47

کر چکا ہے۔ پھر اگر آزاد کشمیر کے عوام اپنے آئینی ڈھانچے میں تبدیلی چاہتے ہیں تو انہیں یہ حق کیوں حاصل نہ ہو؟

کر چکا ہے۔ پھر اگر آزاد کشمیر کے عوام اپنے آئینی ڈھانچے میں تبدیلی چاہتے ہیں تو انہیں یہ حق کیوں حاصل نہ ہو؟

تحریر سردار عبدالجبار خان

آخرکار مسئلہ صرف بارہ نشستوں کا نہیں بلکہ اصول کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عوام کی مرضی بالاتر ہوگی یا طاقتور حلقوں کی خواہش؟ کیا آئین عوام کی نمائندگی کرے گا یا اقتدار کی ضرورت؟ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی ریاست بندوق کے زور پر دیرپا استحکام حاصل نہیں کر سکی۔ مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جو اپنے شہریوں کے اعتماد، آئین کی بالادستی اور حقیقی عوامی نمائندگی پر قائم ہو۔ آزاد کشمیر میں مہاجرین کے نام پر قائم بارہ نشستوں کا خاتمہ اسی سمت میں ایک ناگزیر جمہوری اور آئینی قدم ہے
لیکن اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ آخر ریاست کس سمت جانا چاہتی ہے؟ کیا وہ ایک ایسے خطے کو، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے نسبتاً پرامن رہا ہے، سیاسی بے چینی اور تصادم کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے؟ اگر عوام کے پرامن مطالبات کا جواب طاقت، گرفتاریاں، مقدمات اور سیاسی دباؤ ہوں گے تو اس کا منطقی انجام کیا ہوگا؟

آزاد کشمیر کے نوجوان پاکستان کی سرحدوں پر دفاعِ وطن کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں۔ اے جے کے رجمنٹ، پنجاب رجمنٹ اور دیگر افواج میں ہزاروں کشمیری وطن کی حفاظت میں صفِ اول میں کھڑے ہیں۔ دوسری جانب بیرونِ ملک مقیم کشمیری ہر سال اربوں روپے کا زرِ مبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں، جبکہ آزاد کشمیر براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں، تجارت اور معاشی سرگرمیوں کے ذریعے پاکستان کی معیشت میں بھی نمایاں حصہ ڈالتا ہے۔

اگر یہ سب حقیقت ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ انہی لوگوں کے سیاسی حقوق محدود کیوں کیے جا رہے ہیں؟ ان کے جمہوری مطالبات کو ریاستی مسئلہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟ ان کی منتخب اسمبلی کے اختیارات کمزور کیوں رکھے جا رہے ہیں؟ اور مہاجرین کے نام پر ایسی نشستیں کیوں برقرار رکھی جا رہی ہیں جو عوامی مینڈیٹ کو تبدیل کرنے کا ذریعہ بن چکی ہیں؟

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان واقعی آزاد کشمیر کو بھی بلوچستان جیسے مستقل سیاسی تصادم اور بداعتمادی کی طرف دھکیلنا چاہتا ہے؟ اگر نہیں، تو پھر ایسی پالیسیاں کیوں اختیار کی جا رہی ہیں جو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھا رہی ہیں؟ اور اگر ہاں، تو اس سے حاصل کیا ہوگا؟ کیا ایک اور ناراض خطہ پاکستان کے قومی مفاد میں ہوگا؟ کیا اس سے مسئلۂ کشمیر مضبوط ہوگا یا مزید کمزور؟ کیا اس سے قومی یکجہتی بڑھے گی یا ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد مزید مجروح ہوگا؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب طاقت نہیں دے سکتی۔ ان کا جواب صرف آئین، قانون، انصاف، حقیقی عوامی نمائندگی اور سیاسی بصیرت دے سکتی ہے۔ کیونکہ ریاستیں بندوق سے نہیں، اپنے شہریوں کے اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں