19

راکھ کا ڈھیر یا مذاکرات کی میز !

راکھ کا ڈھیر یا مذاکرات کی میز !

مشرقِ وسطیٰ کا آتش فشاں ایک بار پھر پھٹنے کے قریب ہے اور اس بار کی چنگاریاں پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لیے تیار نظر آتی ہیں، لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی جارحیت اور ہلاکت خیز حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے اسرائیل پر براہِ راست میزائلوں کی برسات نے خطے کی جغرافیائی سیاست کو ایک ایسے خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے کہ جہاں سے واپسی کا راستہ صرف تباہی کی طرف ہی جاتا ہے،

ایران کا اقدام محض ایک فوجی کارروائی نہیں، بلکہ بیروت کی تباہی اور اپنے اتحادیوں کے نقصان کا ایک ایساردعمل ہے کہ جس نے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو یکسر بدل کر ہی رکھ دیا ہے، اس پر اسرائیلی وزیرِ داخلہ اتمار بن گویر کا ہولناک بیان کہ آج رات تہران کو جلنا چاہیے اور دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دھمکی آمیز لہجہ کہ بس اتنا کافی ہے، ایران میز پر واپس آئے، عالمی سفارت کاری اور جنگی جنون کے درمیان لٹکتی ہوئی ایک انتہائی باریک لکیر کو ظاہر کرتا ہے۔
اگر دیکھا جائے تواسرائیل طویل عرصے سے لبنان اور غزہ میں اپنی فوجی برتری کے زعم میں بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے،اسرائیل کے بیروت پر حالیہ حملے کہ جن میں معصوم شہریوں اور مزاحمتی قیادت کو نشانہ بنایا گیا، ایران کے صبر کا پیمانہ لبریز کرنے کا سبب بنے ہیں،ایران نے اب تک اسٹریٹجک صبرکی پالیسی اپنا رکھی تھی، لیکن بیروت پر حملوں نے تہران کو باور کرایا کہ اگر اب بھی خاموشی اختیار کی گئی تو اس کا دفاعی اور سیاسی وقار خاک میں مل جائے گا، ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں نے اسرائیل کے ناقابلِ تسخیر ہونے کے دعوے کو ایک بار پھر چیلنج کیا ہے،

یہ میزائل صرف بارود کا ڈھیر نہیں تھے، بلکہ تہران کا اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کے لیے ایک واضح پیغام تھا کہ ایران اپنی سرخ لکیروں کی پامالی پر خاموش تماشائی نہیں بنا رہے گا۔
اس پر اسرائیلی قیادت کا ردعمل ہمیشہ کی طرح انتہائی متکبرانہ اور انتہا پسندانہ ہے،اسرائیل کے وزیر اتمار بن گویر جیسے بنیاد پرست اور جنگ پسند کا کہنا ہے کہ آج رات تہران کو جلنا چاہیے ،یہ کسی ذمہ دار ریاست کے عہدیدار کا بیان نہیں ،بلکہ ایک عالمی جنگ کو دعوت دینے والی ہرزہ سرائی ہے، یہ بیان اسرائیل کی اندرونی مایوسی کو بھی ظاہر کرتا ہے، جو کہ ایران کے اچانک اور مؤثر جواب کے بعد محسوس کر رہا ہے،کیو نکہ اسرائیل صرف یکطرفہ حملوں کا ہی عادی رہا ہے ، لیکن اس کو اب سمجھ آ رہا ہے

کہ جنگ کے شعلے صرف بیروت یا غزہ تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ ان کی تپش تہران سے نکلنے والے میزائلوں کی صورت میں تل ابیب اور حیفہ تک بھی پہنچ سکتی ہے۔اسرائیلی وزیربن گویر کا تہران کو جلانے کا خواب دراصل پورے خطے کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کرنے کی ہولناک خواہش کے مترادف ہے ،دوسری طرف، واشنگٹن میں بیٹھے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل روایتی امریکی منافقت اور کاروباری ذہنیت کا عکاس ہے،ٹرمپ نے ایک طرف ایران کو مشورہ دییے رہے

ہیںکہ آپ نے اپنے میزائل داغ دیے ہیں، بس اتنا کافی ہے، اب میز پر واپس آئیں اور معاہدہ کریں تو دوسری طرف امریکی فوج کو ہائی الرٹ پر رکھ کر اپنی جنگی طاقت کا مظاہرہ بھی کررہے ہیں،یہ ٹرمپ کا ندازِ گفتگو ان کی آرٹ آف دی ڈیل کی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے، وہ جنگ کی ہولناکی کو بھی ایک کاروباری سودے بازی کی نظر سے دیکھ رہے ہیں، ٹرمپ کا کہنا کہ اتنا کافی ہے،کا اصل مقصد اسرائیل کو مزید نقصان سے بچانے اور خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ کرنے کی ایک سفارتی کوشش ہے۔
امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اگر یہ جنگ مزید پھیل گئی تو اس کی معیشت، تیل کی سپلائی اور خطے میں موجود اس کے فوجی اڈے شدید خطرے میں پڑ جائیں گے،لیکن اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایران اس امریکی دباؤ یا نصیحت کے سامنے سر تسلیم خم کرے گا؟ ایران کا واضح موقف رہا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا، لیکن اگر اس پر جنگ مسلط کی گئی تو وہ پیچھے نہیں ہٹے گا، ٹرمپ کا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا کہ جب تک امریکہ اور اسرائیل خطے میں اپنی جارحانہ پالیسیوں کو ترک نہیں کرتے ہیں، ایران کے لیے صرف ایک نیا معاہدہ کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ وہ اپنے دفاع اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اتحادیوںکے تحفظ کی ضمانت بھی چاہتا ہے۔
اس وقت مشرقِ وسطیٰ بارود کے ایک ایسے ڈھیر پر کھڑا ہے کہ جہاں ایک چھوٹی سی چنگاری بھی عالمی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے،یہ بات کسی حدتک ڈونلڈ ٹرمپ کی درست ہو سکتی ہے کہ اب ایران کا میز پر واپس آنے کا وقت ہے، لیکن اس کے لیے پہلا قدم امر یکہ کو اسرائیل کو روکنا ہوگا۔،اسرائیل جب تک بیروت، غزہ اور شام پر بمباری کرتا رہے گا، تب تک ایران یا کسی بھی دوسرے فریق سے امن کی امید رکھنا خود کو بہلانے کے مترادف ہے ،اس موقع پرعالمی برادری ، بالخصوص اقوامِ متحدہ کو اب اپنی روایتی خاموشی توڑنی ہوگی، بن گویر جیسے جنگ پسندی کے علمبرداروں کو لگام دینی ہوگی اور خطے میں پائیدار امن کے لیے طاقت کے زور پر فیصلے کرنے کے بجائے انصاف اور خودمختاری کے اصولوں کو تسلیم کرنا ہوگا، بصورتِ دیگر، تہران کو جلانے کی خواہش رکھنے والے بھول رہے ہیں کہ اس آگ کی لپٹیں خود ان کے اپنے ایوانوں کو بھی راکھ بنا دیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں