39

غربت کا بڑھتا سیلاب اور معاشی پالیسیوں کا تضاد!

غربت کا بڑھتا سیلاب اور معاشی پالیسیوں کا تضاد!

پاکستان کا معاشی بحران اب صرف اعداد و شمار کی حد تک محدود نہیں رہا ،بلکہ ایک سنگین سماجی المیے کی شکل اختیار کر تا جارہاہے، حال ہی میں جاری ہونے والے قومی اقتصادی سروے 2025-26ء کے ہوش رُبا حقائق نے ملک کے پورے معاشی ڈھانچے اور حکومتی دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔،اس سروے کے مطابق ملک میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ چکی ہے، اس کا سیدھا اور تلخ مطلب ہے

کہ ہر 100 میں سے تقریباً 29 پاکستانی بنیادی انسانی ضروریات یعنی خوراک، صحت اور تعلیم سے محروم خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔یہ صورتحال اس وقت مزید خوفناک دکھائی دیتی ہے کہ جب ہم ماضی کا موازنہ حال سے کرتے ہیں،سال 2018-19ء میں شرح 21.9 فیصد تھی، یعنی محض چند برسوں کے قلیل عرصے میں کروڑوں معصوم شہری خطِ غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیے گئے ہیں،

یہ اعداد و شمار گواہ ہیں کہ ملک میں متوسط طبقہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور غریب طبقہ بقا کی جنگ لڑ رہا ہے ،اس معاشی اشاریوں کی تنزلی نے پچھلے چند سالوں کے دوران لاگو کی جانے والی معاشی پالیسیوں، کڑی شرائط پر مبنی بین الاقوامی قرضوں اور اندرونی انتظامی نااہلی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
اگر ہم معاشی سروے کے تحت غربت کے جغرافیائی گراف کا جائزہ لیں تو صوبائی عدم مساوات کا ایک ہولناک منظرنامہ سامنے آتا ہے ،ملک کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور وسائل سے مالامال صوبہ بلوچستان اس وقت غربت کی دلدل میں سب سے زیادہ دھنسا ہوا ہے، اس صوبے میں غربت کی شرح 47 فیصد تک پہنچ چکی ہے، یعنی بلوچستان کا تقریباً ہر دوسرا شخص غریب ہے ،یہ وفاق اور صوبائی قیادت کے لیے ایک تازیانہ ہے کہ سی پیک اور مکران کوسٹل ہائی وے جیسے بڑے منصوبوں کے باوجود مقامی آبادی کے حالات کیوں نہیں بدلے؟

اس طرح ہی خیبر پختونخوا میں غربت کی شرح 35.3 فیصد اور سندھ میں 32.6 فیصد ہو چکی ہے، جو کہ ان صوبوں میں گورننس اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کی کہانی سنا رہی ہے۔ پنجاب 23.3 فیصد کے ساتھ نسبتاً بہتر پوزیشن میں دکھائی دیتا ہے، لیکن آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہونے کے ناطے غریب افراد کی اصل تعداد کے اعتبار سے یہ عدد بھی انتہائی تشویشناک ہے۔
یہ غیر مساوی ترقی ملک کے اندرونی استحکام اور صوبائی ہم آہنگی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے ،اس کے ساتھ ہی سوال پیدا ہوتا ہے

کہ آخر ہم اس نہج پر پہنچے کیسے؟ سستی شہرت پر مبنی معاشی پالیسیاں، ٹیکسوں کا غیر منصفانہ نظام جو کہ غریب سے لے کر امیر کو نوازتا ہے اور پیداواری شعبوں پر توجہ نہ دینا، بنیادی وجوہات ہیں،ہمارے معیشت دان اکثر جی ڈی پی (GDP) کی شرحِ نمو، اسٹاک ایکسچینج کے ریکارڈز اور زرمبادلہ کے ذخائر کو معاشی کامیابی کا پیمانہ قرار دے کر بغلیں بجاتے ہیں، لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ معاشی کامیابی کا اصل پیمانہ بلند و بانگ معاشی اشاریے نہیں ،بلکہ عام عوام کا معیارِ زندگی ہے، اگر ملک کی ایک تہائی آبادی دو وقت کی روٹی کے لیے سسک رہی ہے تو آئی ایم ایف کے تعریفی خطوط اور میکرو اکنامک استحکام کے دعوے بے معنی اور مضحکہ خیز لگتے ہیں۔
یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہماری معاشی پالیسیوں عام آدمی کی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں ہو سکی ہیں

،اس حکومت کو معاشی اشارے پر بگل بجانے کے بجائے فوری طور پر غربت کے خاتمے کو اپنی معاشی حکمتِ عملی کا مرکزی ہدف بنانا چاہئے، اب روایتی بجٹ سازی اور کاسمیٹک اقدامات سے کام نہیں چلے گا، بلکہ ہمیں معیشت کے ڈھانچے کو یکسر تبدیل کرنا ہوگا،اس غربت کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنے کے لیے فوری، جامع اور عوام دوست اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں ، زرعی شعبے کی بحالی کے بغیر غربت کا خاتمہ ناممکن ہے،حکومت کو چاہیے کہ وہ چھوٹے کسانوں کو سستے بیج، کھاد اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کرے،اس ملک کا جب تک کسان خوشحال نہیں ہوگا، ملک سے غربت کا خاتمہ ایک خواب ہی رہے گا۔دوسرا اہم قدم چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی سرپرستی ہے،

یہ شعبہ کسی بھی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ کم سرمائے سے زیادہ روزگار پیدا کرتا ہے ،نوجوانوں کو آسان شرائط اور بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں، تاکہ وہ ملازمتیں ڈھونڈنے کے بجائے خود روزگار کے قابل بن سکیں، اس کے ساتھ ساتھ صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست اپنی ترجیحات کو تبدیل کرے،اشرافیہ کے بجائے عوام کے بارے سوچے اورمعیشت کو اشرافیہ کی قید سے نکال کر عوام دوست بنائے، اگر اب بھی فوری اور سخت فیصلے نہ کیے گئے تو غربت کا بڑھتا سیلاب نہ صرف معیشت کو بہا لے جائے گا ،بلکہ ملک میں شدید سماجی و سیاسی انتشار کا سبب بنے گا، اس لیے حکمران عوام کو رلیف دیں ، پیٹرول گیس کی قیمتوں میں حقیقی کمی کر کے عوام کو سانس لینے کا موقع دیں یا پھر ایک ایسی عوامی سونامی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جائیں، جو کہ اقتدار کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دے گا،اس بار عوامی فیصلہ واضح ہے کہ اُن کی جدوجہد صرف حکومت کی تبدیلی کے لیے نہیں، بلکہ اس فرسودہ نظام کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گی، کیونکہ بیدار عوام اب اپنے مقدر کا فیصلہ خودہی کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں