سعودی عرب پر تابڑ توڑ حملے

سعودی عرب پر تابڑ توڑ حملے

سعودی عرب پر تابڑ توڑ حملے
اور حرمین شریفین کے تقدس کی پامالی
تحریر شیخ الحدیث مولانا زبیراحمد صدیقیؔ
مدیر جامعہ فاروقیہ شجاع آباد
ناظم وفاق المدارس العربیہ پاکستان پنجاب
امریکہ اسرائیل اتحاد کی جانب سے ایران کے خلاف مؤرخہ28فروری2026ء سے شروع کی گئی جنگ میں نہ تو ایران کو فتح کیا جاسکا اور نہ ہی ایران نے اسرائیل اور امریکہ کو قابل ذکر نقصان پہنچایا، البتہ ایران نے اسرائیل سے زیادہ عرب ممالک پر حملے ضرور کیے تھے، ان حملوں سے متعدد عرب ممالک کو ناقابل تلافی معاشی، عسکری نقصان اٹھانا پڑا، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران سبھی متحارب دھڑوں کی یہ سنجیدہ عملی کاوشیں رہیں کہ کسی طرح عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب کو جنگ میں گھسیٹا جائے،

سعودی حکمت عملی تحمل اور برداشت کی رہی، باوجود مسلسل حملوں کے سعودی عرب جواب دینے سے گریز کرتا رہا۔عجیب صورت حال اس وقت سامنے آئی جب ایک جانب تو یمن کے حوثی باغی اچانک جدید اسلحہ سے لیس ہوکر گوریلا جنگ سے نکل کر باقاعدہ جنگ کرتے ہوئے یمن کے متعدد شہروں کو فتح کر کے باب المندوب عالمی آبی گزرگاہ جو ایشیاء کو نہرِ سویز کے ذریعے یورپ سے ملاتی ہے، تک جاپہنچے، باب المندوب آبی گذرگاہ اور بندر گاہ ہے جو ابنائے ہرمز کی بندش کے بعد متبادل گذرگاہ کا کام دے رہی ہے،

نیز سعودی تیل بردار جہازوں کی بھی گزرگاہ ہے، حوثیوں نے ایک طرف باب المندب کی نگرانی شروع کی ہوئی ہے، تو دوسری جانب مؤرخہ 10 ستمبر 2026ء سے مدینہ منورہ کی جنوبی پائپ لائن اور ریاض پر عراق سے حملے کرکے پائپ لائنوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ان حملوں میں خطیر مالی نقصان کے ساتھ جانی نقصانات بھی ہوئے، پائپ لائن 1200کلو میٹر تک بند کر دی گئی اور ہنگامی اقدامات اٹھائے گئے۔

دوسری جانب مؤرخہ 15ستمبر2026ء یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے متعدد شہروں پر ایک ہی دن میںبیلسٹک میزائلوں اور ڈراؤنزسے حملے کیے، ان حملوں میں متعدد شہری زخمی، مکانات تباہ اور گاڑیاں متاثر ہوئیں،خمیس مشیط اور الطائف حملوں سے بطور خاص متاثر ہوئے، اسی شام بدبخت حوثیوں نے ارض حرم ، مقدس سرزمین، مکۃ المکرمہ پر بھی ڈراؤن حملے کی کوشش کی، ڈراؤن فضاء میں حدود حرم میں داخل ہونےکو تھاکہ سعودی دفاعی نظام نے اسے50-6 پر ہی فضاء میں تباہ کر دیا،

طائف، ریاض اور دیگر شہروں پر بوقت تحریر حوثیوں کے حملے جار ہیں۔تاریخ میں کسی بھی ملک کی جانب سے سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ پر یہ پہلا حملہ تھا، مکہ مکرمہ ارض مقدس ہے، جس کے اطراف کو حق تعالیٰ سبحانہ نے حرم بنایا ہے، اس کی حرمت کا اعلان سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا تھا، اس میں جنگ و جدال، خونریزی حملے حرام ہیں،قرآن کریم میں واشگاف الفاظ میں مکہ مکرمہ کی حرمت و تقدس اور اس کے پرامن ہونے کا مضمون مذکور ہے، ملاحظہ ہو:
مکہ مکرمہ مقام امن:
وَإِذْ جَعَلْنَا ٱلْبَيْتَ مَثَابَةًۭ لِّلنَّاسِ وَأَمْنًۭا وَٱتَّخِذُوا۟ مِن مَّقَامِ إِبْرَٰهِـۧمَ مُصَلًّۭى ۖ وَعَهِدْنَآ إِلَىٰٓ إِبْرَٰهِـۧمَ وَإِسْمَـٰعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِىَ لِلطَّآئِفِينَ وَٱلْعَـٰكِفِينَ وَٱلرُّكَّعِ ٱلسُّجُودِ (البقرۃ:١٢٥)
ترجمہ:اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ایسی جگہ بنایا جس کی طرف وہ لوٹ لوٹ کر جائیں اور جو سراپا امن ہو۔ اور تم مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو۔ اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو یہ تاکید کی کہ : تم دونوں میرے گھر کو ان لوگوں کے لیے پاک کرو جو (یہاں) طواف کریں اور اعتکاف میں بیٹھیں اور رکوع اور سجدہ بجا لائیں۔
دعا حضرت ابراہیم علیہ السلام:
وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ-قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ(البقرۃ:126)
ترجمہ:اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ابراہیم نے کہا تھا کہ : اے میرے پروردگار ! اس کو ایک پر امن شہر بنا دیجیے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائیں انہیں قسم قسم کے پھلوں سے رزق عطا فرمایے۔ اللہ نے کہا : اور جو کفر اختیار کرے گا اس کو بھی میں کچھ عرصے کے لیے لطف اٹھانے کا موقع دوں گا، (مگر) پھر اسے دوزخ کے عذاب کی طرف کھینچ لے جاؤں گا۔ اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔
پہلا برکت بھر اگھر:
اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّ هُدًى لِّلْعٰلَمِیْنَۚ (آل عمران:96)
ترجمہ:حقیقت یہ ہے کہ سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لیے بنایا گیا یقینی طور پر وہ ہے جو مکہ میں واقع ہے (اور) بنانے کے وقت ہی سے برکتوں والا اور دنیا جہان کے لوگوں کے لیے ہدایت کا سامان ہے۔
بیت اللہ میں داخل ہونے والا امن میں ہے:
فِیْهِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰهِیْمَ ﳛ وَ مَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا-وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًا-وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ(آل عمران:97)
ترجمہ: اس میں روشن نشانیاں ہیں، مقام ابراہیم ہے، اور جو اس میں داخل ہوتا ہے امن پا جاتا ہے۔ اور لوگوں میں سے جو لوگ اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں ان پر اللہ کے لیے اس گھر کا حج کرنا فرض ہے، اور اگر کوئی انکار کرے تو اللہ دنیا جہان کے تمام لوگوں سے بےنیاز ہے۔
کعبہ قیام کائنات کا ذریعہ:
جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ الْهَدْیَ وَ الْقَلَآىٕدَؕ-ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(المائدۃ:97)
ترجمہ:اللہ نے کعبے کو جو بڑی حرمت والا گھر ہے لوگوں کے لیے قیام امن کا ذریعہ بنا دیا ہے، نیز حرمت والے مہینے، نذرانے کے جانوروں اور ان کے گلے میں پڑے ہوئے پٹوں کو بھی (امن کا ذریعہ بنایا ہے) ۔ یہ سب اس لیے تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ اسے خوب جانتا ہے، اور اللہ ہر بات سے پوری طرح باخبر ہے۔
حرم میں شکار کی حرمت:
یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ-وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْیًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِهٖ-عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ-وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ(95) اُحِلَّ لَكُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِلسَّیَّارَةِۚ-وَ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ(المائدۃ:96)
ترجمہ:اے ایمان والو ! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو کسی شکار کو قتل نہ کرو۔ اور اگر تم میں سے کوئی اسے جان بوجھ کر قتل کردے تو اس کا بدلہ دینا واجب ہوگا (جس کا طریقہ یہ ہوگا کہ) جو جانور اس نے قتل کیا ہے

، اس جانور کے برابر چوپایوں میں سے کسی جانور کو جس کا فیصلہ تم میں سے دو دیانت دار تجربہ کار آدمی کریں گے، کعبہ پہنچا کر قربان کیا جائے، یا (اس کی قیمت کا) کفارہ مسکینوں کا کھانا کھلا کر ادا کیا جائے، یا اس کے برابر روزے رکھے جائیں، تاکہ وہ شخص اپنے کیے کا بدلہ چکھے۔ پہلے جو کچھ ہوچکا اللہ نے اسے معاف کردیا، اور جو شخص دوبارہ ایسا کرے گا تو اللہ اس سے بدلہ لے گا، اور اللہ اقتدار اور انتظام کا مالک ہے۔ تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کردیا گیا ہے، تاکہ وہ تمہارے لیے اور قافلوں کے لیے فائدہ اٹھانے کا ذریعہ بنے، لیکن جب تک تم حالت احرام میں ہو تم پر خشکی کا شکار حرام کردیا گیا ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کی طرف تم سب کو جمع کر کے لے جایا جائے گا۔
حدود حرم اورمسجد حرام میں مشرکین پر پابندی:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَاۚ-وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(التوبہ:28)
ترجمہ:اے ایمان والو ! مشرک لوگ تو سراپا ناپاکی ہیں، لہذا وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ آنے پائیں، اور (مسلمانو) اگر تم کو مفلسی کا اندیشہ ہو تو اگر اللہ چاہے گا تو تمہیں اپنے فضل سے ( مشرکین سے) بےنیاز کردے گا۔ بیشک اللہ کا علم بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل۔
مسجد حرام سے روکنے کا گناہ:
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ نِ الْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِ-وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ(الحج:25)
ترجمہ:بیشک وہ لوگ (سزا کے لائق ہیں) جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے اور جو دوسروں کو اللہ کے راستے سے اور اس مسجد حرام سے روکتے ہیں جسے ہم نے لوگوں کے لیے ایسا بنایا ہے کہ اس میں وہاں کے باشندے اور باہر سے آنے والے سب برابر ہیں۔ اور جو کوئی شخص اس میں ظلم کر کے ٹیڑھی راہ نکالے گا، ہم اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
مکہ مکرمہ امن اور رزق والا شہر:
وَ قَالُـوْۤا اِنْ نَّتَّبِـعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَاؕ-اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(القصص:57)
ترجمہ: اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ : اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں گے تو ہمیں اپنی زمین سے کوئی اچک کرلے جائے گا۔ بھلا کیا ہم نے ان کو اس حرم میں جگہ نہیں دے رکھی جو اتنا پر امن ہے کہ ہر قسم کے پھل اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں، جو خاص ہماری طرف سے دیا ہوا رزق ہے ؟ لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔
حرم مرجع خلائق:
اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ-اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ(العنکبوت:67)
ترجمہ:بھلا کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے (ان کے شہر کو) ایک پرامن حرم بنا دیا ہے، جبکہ ان کے اردگرد لوگوں کا حال یہ ہے کہ انہیں اچک لیا جاتا ہے۔ کیا پھر بھی یہ باطل پر ایمان لاتے ہیں، اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں ؟
مکہ مکرمہ میں خونریزی سے رکنا:
وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا(الفتح:24)
ترجمہ:اور وہی اللہ ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھوں کو تم تک پہنچنے سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان تک پہنچنے سے روک دیا، جبکہ وہ تمہیں ان پر قابو دے چکا تھا، اور جو کچھ تم کر رہے تھے اللہ اسے دیکھ رہا تھا۔
امن کے ساتھ داخلہ:
لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّۚ-لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَۙ-مُحَلِّقِیْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَۙ-لَا تَخَافُوْنَ-فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِیْبًا(الفتح:27)
ترجمہ:حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا ہے جو واقعے کے بالکل مطابق ہے۔ تم لوگ انشاء اللہ ضرور مسجد حرام میں اس طرح امن وامان کے ساتھ داخل ہوگے کہ تم (میں سے کچھ) نے اپنے سروں کو بےخوف و خطر منڈوایا ہوگا اور (کچھ نے) بال تراشے ہوں گے۔ اللہ وہ باتیں جانتا ہے جو تمہیں معلوم نہیں ہیں۔ چنانچہ اس نے وہ خواب پورا ہونے سے پہلے ایک قریبی فتح طے کردی ہے۔
لشکرابائیل برائے حفاظت مکہ:
اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِﭤ(1) اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ (2) وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ (3) تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ (4) فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠(الفیل:5)
ترجمہ: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیسا معاملہ کیا ؟ کیا اس نے ان لوگوں کی ساری چالیں بیکار نہیں کردی تھیں ؟اور ان پر غول کے غول پرندے چھوڑ دیے تھے۔جو ان پر پکی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے۔چنانچہ انہیں ایسا کر ڈالا جیسے کھایا ہوا بھوسا۔
حرم ذریعہ زرق و امن:
لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ (1) اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِۚ (2) فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ (3) الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْ عٍ ﳔ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠ (القریش:4)
ترجمہ:چونکہ قریش کے لوگ عادی ہیں۔یعنی وہ سردی اور گرمی کے موسموں میں (یمن اور شام کے) سفر کرنے کے عادی ہیں۔ اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ اس گھر کے مالک کی عبادت کریں۔جس نے بھوک کی حالت میں انہیں کھانے کو دیا، اور بدامنی سے انہیں محفوظ رکھا۔
مکہ مکرمہ کے رب کی عبادت:
اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَیْءٍ٘-وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَۙ (النمل:91)
ترجمہ:(اے پیغمبر ! ان سے کہہ دو کہ 🙂 مجھے تو یہی حکم ملا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں جس نے اس شہر کو حرمت بخشی ہے، اور ہر چیز کا مالک وہی ہے، اور مجھے یہ حکم ملا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں شامل رہوں۔
مکہ مکرمہ کی قسم:
لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ (1) وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ (البلد:2)
ترجمہ:میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی۔جبکہ (اے پیغمبر) تم اس شہر میں مقیم ہو۔
احادیث مبارکہ میں بھی اس شہر کی حرمت، مقدس اور امن پر بیسیوں احادیث مذکور ہیں:
بہترین زمین:
1)…عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ ابْنِ حَمْرَاءَ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عَلَى الْحَزْوَرَةِ , فَقَالَ: ” وَاللَّهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ “. (سنن الترمذی: 3925)
عبداللہ بن عدی بن حمراء زہری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو”حزوراء“ (چھوٹا ٹیلہ) پر کھڑے دیکھا، آپ نے فرمایا: ”قسم اللہ کی! بلاشبہ تو اللہ کی سر زمین میں سب سے بہتر ہے اور اللہ کی زمینوں میں اللہ کے نزدیک سب سے محبوب سر زمین ہے، اگر مجھے تجھ سے نہ نکالا جاتا تو میں نہ نکلتا“ ۔
مکہ مکرمہ کی حرمت کی پامالی پر امت کی ہلاکت کا اندیشہ:
2)…عَنْ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ” لَا تَزَالُ هَذِهِ الْأُمَّةُ بِخَيْرٍ مَا عَظَّمُوا هَذِهِ الْحُرْمَةَ حَقَّ تَعْظِيمِهَا، فَإِذَا تَرَكُوهَا وَضَيَّعُوهَا هَلَكُوا” [مسند احمد: 19049]
حضرت عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے یہ امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک اس حرمت کی تعظیم کا حق ادا کرتی رہے گی جب وہ (بیت اللہ کی) اس حرمت کو چھوڑ دے گی اور اسے ضائع کر دے گی تو ہلاک ہوجائے گی۔
صرف تین مساجد کی جانب ہی عبادت کے لیے سفر کرو:
3)…عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ، مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى (سنن الترمذی:326)
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین مساجد کے سوا کسی اور جگہ کے لیے سفر نہ کیا جائے، ۱- مسجد الحرام کے لیے، ۲- میری اس مسجد (مسجد نبوی) کے لیے، ۳- مسجد الاقصیٰ کے لیے“ ۔
دجال مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہوسکے گا:
4)…عَنْ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” لَيْسَ مِنْ بَلَدٍ إِلَّا سَيَطَؤُهُ الدَّجَّالُ إِلَّا مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ، وَلَيْسَ نَقْبٌ مِنْ أَنْقَابِهَا إِلَّا عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ صَافِّينَ تَحْرُسُهَا، فَيَنْزِلُ بِالسِّبْخَةِ، فَتَرْجُفُ الْمَدِينَةُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ يَخْرُجُ إِلَيْهِ مِنْهَا كُلُّ كَافِرٍ وَمُنَافِقٍ”[صحیح مسلم: 7390]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکہ اور مدینہ کے علاوہ کوئی شہر نہیں مگر دجال اسے روندے گا۔ ان (دو شہروں) کے راستوں میں سے ہر راستے پر فرشتے صف باندھتے ہوئے پہرہ دے رہے ہوں گے، پھر وہ ایک شوریلی زمین میں اترے گا۔ اس وقت مدینہ تین بار لرزے گا اور ہر کافر اور منافق اس میں سے نکل کر اس (دجال) کے پاس چلا جائے گا۔“
شہرِ مکہ: جہاں پرندے بھی خود کو محفوظ سمجھتے ہیں:
5)…عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:” إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ، فَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا، إِلَّا لِمُعَرِّفٍ” [صحیح بخاری: 1833]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:بے شک اللہ تعالیٰ نے مکہ کو محترم (حرام) ٹھہرایا ہے، یہ نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہوگا۔ میرے لیے بھی اسے دن کی ایک گھڑی (فتح مکہ کے دن) کے لیے حلال کیا گیا تھا؛ (لہٰذا اب) اس کی گھاس نہ اکھاڑی جائے، اس کے درخت نہ کاٹے جائیں، اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے، اور وہاں گری ہوئی چیز کو کوئی نہ اٹھائے سوائے اس شخص کے جو اس کا اعلان (مالک کی تلاش) کرنا چاہتا ہو۔
سرکارِ دو عالم ﷺ کا پیغامِ امن: مکہ کی حرمت کل بھی تھی اور آج بھی ہے:
6)…قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ:”إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا، وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، فَقُولُوا لَهُ: إِنَّ اللهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ، وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ، وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ” (رواه مسلم: 1354)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:بے شک مکہ کو اللہ نے محترم اور مقدس بنایا ہے، انسانوں نے اسے محترم نہیں بنایا۔ لہٰذا، جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ مکہ میں خون ریزی (لڑائی) کرے، اور نہ ہی وہاں کا کوئی درخت کاٹے۔ اگر کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کے وہاں (فتح مکہ کے دن) قتال کرنے کو اپنے لیے دلیل بنائے (کہ جب آپ نے لڑائی کی تو ہم کیوں نہیں کر سکتے)، تو اس سے کہہ دو: ‘بے شک اللہ نے اپنے رسول کو (ایک عارضی وقت کے لیے) اجازت دی تھی، تمہیں اجازت نہیں دی اور مجھے بھی صرف دن کی ایک گھڑی کے لیے اجازت دی گئی تھی، اور آج اس کی حرمت ویسی ہی لوٹ آئی ہے جیسی کل تھی۔ اور جو یہاں موجود ہے، وہ یہ بات اس تک پہنچا دے جو یہاں موجود نہیں ہے۔
الحاصل ان بدبخت حوثیوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حرمت و تقدس کا بھی خیال نہ کیا، آمدہ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے اس مشکل وقت میں امریکہ نے بھی حوثیوں کے خلاف کاروائی سے کھل کر انکار کر دیا ہے، بلکہ واقفان حال جانتے ہیں کہ حوثیوں کے پاس جدید ترین اسلحہ اور ٹیکنا لوجی کہاں سے آرہے ہیں؟ اطلاعات ہیں کہ حوثیوں کے پاس اتنا جدید اسلحہ ہے کہ ایسا اسلحہ ایران کے پاس بھی نہیں۔
اس قضیہ میں یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ سعودی عرب کے خلاف نام نہاد متحارب گروپ، ایران ،ایرانی پروردہ حوثی، ایرانی حمایت یافتہ عراقی کمانڈر، پاکستان اور دنیا بھر میں ایرانی آلہ کار، امریکہ، اسرائیل سب اکھٹے ہوچکے ہیں اور یہ سب باہمی جنگ جھوڑ کر سعودی عرب کے خلاف صف آراء ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر کسی قسم کا کوئی حملہ نہیں ہورہا،حزب اللہ اور لبنان کی بھی اسرائیل سے صلح ہوچکی، امریکہ بہادر حوثیوں کے ذریعہ سعودی عرب کو ابراھام اکارڈ پر دستخط کرنے اور اسرائیل کو تسلیم کرانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔میڈیا میں حوثیوں اور امریکیوں کی عمان میں خفیہ ملاقات اور امریکہ پر حملےنہ کرنے کی یقین دہانیوں کی غیر مصدقہ اطلاعات بھی آرہی ہیں
ان حالات میں اس شبہ کو تقویت مل رہی ہے کہ ایران امریکہ جنگ محض ایک دکھاؤا ہے، مقصد عالم عرب کو تباہ کرنا اور سعودی عرب بالخصوص حرمین شریفین پر قبضہ کرنا ہے، ماضی میں بھی عراق میں صدام حکومت کے خاتمہ اورعراق میں مخصوص فرقہ کو اقتدار میں لانے کے لیے امریکہ ایران اتحادی رہے، آج بھی درپردہ دونوں یکجانظر آرہے ہیں۔
ایسے میں امت مسلمہ سخت اضطراب کا شکار ہے، امت کو حرمین شریفین سے جذباتی محبت ہے، وہ اپنا سب کچھ اللہ اور اس کے رسول کے حرم پر قربان کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں، خدائی نظام بھی حرمین شریفین پر حملہ آوروں کوابرہہ کی طرح نیست و نابود کردیا کرتا ہے، لہٰذا امت بیدار رہے اور ابرہہ کے وارثین کی چالوں پر نظر رکھے، ان شاء اللہ فتح حق کی ہوگی۔
پاکستان نے بھی دو ٹوک اعلان کر دیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ ہے اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے آخری حدتک جائے گا، یہی وقت کا تقاضا ہے ، بلاشبہ سعودی عرب مقدس مقامات، کعبۃ اللہ، روضہ رسول اللہ ﷺ اور مسجد نبوی شریف کی خدمت کے ساتھ خادم الحجاج و المعتمرین بھی ہے، نیز امت مسلمہ کا خادم بھی ہے،پاکستان کا محسن اور ہربرے وقت میں پاکستان کی مدد کرنے والا بھی ہے۔
آج بھی پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر سعودی عرب کی بدولت ہیں،گرتی معیشت کو سہارا دینے میں سعودی عرب کا تعاون شامل ہے،پاکستان کی ایندھن کی ضروریات کو سعودی عرب ادھار پر پورا کر رہا ہے، اس کے باوجود پاکستان میں رہنے والے بعض طبقات کی سعودی مخالفت، حوثیوں، ایرانیوں اور امریکہ کی حمایت نمک حرامی کے علاوہ اسے کیا نام دیا جاسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ حرمین شریفین کو اس مکرو فریب اور دشمنوں کی چالوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *