22

عالمی معیشت پر منڈلاتے سائے !

عالمی معیشت پر منڈلاتے سائے !

امر یکہ ایران جنگ کے عالمی معیشت پر منڈلاتے سائے گہرے ہونے لگے ہیں ،اس پرورلڈ بینک کی کموڈیٹی مارکیٹس آوٹ لُک رپورٹ نے دنیا بھر کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے،یہ رپورٹ محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں، بلکہ عالمی معیشت کے لیے ایک ایسی ”ریڈ الرٹ” ہے کہ جسے نظر انداز کرنا ناممکن ہے، اس رپورٹ نے ان خدشات کو حقیقت کا روپ دے دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی عدم استحکام اب صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہاہے، بلکہ اس کی تپش دنیا بھر کے باورچی خانوں، کارخانوں اور کھیتوں تک پہنچ چکی ہے۔اگر دیکھاجائے تومشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے

عالمی سپلائی چین کے نظام کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ توانائی‘ خوراک اور صنعتی دھاتوں کی قیمتوں میں اضافے کو قابو میں رکھنا اب ممکن نہیں رہاہے ،ورلڈ بینک کے تخمینے کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں رواں سال 24فیصد اضافے کا امکان ہے ،عالمی اشیائے صرف کی قیمتیں 16فیصد تک بڑھ سکتیں ہیں، جبکہ کھاد کی قیمتوں میں 31فیصد اضافہ ہو سکتا ہے ،معاشی ماہرین کے مطابق ایسی صورتحال ترقی پذیر ممالک کیلئے

خاص طور پر تشویشناک ہو سکتی ہے کیونکہ خوراک‘ توانائی اور زرعی لاگت میں اضافے سے کوئی بھی شعبہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہے گا۔اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں پا کستان بھی شامل ہے، پاکستان جیسے ممالک کے لیے، جہاں افراطِ زر پہلے ہی عوام کا کچومر نکال رہا ہے، خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ کسی بڑے سماجی و معاشی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے،

زرعی لاگت میں 31 فیصد اضافے کا مطلب ہے کہ عام کسان کی کمر ٹوٹ جائے گی، اس کا براہِ راست اثر ملک کی مجموعی زرعی پیداوار اور خوراک کی قیمتوں پر پڑے گا،ورلڈ بینک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر کھادوں اور اناج کی سپلائی ایسے ہی متاثر ہوتی رہی تو مزید کروڑوں لوگ فاقہ کشی کا شکار بھی ہو سکتے ہیںور یہ سب کچھ
بحری راستوں کی ناسکہ بندی اور پا بندیوں کے باعث ہورہا ہے۔
اس وقت پوری دنیا کی نظریں خلیجی خطے خصوصاً آبنائے ہرمز پر لگی ہوئی ہیں کہ جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل گزرتا رہا،لیکن اب گزرنے نہیں دیا جارہا ہے ،اس مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نے عالمی تجارتی راستوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملوں اور متبادل راستوں کے استعمال نے فریٹ چارجز میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے، صنعتی دھاتوں کی قیمتوں میں اضافہ اس بات کی دلیل ہے

کہ اب تعمیراتی شعبے سے لے کر ٹیکنالوجی کی صنعت تک، کوئی بھی شعبہ اس لہر سے محفوظ نہیں رہا ہے ،اس پرماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومتیں صرف ہنگامی اقدامات تک محدود نہ رہیں، بلکہ طویل مدتی ”بحران مینجمنٹ” کی حکمتِ عملی اپنائیںتو ہی درپیش بحران سے بچا جاسکے گا۔
یہ بات عالمی برادری کو سمجھنا ہوگی کہ معاشی استحکام کا راستہ، سیاسی استحکام سے ہی ہو کر گزرتا ہے، اگر مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں میں جاری تنازعات کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا، تو مہنگائی کا جن قابو سے باہر ہو جائے گا،آج دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے کہ جہاں اسے معاشی خود انحصاری اور توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف تیزی سے منتقل ہونا ہوگا، ورنہ ورلڈ بینک کی ”خطرے کی گھنٹی” ایک ایسی عالمی کساد بازاری میں بدل سکتی ہے کہ جس سے نکلنے میں شاید دہائیاں لگ جائیں، اب سوال یہ نہیں ہے کہ کیا قیمتیں بڑھیں گی، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا عالمی قیادت اس طوفان کو روکنے کے لیے کتنی سنجیدہ ہے اور اس طوفان کا مقابلہ کرنے کیلئے کو نسی مشترکہ موثر حکمت عملی اپنارہی ہے ۔
مختصر یہ کہ عالمی معیشت پر منڈلاتے گہرے سائے کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہیں، اس بدترصورتحال سے نمٹنے کے لیے دنیا کو ”معاشی قوم پرستی” (Economic Nationalism) کے بجائے ”عالمی تعاون” کی ضرورت ہے،اس خطے میں امن لا نے کی ضرورت ہے ،

اگر عالمی طاقتوں نے اپنے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر قیام امن اور معاشی استحکام کے لیے قدم نہ اٹھائے، تو یہ سائے مزیدگہرے ہو کر ایک طویل عالمی کساد بازاری (Recession) کی شکل اختیار کر سکتے ہیں،یہ وقت کا تقاضا ہے کہ معاشی پالیسیوں کو انسانی بنیادوں پر استوار کیا جائے تاکہ ترقی کا ثمر طاقت کے زور پر صرف چند ہاتھوں تک محدود نہ رہے، بلکہ اس سے ہر کوئی استفادہ کر سکے ، اس میں ہی سب کی بھلائی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں