36

دریا میں گھوڑے نہیں بدلے جاتے

دریا میں گھوڑے نہیں بدلے جاتے

(ابرہام لنکن کی کہاوت اور موجودہ عالمی نظام کی نفسیات)

تحریر: ایس ایم طیب

ابرہام لنکن کی مشہور کہاوت “دریا میں گھوڑے نہیں بدلے جاتے” محض ایک سیاسی جملہ نہیں بلکہ ریاستی فیصلوں، عالمی طاقتوں کے رویّوں اور بین الاقوامی نظام کی نفسیات کو سمجھنے کی ایک کلید ہے۔ اس کہاوت کا مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی قوم یا نظام کسی نازک مرحلے سے گزر رہا ہو تو اس دوران قیادت، پالیسی یا سمت میں اچانک تبدیلی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ یہی سوچ آج کے عالمی ماحول میں بھی واضح طور پر جھلکتی نظر آتی ہے۔
اکیسویں صدی کی دنیا بیک وقت کئی بحرانوں کی زد میں ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ نے عالمی طاقت کے توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے، مشرقِ وسطیٰ بدستور عدم استحکام کا شکار ہے، چین اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹیجک کشمکش شدت اختیار کر چکی ہے، عالمی معیشت دباؤ میں ہے اور موسمیاتی تبدیلی ایک خاموش مگر مسلسل بڑھتا ہوا خطرہ بن چکی ہے۔ ایسے حالات میں عالمی برادری کا مجموعی رویہ یہی دکھائی دیتا ہے کہ استحکام کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے، چاہے اس کے لیے مشکل سوالات کو وقتی طور پر مؤخر ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
بین الاقوامی سیاست میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ طاقتور ممالک بحران کے دوران “کم نقصان” کی حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں۔ یعنی وہ کسی ایسے تجربے سے گریز کرتے ہیں جو غیر یقینی نتائج کا حامل ہو۔ اسی سوچ کے تحت بعض اوقات کمزور، متنازع یا غیر مقبول حکومتوں کو بھی وقتی سہارا دیا جاتا ہے، کیونکہ عالمی طاقتیں یہ رسک نہیں لینا چاہتیں کہ کہیں دریا کے بیچ گھوڑا بدلنے سے پورا قافلہ ہی ڈوب نہ جائے۔

یہی رویہ عالمی اداروں میں بھی نمایاں ہے۔ اقوامِ متحدہ، عالمی مالیاتی ادارے، نیٹو اور دیگر بین الاقوامی فورمز اصلاحات کی بات تو کرتے ہیں، مگر عملی سطح پر بڑی اور فوری تبدیلیوں سے گریز کیا جاتا ہے۔ وجہ صاف ہے: موجودہ عالمی نظام اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود طاقتور ممالک کے لیے قابلِ پیش گوئی (predictable) ہے، اور بین الاقوامی سیاست میں پیش گوئی کی صلاحیت کو طاقت سمجھا جاتا ہے۔
تاہم، اس کہاوت کا ایک گہرا اور قدرے تلخ پہلو بھی ہے۔ اگر گھوڑا کمزور ہو، راستہ غلط ہو یا دریا اپنی ہیئت بدل چکا ہو تو تبدیلی سے انکار ضد بن جاتا ہے، حکمت نہیں۔ آج کئی ترقی پذیر ممالک اور عالمی جنوب (Global South) یہی سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ عالمی نظام واقعی سب کے لیے منصفانہ ہے؟ یا یہ محض ان طاقتوں کے مفادات کے تحفظ کا ذریعہ ہے جو پہلے ہی مضبوط پوزیشن میں ہیں؟
عالمی معیشت کی مثال لیجیے۔ مالیاتی بحرانوں کی قیمت اکثر غریب ممالک ادا کرتے ہیں، جبکہ فیصلے امیر ممالک کے مفاد میں کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود عالمی مالیاتی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی نہیں کی جاتی، کیونکہ “نظام کو چلاتے رہنا” عالمی برادری کے نزدیک “نظام کو بہتر بنانے” سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں “دریا میں گھوڑے نہیں بدلے جاتے” ایک حکمت سے زیادہ ایک عذر محسوس ہونے لگتی ہے۔
موجودہ بین الاقوامی ماحول میں یہ کہاوت اس بات کی بھی غمازی کرتی ہے کہ عالمی سیاست میں اخلاقیات اکثر ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ انسانی حقوق، جمہوریت اور آزادی جیسے نعروں کے باوجود، عملی فیصلے طاقت، مفاد اور استحکام کے گرد گھومتے ہیں۔ جب تک دریا پار نہ ہو جائے، گھوڑے کی کمزوریوں پر آنکھ بند رکھنا عالمی روایت بن چکی ہے۔
لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ ہر دریا ایک دن ختم ہو جاتا ہے، اور ہر سفر کے بعد نیا راستہ درکار ہوتا ہے۔ وہ قومیں اور نظام جو بروقت خود احتسابی اور تدریجی مگر بامعنی تبدیلی کو قبول کرتے ہیں، وہی طویل مدت میں کامیاب رہتے ہیں۔ جو صرف اس خوف میں جمود کا شکار رہتے ہیں کہ کہیں گھوڑا بدلنے سے نقصان نہ ہو جائے، وہ اکثر کنارے پر پہنچ کر خود کو غلط سمت میں کھڑا پاتے ہیں۔
آج کی دنیا کو دراصل اس کہاوت کی نئی تشریح درکار ہے۔ شاید اصل دانش یہ نہیں کہ دریا میں گھوڑے کبھی نہ بدلے جائیں، بلکہ یہ ہے کہ یہ پہچانا جائے کہ ہم واقعی دریا میں ہیں یا صرف تبدیلی سے خوفزدہ ہیں۔ اگر عالمی برادری نے ہر بحران کو جمود کا جواز بنائے رکھا تو یہ جمود خود ایک بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
آخرکار، ابرہام لنکن کی یہ کہاوت ہمیں احتیاط کا سبق دیتی ہے، مگر اندھی تقلید کا نہیں۔ موجودہ بین الاقوامی ماحول میں اصل امتحان یہی ہے کہ کہاں تسلسل ضروری ہے اور کہاں تبدیلی ناگزیر۔ کیونکہ تاریخ صرف محفوظ فیصلوں کو یاد نہیں رکھتی، بلکہ بروقت اور جرات مندانہ فیصلوں کو بھی امر کر دیتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں