52

سیاسی بیانات اور قومی ذمہ داری !

سیاسی بیانات اور قومی ذمہ داری !

اس وقت ملک داخلی و خارجی سطح پر ایسے نازک حالات سے گزر رہا ہے کہ جہاں قومی یکجہتی، سیاسی بردباری اور ریاستی اداروں کے بارے میں ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے، دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیاں ہوں، سرحدوں پر درپیش خطرات ہوں یا قومی سلامتی کے دیگر چیلنجز، ان تمام معاملات میں مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار مسلسل اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں،اگرایسے ماحول میں شہداء کی قربانیوں سے متعلق کوئی ایسا بیان سامنے آتا ہے

کہ جس سے ان قربانیوں کی نوعیت یا مقصد پر سوال اٹھنے کا تاثر پیدا ہو جائے تواس پر فطری طور پر سیاسی اور عوامی ردعمل بھی سامنے آتاہے۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بڑے زیرک سیاستدان ہیں ،وہ اکسر تنقید کرتے رہتے ہیں ،لیکن اس بات اداروں پر جو تنقید کی گئی ہے ، اس پروزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ردعمل دیتے ہوئے اسے ”اخلاقی بے حسی” قرار دیا ہے، خواجہ آ صف کا کہنا ہے

کہ فوج کی قربانیوں کو صرف تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف نامناسب ہے، بلکہ ان شہداء کے ساتھ ناانصافی ہے کہ جنہوں نے اپنی جانیں وطن کی سلامتی کے لیے قربان کی ہیں، خواجہ آصف کے مطابق کوئی بھی شخص محض تنخواہ کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش نہیں کرتا ہے ،بلکہ اس کے پیچھے وطن سے محبت، پیشہ ورانہ ذمہ داری، نظریاتی وابستگی اور قومی خدمت کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے۔
یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے انکار ممکن نہیں کہ دنیا کی ہر فوج اپنے اہلکاروں کو تنخواہ، مراعات اور سہولیات فراہم کرتی ہے، لیکن یہ مالی معاوضہ کسی بھی صورت اس عظیم قربانی کا متبادل نہیں ہو سکتا جو کہ ایک سپاہی اپنی جان دے کر دیتا ہے، اگر صرف تنخواہ ہی کسی فوجی کی خدمات کا محرک ہوتی تو جنگی حالات میں اپنی جان خطرے میں ڈالنے کا جذبہ پیدا نہ ہوتا، تاریخ اس بات کی گواہ ہے

کہ قوموں کی حفاظت کرنے والے سپاہیوں کے حوصلے صرف معاشی مفادات سے نہیں، بلکہ حب الوطنی، فرض شناسی اور قومی وقار کے احساس سے بلند ہوتے ہیں۔پاکستان کی تاریخ شہداء کی لازوال قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں سے لے کر دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ تک ہزاروں فوجی، پولیس اہلکار، ایف سی، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں،اس میں سے بے شمار ایسے تھے ،جوکہ اپنے خاندانوں کے واحد کفیل تھے،

لیکن انہوں نے قومی سلامتی کو اپنی ذاتی زندگی پر ترجیح دی اور ملک کی بقا کیلئے اپنی جانوں کی قربانی دیتے چلے آرہے ہیں،اس کی وجہ سے ہی پاکستان میں شہداء کو محض سرکاری ملازم نہیں ،بلکہ قومی ہیرو کا درجہ دیا جاتا ہے۔اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ جمہوری معاشروں میں ریاستی اداروں پر تنقید، پالیسیوں پر اختلاف اور حکومتی فیصلوں پر سوال اٹھانا، ہر شہری اور سیاسی جماعت کا حق ہے، تاہم اس حق کے استعمال میں الفاظ کا انتخاب، موقع و محل اور قومی حساسیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتاہے،

سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن جب بات شہداء کی قربانیوں کی ہو تو پوری قوم کو ایک صفحے پر ہونا چاہیے اور ایسے بیانات نہیں دینے چاہئے کہ جن سے شہداء یا ان کے اہل خانہ کی دل آزاری کا پہلو نکلتا ہو، یہ بیانات معاشرے میں غیر ضروری تقسیم بھی پیدا کر سکتے ہیں، اگرچہ خواجہ محمد آصف نے اپنے مؤقف میں شہداء کے احترام پر زور دیا ہے، لیکن مجموعی سیاسی ماحول میں تمام رہنماؤں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسی زبان استعمال کریں، جو کہ کشیدگی میں اضافے کے بجائے قومی ہم آہنگی کو فروغ دے۔
اس ملک کے ہر طبقہ فکر کیلئے سمجھنا ضروری ہے کہ شہداء کا احترام صرف تقاریر اور بیانات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود، تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی تحفظ کو بھی قومی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ اگر ایک سپاہی اپنی جان وطن پر قربان کرتا ہے تو ریاست کی بھی ذمہ داری ہے کہ اس کے اہل خانہ کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے،پاکستان دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور کٹھن جنگ لڑ رہا ہے، اس دوران ہزاروں جانوں کی قربانیاں دی گئی ہیں اور آج بھی ملک کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں،ایک ایسے وقت میں سیاسی قیادت کے بیانات نہ صرف ملکی عوام بلکہ دشمن قوتیں بھی بغور دیکھتی ہیں۔
اس بات سے انکار نہیں کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر قومی سلامتی، شہداء کے احترام اور ملکی دفاع جیسے معاملات سیاست سے بالاتر ہونے چاہییں،سیاسی قائدین اپنی رائے ضرور دیں، حکومت کی پالیسیوں پر تنقید بھی کریں، مگر ایسے الفاظ سے اجتناب کریں کہ جن سے شہداء کی عظمت یا ان کی قربانیوں پر سوالیہ نشان لگتا ہو،آج پاکستان کو ایسی سیاسی قیادت کی ضرورت ہے، جو کہ اختلافات کے باوجود قومی مفادات پر یکجا ہو، کیونکہ شہداء کسی ایک جماعت، حکومت یا ادارے کے نہیں ،بلکہ پوری قوم کے ہوتے ہیں، ان کی قربانیوں کا احترام، پاکستان کے مستقبل، استحکام اور قومی وحدت کا احترام ہے اور یہ ایک ایسی مشترکہ قدر ہے کہ جس پر ہر پاکستانی کو بلاامتیاز متحد ہونا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں