ایران بارے ٹرمپ کا فیصلہ، مشرقِ وسطیٰ ایک نئے موڑ پر۔!
امر یکہ اور ایران کے در میان معاملات سلجھنے کے بجائے مزید الجھتے ہی جارہے ہیں ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بارے میں جلد ایک اہم فیصلہ کرنے اور مستقبل قریب میں ’’بہت بڑے واقعات‘‘ رونما ہونے کے عندیے نے ایک مرتبہ پھر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے،صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کے حوالے سے مختلف آپشنز زیرِ غور ہیں، اس میں فوجی کارروائی کے ذریعے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو تباہ کرنا، معاشی دباؤ کے ذریعے ایرانی معیشت کو مزید کمزور کرنا اور مذاکرات کے ذریعے کسی معاہدے تک پہنچنا شامل ہے، ایک بار پھر صدر ٹرمپ کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے
اور دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اب صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں رہے، بلکہ علاقائی سلامتی، میزائل پروگرام، امریکی فوجی موجودگی، ایران سے وابستہ علاقائی گروہوں اور خلیج میں توانائی کی ترسیل جیسے معاملات بھی تنازعے کا حصہ بن چکے ہیں۔اس پرصدرٹرمپ کی موجودہ پالیسی کو سمجھنے کے لیے دیکھنا ضروری ہے کہ واشنگٹن ایران پر ایک طرف زیادہ سے زیادہ دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند بھی نہیں کرنا چاہتاہے۔
امریکی انتظامیہ پہلے ہی ایران کے خلاف معاشی پابندیوں اور مالیاتی دباؤ میں اضافہ کرچکی ہے، واشنگٹن کی جانب سے ایرانی تجارت، مالیاتی روابط، شپنگ، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں کو نشانہ بنانے والے اقدامات کا بنیادی مقصد تہران کی آمدنی اور عالمی مالیاتی نظام تک رسائی محدود کرکے اسے امریکی شرائط پر مذاکرات کی طرف لانا ہے،لیکن یہاں بنیادی سوال ہے کہ کیا یہ دباؤ واقعی ایران کو کسی نئے معاہدے پر آمادہ کرسکتا ہے یا اس کے برعکس تہران اپنے مؤقف کو مزید سخت کرے گا؟ ماضی کے تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی پابندیاں کسی ملک کی معیشت کو شدید متاثر تو کرسکتی ہیں،
لیکن اس کا سیاسی نتیجہ واشنگٹن کی توقعات کے مطابق نہیں نکل رہا ہے۔امر یکہ ایک طرف معاشی وسیاسی دبائو بڑھارہا ہے تو دوسری جانب فوجی آپشن کی بات کررہا ہے ،جو کہ سب سے زیادہ خطرناک راستہ ہے، اگر امریکا ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کرتا ہے تو معاملہ صرف چند محدود اہداف تک رہنے کی ضمانت نہیں دی جاسکتی، ایران ایک وسیع جغرافیہ، بڑی آبادی اور مختلف نوعیت کی میزائل و عسکری صلاحیت رکھنے والا ملک ہے
،ایران کسی بڑے حملے کی صورت میں براہِ راست امریکی یا اتحادی تنصیبات کو نشانہ بنانے، خلیجی خطے میں امریکی مفادات کو دباؤ میں لانے یا خطے میں اپنے اتحادی گروہوں کے ذریعے ردعمل دینے کی کوشش کرسکتا ہے، ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ محض ایک دو طرفہ تنازع نہیں رہے گا، بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے پھیلاؤ کا خطرہ پیدا کرسکتا ہے۔
اس کا امر یکہ کو بھی بخوبی اندازہ ہے ،اس لیے ہی ایک ہی وقت میں انتہائی سخت فوجی آپشن اور معاہدے کے امکان دونوں کا ذکر کیاجارہاہے،
اس سے تاثر ملتا ہے کہ امریکی حکمتِ عملی میں دباؤ اور مذاکرات ایک دوسرے کے متبادل ہونے کے بجائے ایک ہی پالیسی کے مختلف حصے ہوسکتے ہیں، واشنگٹن شاید فوجی دباؤ اور معاشی پابندیوں کو مذاکرات کے لیے دباؤ بڑھانے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے، جبکہ تہران اس دباؤ کو قبول کرنے کے بجائے اپنی مزاحمت برقرار رکھنے کی کوشش کرسکتا ہے،یہ دونوں ممالک کے درمیان کشمکش آنے والے دنوں بحران کی سمت متعین کرے گی۔
اس پورے معاملے میں خلیجی ممالک کا کردار بھی بڑااہم ہے،سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور دیگر ممالک کسی ایسے تنازعے سے بچنا چاہیں گے ،جو کہ ان کے علاقوں یا توانائی تنصیبات کو براہِ راست خطرے میں ڈال دے، امریکا کے ساتھ ان کے دفاعی تعلقات اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن خطے میں ایک بڑی جنگ ان ممالک کی معیشت، توانائی تنصیبات، سرمایہ کاری اور داخلی سلامتی پر بھی اثر ڈال سکتی ہے، اس لیے امریکی فیصلے میں سب سے اہم ہوگا کہ واشنگٹن اپنے علاقائی اتحادیوں کے تحفظ اور ان کے خدشات کو کس حد تک مدنظر رکھتا ہے،اگر ان کے خدشات کو مد نظر رکھ کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو حالات مختلف ہو سکتے ہیں ،وریہ حالات مزید خراب ہو نے کے خدشات بڑھ جائیں گے۔
یہ صورتحال پاکستان کے لیے بھی براہِ راست اہمیت رکھتی ہے، ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اور کسی بھی بڑے علاقائی بحران کا اثر پاکستان کی سرحدی سلامتی، تجارت، توانائی اور خارجہ پالیسی پر پڑسکتا ہے، اس کے علاوہ پاکستان تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے سے بھی متاثر ہوسکتا ہے ،اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھتی ہے اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے تو پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے درآمدی بل، مہنگائی اور معاشی دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے، اس کے ساتھ اسلام آباد کے لیے ایک مشکل سفارتی توازن بھی پیدا ہوگا، کیونکہ پاکستان کے ایران کے ساتھ جغرافیائی اور علاقائی تعلقات ہیں ،جبکہ امریکا کے ساتھ بھی اس کے اہم سفارتی اور معاشی روابط موجود ہیں۔
اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ ایران کا بحران اب صرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلاف نہیں رہاہے، یہ عالمی توانائی، خلیجی سلامتی، بین الاقوامی تجارت اور پاکستان سمیت پورے خطے کے معاشی و سفارتی مفادات سے جڑ چکا ہے،صدر ٹرمپ کے آنے والے فیصلے کی اصل اہمیت اسی لیے بہت زیادہ ہے، کیونکہ اگر واشنگٹن دباؤ کو مذاکرات کی میز تک لے جاتا ہے تو بحران ایک نئے سفارتی مرحلے میں داخل ہوسکتا ہے، لیکن اگر فوجی محاذ کو وسعت دی جاتی ہے تو اس کے اثرات ایران سے کہیں آگے تک پہنچ سکتے ہیں،اس لیے آنے والے دنوں میں اصل امتحان صرف ایران یا امریکا کا نہیں، بلکہ پوری عالمی سفارت کاری کا ہوگا کہ کیا طاقت، دباؤ اور مذاکرات کے درمیان کوئی ایسا راستہ نکالا جاسکتا ہے، جو کہ ایک بڑے علاقائی تصادم کو روک سکے،یہ مشکل ضرور ، مگر ناممکن نہیں ہے۔