں نے قرآن مجید کے واسطے سے، اللہ رب العزت کے، فرعون مصر رموسس کے بحر احمر میں ڈوب کے مارے جاتے اور تاقیامت آنے والی نسل انسانی کو، فرعوں کی رعونیت باوجود،اسکی بے بسی والی موت کے بارے میں باخبر رکھنے والی قرآنی آیت نمبر 92 سورة یونس کے بارے میں ڈاکٹر مورس کو بتایا گیا تو پہلے تو وہ ششدر رہ گئے اور پھر انہوں نے،قرآن کریم کا مطالعہ کئے، شان خدائی خالق کائینات کی جلالیت کے آگے سرتسلیم خم کئے، خود حلقہ بگوش اسلام ہوگئے تھے
“فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً ۚ وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ” 10سورۃ یونس آیت 92
“تو آج ہم تیرے بدن کو (دریا سے) محفوظ نکال لیں گے تاکہ تو اپنے بعد آنے والوں کے لیے عبرت کا نشان بن جائے، اور بیشک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔”