50

امن کی راہ کیسے اپنائیں!

امن کی راہ کیسے اپنائیں!

امر یکہ ایران جنگ ایک ماہ بعد اب جنگ بندی کی جانب جاتی دکھائی دیے رہی ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2 سے 3 ہفتوں میں ایران جنگ سے نکلنے کا اعلان کررہے ہیںاورایران بھی جنگ ختم کرنے کیلئے تیار نظر آنے لگا ہے ، لیکن ایران ضمانت ما نگ رہا ہے ، تاکہ تنازع دوبارہ شروع نہیں ہوگا،جبکہ پاکستان اور چین نے مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے پانچ نکاتی ایجنڈے کا اعلان کردیا ہے،کیا اس پانچ نکاتی ایجنڈے پر فریقین میں اتفاق ہو پائے گا اور کیااس خطے میں قیام قائم کیلئے کوئی بڑا ملک ضامن بن پائے گا۔
اس حوالے سے پا کستان کے ساتھ دوسرے دوست اسلامی ممالک بڑی کائوشیں کررہے ہیں،اس تناظر میں نائب وزیراعظم ، وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا دورہ بیجنگ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے، پاکستان اور چین کے مابین ہونے والی سفارتی مشاورت میں سامنے آنے والا پانچ نکاتی فارمولا عالمی امن کیلئے جامع روڈ میپ کی حیثیت رکھتا ہے، یہ فارمولا جس میں جلد جامع مذاکرات کے آغاز‘ طاقت کے استعمال سے گریز‘ جوہری و سول تنصیبات کے تحفظ‘ آبنائے ہرمز کی بحالی اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی بالادستی کے نکات شامل ہیں‘ اس موقف کا اعادہ ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی ہے، پائیدار امن اور علاقائی استحکام کی ضمانت مذاکرات کے ذریعے ہی فراہم کی جا سکتی ہے ،اس ایک موقف پر پاک چین کایکجا ہونا ،‘ اس بات کا ثبوت ہے کہ علاقائی ممالک امن کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں اور کسی بھی ایسی مہم جوئی کی حمایت نہیں کریں گے ، جو کہ عالمی استحکام کو دائو پر لگادے۔
پا کستان کسی دوسرے کی لڑائی لڑنے کا ارادہ رکھتا ہے نہ ہی کسی دوسرے کے معاملات میں مداخلت کا حامی ہے ، پا کستان خطے میں قیام امن کیلئے ثالثی کا کردار ادا کررہا ہے،اس ثالثی کی کوششوں میں چین کو اعتماد میں لینا ضروری ہے ، کیو نکہ ایران چین پر بھروسا کرتا ہے اور چین اس پوزیشن کا حامل ہے کہ ایران کو جنگ بندی کے حوالے سے مضبوط اور ٹھوس ضمانت فراہم کر سکے، ایران نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسلام آباد کی نیک نیتی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے،

پاکستان اور چین نے بھی دو ٹوک انداز میں زور دیا ہے کہ امر یکہ کی جانب سے سول تنصیبات پر حملوں کی دھمکیوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے اور بات چیت اور جنگ بندی کیلئے ماحول کو سازگار بنانا چاہیے ،سول اور توانائی تنصیبات اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا نہ صرف عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، بلکہ انسانی و علاقائی زندگیوں کیلئے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔اس جنگ کے دوران امر یکہ اور اسرائیل کا وطیرہ رہا ہے کہ پہلے دھمکیاں دیتا ہے اور اس کے بعد کر گزرتا ہے ، ایران بھی بڑھ کر جوابی کاروائی کرتا ہے ،

اس بار جو ہری تنصیبات پرحملے کی باتیں کی جارہی ہیں ، جو کہ ڈنیائے عالم کیلئے ٹھیک نہیں ہے ، اگر ان پر آنچ آئی تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑیں گے، لہٰذا ایسی کسی بھی مہم جوئی سے گریز کیا جانا چاہیے ،اس کے اثرات ہمہ گیر ہوں یا جو عالمی توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ یا کسی ایٹمی حادثے کا سبب بنے، ایسی دھمکیاں نہ صرف امن کوششوں سے متصادم ہیں ،بلکہ تنائو کو مزید گہرا کر دیتی ہیں، امریکی قیادت کو جلتی پر تیل ڈالنے کے بجائے دانشمندی اور بصیرت کا ثبوت دیتے ہوئے نہ صرف معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ، بلکہ پا کستانی کی ثالثا نہ کائوشوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے ، پاکستان نے اپنی سفارتی بھاگ دوڑ میں واضح کر دیا ہے کہ حتمی فیصلے متعلقہ فریقین نے خود ہی کر ناہے‘ پاکستان کی کوششیں محض ایک سہولت کار کے کردار تک ہی محدود رہیں گی۔
دنیا جب بلاک کی سیاست اور نئی محاذ آرائیوں کی طرف بڑھ رہی ہے‘ پاک چین پانچ نکاتی امن فارمولا اقوامِ متحدہ کے منشور کی بالادستی کا علمبردار بن کر سامنے آیا ہے ،یہ فارمولا ایک عملی لائحہ عمل فراہم کرتا ہے کہ جس پر چل کر مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے ،ماحول کو سازگار بنانا‘ اشتعال انگیزی سے گریز اور مذاکرات کیلئے لچک وہ بنیادی تقاضے ہیں کہ جن کے بغیر جنگ بندی ممکن نہیں ہے۔ طاقت کے بل بوتے پر فیصلے مسلط کرنے سے دنیا مزید تباہی کا ہی شکار ہو گی ،امر یکہ اور ایران کو جنگ بندی کے اعلانات سے مذاکرات کے ذریعے ایک جامع معاہدے کی جانب بڑھنا چاہئے۔
اس ایک ماہ میں جنگ فر یقین نہ صرف ایک دوسرے کو جان چکے ہیں ، بلکہ پہچان بھی چکے ہیں ،امر یکہ بڑی طاقت ہے تو اس کو بڑے پن کا مظاہرہ کر نا چاہئے ، صدر ٹرمپ ایک جانب امن قائم کرنے کی باتیں کرتے ہیں تو دوسری جانب اپنے لب ولہجے سے قیام ِ امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، امریکی صدر جس لہجے اور تضحیک آمیز بیانات داغ رہے ہیں، وہ کسی بطور ایک بڑی طاقت کے حامل ملک کے صدر کے شایانِ شان نہیں ہیں، امریکی صدر کو یہ بات سمجھنی چاہیے

کہ اس نوع کی غیر سنجیدگی سے جنگ بندی کا عمل ہو پائے گا نہ ہی قیام امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر ہو پائے گا، اگر بڑی طاقتیں ایسے ہی غیر ذمے داری اور اشتعال انگیزی کا طرز عمل اختیار کیے رکھیں گی تو اس سے تنازع کی شدت میں کمی کے بجائے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی ساری کوششوں کی حوصلہ شکنی ہوگی اور امن کی راہ کبھی ہموار نہیں ہوپائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں