51

دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کن معر کہ !

دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کن معر کہ !

بلوچستان ایک طویل عرصے سے دہشت گردی، تخریب کاری اور بیرونی مداخلت جیسے پیچیدہ مسائل سے نبرد آزما ہے، اس نے امن و امان کو نہ صرف متاثر کیا ہے ،بلکہ معاشی ترقی، سرمایہ کاری، عوامی زندگی اور قومی یکجہتی پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں،اس صورتحال میں پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف جاری مشترکہ آپریشن شعبا ن عکاسی کرتا ہے کہ ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک منظم، مربوط اور مسلسل حکمت عملی پر عمل پیرا ہے ،اس کارروائیوں میں مزید نو دہشت گردوں کی ہلاکت اور آپریشن کے آغاز سے اب تک درجنوں دہشت گردوں کا انجام تک پہنچنا، اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

اس وقت سارے ہی متفق ہیں کہ اس دہشت گردی کے ناسور کو ختم کر کے ہی دم لینا ہے، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دشوار گزار پہاڑی علاقوں اور دور افتادہ راستوں میں چھپے دہشت گردوں کو زمینی اور فضائی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے، یہ کارروائیاں زیادہ اہم ہیں کہ بلوچستان کا جغرافیہ دہشت گردوں کو چھپنے اور نقل و حرکت کے لیے نسبتاً زیادہ مواقع فراہم کرتا ہے،اس طرح کے حالات میں انٹیلی جنس معلومات، جدید ٹیکنالوجی، فضائی نگرانی اور زمینی فورسز کے درمیان مؤثر ہم آہنگی ہی کامیابی کی ضمانت بنتی ہے،اس لیے ہی حالیہ آپریشنز میں نمایاں نتائج سامنے آرہے ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف کسی بھی کارروائی کی اصل کامیابی صرف ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ آیا ان کارروائیوں سے دہشت گردوں کا نیٹ ورک، ان کی مالی معاونت، اسلحہ کی رسد اور افرادی قوت متاثر ہوئی یا نہیں، اگر ریاست ان تمام پہلوؤں پر بیک وقت توجہ دے رہی ہے تو یہ ایک جامع انسداد دہشت گردی پالیسی کی علامت ہے، گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے اسی جامع حکمت عملی کو اختیار کیا ہے، اس کے باعث دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کو محدود کرنے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور ایک بار پھر دہشت گری کے واقعات میں بھی قدرے کمی آئی ہے

،کیو نکہ سیکورٹی فورسز آپریشن شعبان کے تحت تیزی سے کاروائیوں میں نہ صرف مصروف عمل ہیں ،بلکہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن معرکہ لڑ رہے ہیں ۔
اس پروزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کی تعریف اور دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اظہار اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوجی اداروں کی نہیں ،بلکہ پوری ریاست کی ترجیح ہے، اس طرح ہی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیان کہ دہشت گرد ملک و قوم پر بوجھ ہیں اور ان کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے، قومی پالیسی کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے،سیاسی قیادت اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان یکساں مؤقف دہشت گردوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ اس معاملے پر ریاست تقسیم نہیں، بلکہ متحد ہے اور اس معاملے پر سیکورٹی ادارے کوئی رعایت دینے کیلئے بالکل تیار نہیں ہیں ۔
یہ مانا کہ اس معاملے پر ادارے پر عزم ہیںاور فیصلہ کن معرکہ سر انجام دیے رہے ہیں ، لیکن دہشت گردی صرف عسکری مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ہمہ جہت چیلنج ہے، اس کے جب تک سماجی، معاشی، سیاسی اور نظریاتی اسباب پر توجہ نہیں دی جائے گی، فوجی کارروائیاں دیرپا امن کی مکمل ضمانت نہیں بن سکیں گی ،بلوچستان جیسے حساس صوبے میں روزگار کے مواقع، معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، مقامی آبادی کی شمولیت اور عوامی اعتماد کا فروغ بھی اتنا ہی ضروری ہے، جتنا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضروری ہے ،دوسری جانب، دہشت گرد تنظیمیں وقت کے ساتھ اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہی ہیں،
، اس لیے ریاست کو روایتی فوجی کارروائیوں کے ساتھ سائبر نگرانی، مالیاتی نیٹ ورکس کی نگرانی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہوگا، دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے اور سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی بھی مستقل کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔
اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں نے دی ہیں،دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف بندوق کے زور پر ممکن نہیں، بلکہ عوامی تعاون، بروقت اطلاع رسانی، قانون کی پاسداری اور قومی یکجہتی بھی اس کا لازمی حصہ ہیںاور اس سے ہی امن قائم ہو سکتا ہے ، اگر امن قائم ہوتا ہے تو نہ صرف مقامی آبادی کو ترقی کے مواقع میسر آئیں گے، بلکہ پورا ملک ہی معاشی فوائد سے مستفید ہوگا، اسی لیے بلوچستان میں امن کا قیام صرف ایک صوبائی ضرورت نہیں، بلکہ قومی ترقی کا بنیادی تقاضا ہے اوروقت کی اہم ضرورت بھی ہے ۔
اگر دیکھا جائے تو آپریشن شعبان دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے غیر متزلزل عزم کی ایک اہم مثال ہے،دہشت گر دی کے خلاف حالیہ کامیابیاں یقیناً حوصلہ افزا ہیں، لیکن یہ جنگ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے، ملک بھر میںمستقل امن کے لیے ضروری ہے کہ عسکری کامیابیوں کے ساتھ سیاسی استحکام، معاشی ترقی، سماجی انصاف، مؤثر حکمرانی اور عوامی اعتماد کو بھی یکساں اہمیت دی جائے، ریاستی ادارے ،سیاسی قیادت اور عوام جب ایک ہی مقصد کے لیے متحد رہیں گے تو دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ممکن ہوگا اور بلوچستان سمیت پورا پاکستان ایک محفوظ پرامن اور ترقی یافتہ مستقبل کی جانب مضبوطی سے گامزن ہو سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں