دعوت خاتم الانبیاء کا اصلی منہج، دعوت سلف و صالحین آخر کونسا سا ہے؟

دعوت خاتم الانبیاء کا اصلی منہج، دعوت سلف و صالحین آخر کونسا سا ہے؟

ڈاکٹرمحمد فاروق شاہ بندری، المعروف نقاش نائطی/ ابن بھٹکلی
۔ 919448000010+

1450 سال قبل، اس اندھیر نگری چوپٹ راج والے زمانہ جاہلیت، ماورا علمی دور میں، خالق کائینات کے اشرف المخلوقات سمجھے اور کہے ہم انسانوں کو، اپنے خاتم الانبیاء کو دئیے گئے حکم آسمانی اولی، “خَلَقَ الإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ”، “اس (اللہ) نے انسان کو (خون کے) لوتھڑے سے پیدا کیا”۔ اس دقیق علم سائینس کو، اس زمانہ جاہلیت میں پیش کرنے کا کچھ تو مطلب ہوگا؟
بچہ دانی (ماں کے رحم) میں پرورش پارہے بچے کے حیاتیاتی نظام، نظریہ اینوٹومی،اس (اللہ) نے انسان کو (خون کے) لوتھڑے سے پیدا کیا” 609 عیسوی سال میں، پہلی بار آپﷺ پر وحی اولی کی صورت عالم انسانیت کے سامنے جو لایا گیا تھا، اس پر کم و بیش 1253 سال بعد، ایڈون اسمتھ 1862 ابتدائی تحریری طبی ریکارڈوں کے واسطے سے واقعتآ عالم انسانیت کے سامنے لایا گیا تھا، جب کہ اس کی درست ساختگی اور جسمانی تفہیم صدیوں کے وقفے وقفے سے آہستہ آہستہ عالم انسانئت کے سامنے آتی رہی۔
پھر کیوں ہم مسلمانوں کے علماء کرام نے، ”طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ“، “علم حاصل کرنا ہر(مرد و زن) مسلمان پر فرض ہے۔” اس کا مطلب،اس وقت کے علماء دین نے، انگریز سامراج سے، انکی جان بخشی کے لئے، مسلم امہ کو، صرف علم دین سیکھنے پر منتج کئے، یکم جنوری 1492 سکوت غرناطہ اسپین کے بعد سے، عصر حاضر تقریبا” 545 لمبے سال تک کے ہم مسلمانوں کو،ان ساڑھے پانچ صد دورائیے کی، کل آبادی مسلم امہ کو، حصول علم سائینس یا علم عصر حاضر سے ماورا رکھے یا کئے،

 

نہ صرف حصول دین اسلام، حصول علم قرآن و حدیث کے لئے،مساجد و مدارس و درگاہوں کی گنبد و در و دیوار میں، برطانوی سامراج سازشتا”مقیدرکھے، امامت عالم انسانیت، سابقہ ایک سو سال تک بیگانہ رکھے، اپنے طور علم عصر حاصر سیکھنے والے طلبہ تک کو، “ابن الحرام” اور “بنت الحرام” ببانگ درا، فتوے جڑنے، دینے والے عالی مرتبت علماء کرام تو، اپنے خالق و مالک حقیقی کے پاس پہنچ چکے ہیں، لیکن علماء کرام کے،عمومی کچے کان سقم کا فائیدہ اٹھا، عوامی تقاریب سے عین قبل، ان کےکان کاٹنے والے جید علماء،فی زمانہ بھی خود کے تفکرات کو صحیح تر تصور کئے،

اور باقی تمام تر تفکرات کو غلط تر سمجھے، موقر دیوبندی علماء کرام کے ایک حد تک معتوب ٹہرائے جانے والے،گلی گلی گاؤں گاؤں گھوم، دعوت و تبلیغ کے نام چلت پھرت مفروضہ کے علاوہ سلف و صالحین اصلی نظریات دعوت و تبلیغ والوں سے، عصری علوم علیگڑھ ثانی جنوب ھند جیسی، عالیشان عصری علوم یونیورسٹی کے، کئی ہزار طلبہ کو، ماورا و محروم رکھنے کی، اپنی جامد مقلدیت کی،مسلم معاشرے میں چھاپ قائم رکھنے، ابھی تک جستجوء پیہم میں مصروف عمل ہیں۔ اس سوچ و تفکر بےجا سے، مسلم طلبہ کو آزاد و ماورا کرنے کرانے کا وقت، کیا نہیں آیا ہے؟

“البتروس” ایک سمندری پرندہ، جو اپنی معشوقہ یا بیوی سے سال میں اک بار ملنے اور اپنی نسل کو تاقیامت کے لئے، آگے بڑھانے، ایک ہزار دوسو 56 لاکھ کلومیٹر کا ہوائی سفر طہ کرتے ہوئے، اپنی بیوی سے وفا شعاری والی پوری زندگانی بتانے کا یا نبھانے کا درس، ہم اشرف المخلوقات کہے گئے انسانوں کو،
سکھاتا آیا ہے۔ ہم نے اپنے درمیان والے ایسے انسانی جوڑوں کو لیلی مجنوں، ھیر رانجھا، پتہ نہیں، کس کس نام سے موسوم کردیا ہے اور انہی تفکرات کی چھاپ کو اپنی زندگی میں لانے کی تگ و دو کرتے پائے جاتے ہیں، لیکن قدرت کے اس انوکھے لیلی مجنون ھیر رانجھا، بے زبان پرندے والے، عاشقی تفکرات ہم انسانوں کو، ایک مرتبہ تعارف ہوناچاہئیے۔ اسی لئے جدت پسند سائینس کے روبرو کرائے،

ایسے لیلی مجنوں، ھیر رانجا کی اصلی کہانی، “البتروس” کی زندگانی کے ساتھ حاضر خدمت ھیں۔ ہم مسلمانوں کو چاہئیے کہ حکم قرآنی ،کل اشیائے ارض سماوات کو، قرآنی علوم کی روشنی میں، اسکے ہم انسانوں کی زندگانی پر مثبت و منفی اثرات سے، ہم انسانوں کو آگاہ کرنے والے علم سائینس جغرافیہ و علم نباتات و حشرات الارض کو سیکھنا اپنے لئے فرض منصبی سمجھیں، اور حصول علم کےلئے،عمر کی قید ضروری نہیں، اس مفروضہ کے پیش نظر، زندگی کے ہر گام پر، نت نئے لامتناہی علوم سے انسانیت کو روشناس کرتے رہیں۔وما التوفیق الا باللہ۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *