35

خالق کائینات نے کس علم کو سیکھنے کا حکم قرآن میں دیا تھا؟

خالق کائینات نے کس علم کو سیکھنے کا حکم قرآن میں دیا تھا؟

ابن بھٹکلی
۔ +919448000010

“پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے تمہیں پیدا کیا,(اس علم کو جس علم سےخالق کائینات نے) حضرت انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیداکیا”حکم رب کائینات حضرت انسان نے, سائینسی علوم سے, عالم انسانیت پر راج کرنے کی جب جب کوششیں کیں, خالق کائینات نے, دنیا,خود کار انداز چلانے کے اپنے اوصول مطابق, بنا تفرئق مذہب و ملت, دنیوی علوم حصول, کسی بھی نقطہ نظر سے, جو کوئی جستجو تفکر تدبر تحقیق کرتا پایا جاتا تھا, رب کائینات ایک حد تک اسے اسکے مقصد بارآوری میں مدد و نصرت عطا فرماتے رہتے ہیں۔

قرآنی علوم روشنی میں ارض و سماوات اور اسکے درمیان پائی جانےوالی حیات یا حیات سے ماورا کل مخلوقات پر تفکر و تدبر و تحقیق کا جو حکم خاتم الانبیاء سرور کونین محمد مصطفی ﷺپر,اپنی پہلی وحی والے دو احکام, پہلاحکم تحکمی پڑھنے کے لئے, اپنے رب کے نام سے, جس نے اسے پیدا کیا,ٱقۡرَأۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلَّذِي خَلَقَ (1) “انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا” والے حکم ثانی خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِنۡ عَلَقٍ (2) کو اس کے بعد آنے والے تمام احکام قرآنی کی روشنی میں سمجھ کر پڑھنے,تفکر,تدبر تحقیق کئے, اس پر عمل پیرا رہنے کا حکم جو دیا تھا ہم مسلمانوں نے اپنے ابتدائی سلف و صالحین دور خلافت راشدہ سے خلافت عثمانیہ تک, اس حکم ربانی پر عمل پیرا رہے, خداء بزرگ و برتر نے, دنیا کو ہم مسلمانوں کے زیر نگیں رکھے,

ہم مسلمانوں کو پورے تیرہ, ساڑھے تیرہ سو سالوں تک حاکم و خلیفہ انسانیت بنائے,عزت و تکریم سے جینے لایق رکھا تھا۔ اور جب ایام آخری, خلافت خلافت راشدہ سکوت غرناطہ اسپین وسکوت بغداد عراق, نیزخلافت عثمانیہ سکوت استبول ہم مسلمان اپنے اصلی حکم ربانی کو بھولے ہوئے یا ترک کئے ہوئے, دینی علوم ہی پر تحقیق و تدبر کرنے مصروف عمل پائے جاتے رہے اور ہم مسلمانوں نے جہادی جذبات کو بالکیہ ترک کئے, دعوت دین اسلام الاالکفار سے ماوارئیت اختیار کئے,جہاں دین اسلام کو انیک تفکراتی فرقوں میں بانٹ کر رکھ دئیے جانے کا موجب بنے ہیں وہیں کوئے کا گوشت حلال ہے

کہ حرام, رفع یدین و آمین بالجہر ضروری ہے کہ نہیں؟ دین اسلام کی شبیہ بگاڑنے والے,دین اسلام تحقیقات ہی کے مکالموں اور مظاہروں ہی میں مستقبل رہنے لگے اور جرمنی کے صیہونیوں کی طرف سے دریافت کردہ پرنٹنگ پریس دریافت کو, دین اسلام ترویج کے لئے ضروری قرار دینے کے بجائے,نصاری کی تحقیقی دریافت و ایجاد کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دئیے, مسلمانوں کے لئے علوم دین اسلام طباعت و توزیع کو حرام قرار دئیے, حکم ربانی کی اصل روح ہی کے خلاف عمل پیرا ہونے جب لگے

تب پھر, رب کائینات کے غیض و غضب کا ہم مسلمان شکار بنے, امامت عالم انسانیت کے منصب تمکنت سے یہود و نصاری کے حکم کے غلام رہنے,انکےزیر نگیں کردیئے گئے۔
خلافت راشدہ سے خلافت عثمانیہ جب تک ہم مسلمان قرآنی تعلیمات و احادیث کی روشنی میں اسرار رموز ارض و سماوات و جمیع مخلوقات پر تفکرو تدبر و تحقیقات کرتے رہے, ہماری دریافتوں کے آسرے ہی, بعد سکوت استنبول ترکیہ ان سو سالوں میں یہود و ہنود و نصاری دشمنان اسلام نے, دنیوی عصری علوم کے میدانوں میں کس قدر ترقی پزیری اختیار کرلی ہے, ہم اب کے مسلمان فقط انگشت بدنداں,ان یہود و ہنود نصاری کی تحقیقات و تجدیدات کو متحیر العقل فقط تکتے دیکھتے ہی رہنے لائق چھوڑدئے گئے ہیں۔

یاد رہے اس سو سالہ عالم انسانیت پر, یہود و ہنود و نصاری سائینس دانوں,محققوں نے جتنی بھی سائینسی تحقیقات ایجادات کی ہیں وہ سب کے سب قروں اولی کے ہم مسلمان سائینس دانوں محققوں کے تحقیق کر چھوڑے سائینسی اوصول ہی پر ازسر نؤ تفکر تدبر تحقیق نؤ کئے،اتنی ساری کامیابیاں سمیٹے ہوئے ہیں۔ آج کے ہم مسلمان اب بھی دیر آید درست آید اوصول مصداق حکم ربانی بالقرآن آیات اولی، قرآنی تعلیمات ہی کی روشنی میں,اسرار و رموز ارض و سماوات پر تدبر و تفکر و تحقیق کرتے پائے جاتے ہیں تو یقین مانئے, ہم مسلمانوں کو سائینسی دریافت جدید راہ گزر کا کامیاب شہسوار بننے دیر نہ لگے گی۔ وما التوفئق الا باللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں