جس کے ساتھ جہاد اعظم ضروری، وہ اصل دشمن، کون؟
ابن بھٹکلی
۔ +9448000010
“اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ تم میں سے جو کوئی بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بے شک انہی میں سے ہے ، ظالموں کو اللہ تعالٰی ہرگز راہ راست نہیں دکھاتا۔” سورہ مائدہ آیت ۵۱تاجدار مدنی حضرت محمدﷺ جب نبی آخر الزماں کے مسند تبریک پر براجمان کئےگئے تھے، اس وقت سب سے پہلے امہات المومنین حضرت خدیجہ الکبری رضى عنہ نے انہیں مکہ کے ایک بڑے بزرگ یہودی راہب کے پاس جا، سب کچھ بتانے کے بعد، یہودی راہب نے علامات و نشانیوں کودیکھ آپ ﷺ کے نبی آخر الزماں مقرر کئے جانے کی تصدیق کرنے کے باوجود، آپﷺ پر ایمان لانے کے بجائے، مشرکین مکہ کو بھڑکا ورغلاکر آپﷺکی مخالفت شروع کی تھی۔
اور مدنی زندگی میں بھی، یہودیوں کی مکرر سازشانہ حرکتوں کے منظر عام آنے کے بعد، اللہ رب العزت کی طرف سےآسمانی حکم نامہ قرآن مجید کے ذریع اتاری گئی آیات قرآنی سے ، تا قیامت آنے والے تمام مسلمان، یہود (ہنود) و نصاری سے دوستی نہ کرنے کی ہدایت ہی نہیں، صاف صاف خبردار کئے جانے انتباہی پیغام کہ “جو کوئی، اللہ کے حکم کے خلاف، یہود (ہنود) و نصاری کے ساتھ دوستی کرے گا، یقینا” وہ انہی﴿یہود (ہنود) و نصاری﴾ میں سے ہوگا”۔ آخر پھر کیا سبب، ہم مسلمان اپنے مومن (حؤثی و ایرانی) بھائیوں کے خلاف جاتے ہوئے،یہود و نصاری، سے قربت اختیار کرتے ہیں ،
بلکہ ان پر، اپنےایمانی شیعی بھائیوں کے مقابلہ زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ ایسے شاہان عرب پر ہم کیوں اور کیسے بھروسہ کر سکتے ہیں؟ کیا وہ صرف حرمین شریفین کے والی ہونے کے ناطے ہم انکی، ہر باتوں پر آمنا و صدقنا کرنے مجبور لگتے ہیں؟ اس کا کیا مطلب لیا جائے؟ کہ قبلہ اول بیت المقدس پر زبردستی قابض اسرائیلی حکومت کی تابعداری کرنا بھی ہم مسلمانوں کے لئے کیاضروری قرار دیا جائیگا؟ مسلم حکمران، اپنی بادشاہت بچائے رکھنے کے لئے، ایک حد تک کئے جانے والے، انکے غلط اقدام چشم پوشی کی جاسکتی ہے، لیکن حکم خداوندی کے صریح خلاف اپنے ایمانی بھائی کی سرکوبی کے لئے، یہود و نصاری کی حربی امداد، لیا اور دیا جاتا ہر عمل،ہم خاموش تماشائی بن کیسے دیکھ سکتے ہیں؟
سابقہ پچاس سال دوران، عالمی یہود و نصاری اسلام دشمن سازش کنان، کی طرف سے، خود ساختہ دہشت گردانہ حملہ آوری، امریکی ٹوین ٹاور گرایا جاتا انکا اپنا عمل اور اسکا الزام القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن پر لادتے ہوئے، اسلامی ممالک افغانستان ، عراق، شام و لیبیاء پر، عرب شاہان حکمران کی ہمنوائی کے ساتھ،عالمی یہود و نصاری مشترکہ حربی قوت کے ساتھ حملہ آور ہوتے، کئی اسلامی ممالک تباہ کرتے، افغانستان عراق و شام و لیبیاء کے ساکنان کم وبیش ایک کروڑ مسلمانوں کو شہید کئے کروائے جاتے، ہزاروں لاکھوں باعزت باپردہ مسلم نساء کی عزت آبرو لوٹتے لٹواتے، عراق و شام لیبیاء کے پیٹرول زخائر پرناجائز قبضہ کرتے، سابقہ تیس چالیس سال تک، کیا امریکہ مستفید ہوتا نہیں آیا ہے ؟
ایران کی سابقہ منتخبہ عوامی حکومت معزول کرواتے، ایران پر یہود ونصاری کی طرف سے بٹھائے گئے شاہ ایران کی حکومت معزول کرنے مجبور کرتے، دوبارہ ایران پر قائم ہوئی1979 عوامی شیعہ حکومت کے خلاف، اپنے مہرے عرب شاہان کو سامنے کرتے، سابقہ 47 برس سے 5۔9کروڑ ایرانی عوام پر مقاطعہ تجارت عالم نازل کئے، یہود و نصاری کی طرف سے ڈھائے گئے ظلم و انبساط کے ذمہ دار کؤن ہیں؟ کیا اس کے لئے عرب شاہان ذمہ دار نہیں ہیں؟ اگر شیعہ ایران کے خلاف یہ عرب شاہان یہود و نصاری کے ساتھ ملکر ایران کو تباہ و برباد کرنے کی کوششوں میں ابھی تک مصروف و مگن پائے جاتے ہیں اور ایرانی تنبیہ کےخلاف، ایران کے خلاف یہود و نصاری اپنی امداد یہ عرب شاہان جاری رکھتے ہیں تو ، کیا شیعہ ایران کو، اپنے ساتھی حوثی کے ساتھ ملکر، عرب شاہان کوسبق سکھانے کا اختیار ایران کو، کیا نہیں ہے؟
2016 عرب امارات اور سعودیہ نے مل کریمن پرحملہ کرتے ہوئے، پورا یمن تاراج کرتے ہوئے, 30 فیصد یمنی آبادی پر مشتمل 60 فیصد ریگستانی سرزمین یمن پر ناجائز قبضہ کرتے ہوئے، اپنے یہود و نصاری اسلام دشمنان کی تائید و حمایت یافتہ اپنی حمایت کردہ سعودی نواز حکومت قائم کرتے ہوئے، 70 فیصد یمنی آبادی پر مشتمل 40 فی صد قطعہ ارض یمن پر قائم انصار اللہ(حوثی) حکومت کے خلاف، سابقہ دس برس سے، عالمی مقاطعہ تجارت کی زد میں رکھے، حوثی حکومتی علاقوں میں رہائش پزیر 70 فیصد یمنی آبادی کو بھوک مری کا شکار بنائے رکھنے کے باوجود، اور 2022 نصراللہ کے ساتھ جنگ بندی ایگریمنٹ باوجود، عالم اسلام دشمن یہود نصاری کے اشارہ پر، حالیہ اسرائیل ایران جنگ شہید ایرانی قیادت کے جنازہ شرکت واپس آتے،
حوثی اعلی قیادت کو شہید کرنے کی سعودیہ حکومت ناکام کوشش بعد، حوثی نصراللہ بمع سعودیہ تازہ جنگ، اور دونوں طرفہ انسانی جان و مال نقصان کی ذمہ داری، کیا سعودی حکومتی سربراہ ایم بی ایس پر ڈالی نہیں جائیگی؟ یا”مرغےکی ایک ہی ٹانگ” مقولہ مصداق، اس اسلامی ممالک تباہی و بربادی کی، تمام تر ذمہ داری بھی، صرف یمنی نصراللہ کے اوپر ہی ڈالی جائیگی؟ ایک طاقت ور ملک امریکہ کی طرف سے، عوامی جمہوری ایرانی حکومت، زبردستی تبدیل کئے جانے کی قابل سرزنش حرکت، اگر صحیح ٹہرائی جاسکتی ہے
تو، عرب و فارس قطعہ ارض علاقوں میں،آپسی مسلم اتفاق و ہم آہنگی کے خلاف،اپنے یہود و نصاری دوستانہ اشارہ پر، صدا مصروف عمل عرب شاہی حکومت کو،بزور حرب و جنگ، تبدیل کرنے کی نصراللہ و ایرانی کوشش پس منظر میں، ہم معتدل مسلمان آخر کیوں اپنا منفی رد عمل جگ ظاہرکرتے پھرتے ہیں؟ اگر حق رائے دہی ہی کا اظہار کرناضروری ہے تو، انصاف پر مبنی صحیح رائے دہی کی جانی چاہئیے۔ ورنہ ایک کونے میں خاموش تماشائی بن جو ہوتا ہے دیکھتے رہنا ہی بہتر ہے۔
عرب شاہان کی نصاری ملک یورپ و امریکہ کی تابع برداری، عام انسانیت کے پاس مخفی نہیں رہی ہے، لیکن ستر ہزار، بے قصور فلسطینی مرد ونساء و بچوں کی شہادت کے ذمہ دار، نازی ہٹلری اسرائیلی بنجامن نتنیاہو حکومت کے خلاف، یورپی مسیحی ممالک، جہاں عالمی سطح پرآواز اٹھانےمجبور ہوئے ہیں، وہیں،اسرائیل کی فلسطین پر تاریخ ساز سب سے بڑی وحشیانہ ہوائی بمباری تاراجی باوجود، اسرائیل کی زبانی سرزنش تک نہ کرسکنے والے مجبور عرب شاہان قیادت کی پھر ہم کیوں کر تائید باقی رکھیں؟ یاد رہے،کھلے اسرائیلی دشمن مقابلہ، خلاف حکم ربانی، درپردہ اسرائیل کے ساتھ دوستی رکھنے والے، منافقین مسلم قیادت صحیح معنی میں، اسلام دشمن یہودسے زیادہ امت مسلمہ کے لئے خطرناک ہیں۔
امت مسلمہ کا سب سے بڑا جگ ظاہر دشمن، حکومت یہود بنجامن نتنیاہو اور انسانیت دشمن رطب اللسان اسکے مسلم دشمن نفرتی اوزرا ہیں۔
پچاس برس قبل ہمارا ایک قومی بھائی ٹرک ڈرائیور حیثیت جرمنی سے لبنان گیاہوا تھا۔ ان ایام لبنان موجود،بھارت سمیت، دنیاکے بعض ممالک باشندوں کا، بغیر اسرائیلی ویزہ کے، صرف پاسپورٹ دکھا، اسرائیل میں داخل ہوئے، اسرائیل میں گھوم پھر واپس لبنان آسکتا تھا۔ وہ ہمارے جاننے والا ہم وطن بھائی اسرائیل گیا بھی نہیں تھا۔ چند سال بعد، جرمنی سےواپس بھارت آنے پر، بہتر معاش کے لئے، سعودی کی ویزہ اسٹامپ کئے، سعودیہ جانا چاہتا تھا۔ لیکن اس وقت سعودی ایمبیسی نے،اس بھائی کے پاسپورٹ پر، لبنان ایمیگریشن مہر رہنے کی وجہ، صرف اس شک کی بنیاد پر، کہ وہ بھائی، لبنان سے اسرائیل گیا ہوگا، صرف یہی تصور کرتے ہوئے، اسے سعودی کی ملازمت ویزہ دینے سے صاف انکار کردیا تھا۔
اسی نوی کے دہے دوران بھارت و پاکستان بنگلہ دیش کے تمام باشندگان کو جاری ہونے والے پاسپورٹ پر، اسرائیل سفر ممنوع قرار لکھا اسٹامپ لگا رہتا تھا۔ اور اگر کوئی ھند و پاک بنگلہ دیشی کے پاسپورٹ پر اسرائیل یا لبنان داخلےکا ایمیگریشن اسٹامپ رہتا تو، انہیں سعودیہ کی ملازمتی ویزہ لگانے سے صاف انکار کیا جاتا تھا۔ پچاس سال قبل اسرائیل کے لئے عرب حکمران، جہاں اتنا سخت موقف رکھتے پائے جاتے تھے، اب اسرائیل کی طرف،اتنا جھکاؤ یا نرمی شروع کئے جانے کا سبب کیا ہے؟ اسرائیل کے ساتھ دوستی کرنےسے روکنے والا قرآنی حکم،کیا تبدیل کیا جاچکا ہے؟ یا صرف امریکی غلامی میں، عرب شاہان، نہ صرف اسرائیلی حکومت کے ساتھ اپنا رویہ نرم کئے ہوئے ہیں؟ بلکہ اپنے ممالک دوبئی و سعودی نیؤن سٹی میں، اسلام دشمن اور قاتل فلسطین، نتن یاہو کو باقاعدہ دعوت دئیے بلا، انکی سرکاری سطح مہمان نوازی کئے جاتے،
اسرائیل کے ساتھ دوستی کرنے کی اپنی خواہش، اپنی بے چینی دکھاتے انہیں شرم محسوس نہیں ہوتی ہے۔ گذشتہ ماہ پہلی مرتبہ ہی نہیں، اس سے پہلے بھی، نتن یاہو، شیخ ابوظہبی کے مہمان بنے، نہ صرف عرب امارات آچکے تھے بالکہ ایم بی ایس کی دعوت پر، نتن یاہو اپنے ہوائی جہاز نیؤن سٹی ایرپورٹ پر لینڈ کئے، مستقبل کے سعودی بادشاہ، ایم بی ایس کے مہمان بھی رہ چکے ہیں۔
“لاکھ بات کی ایک بات” امت مسلمہ کے اصلی دشمن کون سے ممالک ہیں؟ یہود و نصاری یا شیعہ مسلکی ممالک ایران و یمن ہیں ؟ اپنے بعض اختلاف فیہ تفکرات باوجود، شیعہ مومن کیا واقعی مسلمان باقی رھتے ہیں؟ یا جمہور علماء حق کی طرف سے احمدی قادیانی فرقہ کو
“خارج الاسلام” قرار دئیے جیسا شیعہ فرقہ کو بھی خارج الاسلام کیا قرار دیا جاچکا ہے؟ یا مستقبل میں جمہور علماء حق کی طرف سے، شیعہ مسلمانوں کو، خارج الاسلام قرار دئیے جانے کا امکان بھی ہے؟
یا نہیں؟ ہزار حیلے بہانہ سے،اگر فلحال شیعہ مسلمانوں کو خارج الاسلام قرارنہیں دیا گیا ہے تو،شیعی مسلمان ابھی بھی ہمارے ایمانی مسلمان بھائی ہیں۔ ہزار تاویلات یا کسی اور سبب سبب سے، حکم خداوندی کے خلاف، ہم اپنے ایمانی شیعہ بھائی،یا شیعہ مسلمانوں کے خلاف، ترکیہ پاکستان سعودیہ حرب و جنگ صف بندی بالکیہ نہیں کرسکتے ہیں، چاہے تو مکہ المکرمہ نام سے عقد بند ہو یاکہ شہر مدینہ المنورہ، نام سے مسلم امہ کو راغب کرنے کی کوشش کرتا، دشمنان اسلام یہود و نصاری سازش کا حصہ عرب شاہان ہوں۔
یہاں اس بات کا اظہار ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہ وقوع پزیر، پاکستان و ترکیہ سعودیہ مکہ ایگریمنٹ،اسرائیلی سازش کے امریکی ٹرمپ ہی کے کہنےسے، ترکی و پاکستان کی معشیتی کمزوری کا غلط فائیدہ اٹھاتے ہوئے،انہیں بلیک میل کرتےہوئے، کیا گیا مکہ ایگریمنٹ ہے۔ 3 سال قبل، 7 اکتوبر حماس کی طرف سے اسرائیل پر کی گئی
یلغار، صرف اور صرف پاکستان سعودیہ کو، ابراھیم عقد بند ہونے سے باز رکھنے ہی کے لئے کھیلا گیا جوئےجیسا حربی عمل ہے۔ اس حملہ کی آڑ میں ہی، اسرائیل نازی حکومت کا ستر ہزار بے قصور فلسطینی مرد و نساء شہید کراتے عمل باوجود اور پورا غازہ علاقہ تہس نہس کئے جانے کےباوجود، کیا عرب شاہان میں سے، کسی نے بھی، اسرائیلی حکومت کے خلاف احتجاجی آواز اٹھانےکی ہمت بھی جٹائی تھی؟
کیا اس وقت دو وقت بپیٹ بھر کھانا کھانے تک سے محروم، غریب ملک یمن نے، فلسطینی مجاہدین کی طرف داری کرتے ہوئے، اسرائیل و امریکہ کے خلاف، میزائیل مارجہاد چھیڑتے ہوئے، امریکہ اسرائیل،مشرکہ افواج کو،شکشت فاش دیتے ہوئے، غازہ پر ہوتی اسرائیلی بمباری رکوا،فلسطینیوں کو ایک حد تک امان نہیں دلوایا تھا؟ کل تک فلسطین کے حق میں کھڑا، اسرائیل و امریکہ کے ساتھ میزائیل جنگ لڑتے ہوئے، عالمی طاقت امریکہ و اسرائیل کو جھکنے مجبور کرتا یمن، آج اچانک، سعودیہ خلاف، کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟
کیا اس کے لئے، سعودی حکمراں ہی،اسرائیل و امریکہ کے ساتھ، ساز باز کئے، مستقبل میں اسرائیل سے بھڑتی مسلم قوت یمن کو ختم کرنے والی عالمی یہود و نصاری سازش کا حصہ بنتا سعودی عرب ملک ، مسلم امہ عالم کے سامنے نہیں آرہا ہے؟ اگر اس بات میں صداقت نظر نہیں آتی پے تو، یمنی سنی و شیعہ مشترکہ جہادی دھڑے نصراللہ کو،شیعہ حوثی گروپ ثابت کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی تھی؟ اور حوثیوں نے حرمین شریفین پر میزائیل داغے، یہ بہتان تراشی کرتےہوئے، مسلم امہ کو دھوکے میں رکھے، حرمین شریفین پر حملہ آوری ہی کی وجہ سعودی افواج سے ہمدردی حصول کی ضرورت، سعودی حکومت کو آخر، کیوں کر ضروری محسوس ہوئی تھی؟
یہ صرف اور صرف سعودی حکمران کی مسلم امہ کو بے وقوف بنانے والی ہمدردی بٹورتی چال ہے۔ اللہ ہی مسلمانان عالم کو، مسلم امہ کے خلاف سازش کرتے، ہمارے اطراف موجود ظاہری دشمن اسلام، اور ہمارےدرمیان موجود، مسلم امہ عالم کا ایک حصہ بنے رہے، دشمن اسلام یہود و نصاری کی سازش عمل آوری کرتے اصل منافقین اسلام سے آمان رکھے. آمین۔یا رب العالمین۔
یہ انصار اللہ جہادی تنظیم کس بنیاد پر قایم ہے؟
ایرانی جہادی تنظیم انصار اللہ (جسے عام طور پر حوثی تحریک کہا جاتا ہے) بنیادی طور پر ایک زیدی شیعہ نظریاتی اور عسکری گروپ ہے، اس لئے تنظیمی اور نظریاتی طور پر اس میں سنی مسلمانوں کا کوئی مخصوص یا سرکاری تناسب (فیصد) موجود نہیں ہے۔
تاہم، اس گروپ کی صفوں اور حامیوں کے حوالے سے درج ذیل اہم حقائق قابل ذکر ہیں:-
نظریاتی بنیادیں:- انصار اللہ بنیادی طور پر یمن کے زیدی شیعہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی تحریک ہے۔ زیدی شیعہ “عقائد کے لحاظ سے فقهی طور پر سنیوں (خاص طور پر حنفی اور شافعی فقه) کے کافی قریب مانے جاتے ہیں”۔
سیاسی اور قبائلی اتحاد:- یمن پر کنٹرول حاصل کرنے اور اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لئے،انصار اللہ نے ملک کے شمالی اور وسطی علاقوں کے کئی سنی قبائل کے ساتھ اتحاد قائم کر رکھا ہے۔ ان قبائل کے بہت سے سنی جنگجو اور افراد حوثیوں کے ساتھ مل کر مختلف محاذوں پر لڑتے ہیں، لیکن ان کی شمولیت مذہبی عقیدے کی بنیاد پر نہیں، بلکہ سیاسی، قبائلی، یا حکومت اور بیرونی قوتوں (جیسے سعودی اتحاد) کی مخالفت کی بنیاد پر ہے۔
جغرافیائی تناسب:- یمن کی مجموعی آبادی میں تقریباً 60 سے 65 فیصد سنی (شافعی) مسلمان ہیں اور 35 سے 40 فیصد زیدی شیعہ ہیں۔ چونکہ انصار اللہ یمن کی 70 سے 80 فیصد آبادی پر حکومت کر رہی ہے، اس لئے ان کے زیرِ اثر علاقوں اور ملیشیا فورسز میں مقامی سنیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، لیکن گروپ کی بنیادی قیادت اور مذہبی نظریات پر مکمل کنٹرول صرف زیدی شیعہ حنفی شافعی مسلم رہنماؤں کا ہی ہے۔