حلقہ نمبر 2 خالق آباد تا پلاک حالیہ انتخاب میں سیاسی جوڑ توڑ شروع
تحریر: سید صابر حسین راجوروی
حلقہ نمبر 2 خالق آباد تا پلاک حالیہ انتخاب میں سیاسی جوڑ توڑ شروع ہو چکا ہے ۔ابھی الیکشن شیڈول کا اعلان نہیں ہوا ۔ اُمیدواروں نے نماز جنازہ ،فاتحہ خوانی اور ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی اور جوڑ توڑ شروع کر دیا ہے ۔
ن لیگ امیدوار ریٹائر کرنل محمد معروف نماز جنازہ ،فاتحہ خوانی میں سب سے آگے ۔ سابق امیدوار اسمبلی محمد نذیر انقلابی نے کارنر میٹنگ اور پریس کانفرنسوں کا آغاز کر دیا ہے ۔ ن لیگ کے تیسرے امیدوار محمد عظیم بخش مہاجرین آبادیوں میں بیٹھنے کی جگہ تلاش کر رہے ہیں ۔
وزیر حکومت قاسم مجید نے عوامی رابطہ مہم بھی بھرپور انداز سے شروع کی ہوئی ہے ۔ سکیمیں کے علاوہ تحصیل ہسپتال چکسواری اور اسلام گڑھ میں 2 تحصیل ہسپتال ،50 بیڈز پر مشتمل کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے ۔
4 مئی دن 4 بجے اسلام گڑھ تحصیل ہسپتال کا افتتاح بھی کر رہے ہیں ۔ن لیگ کے دور حکومت سے محمد نذیر انقلابی کی 11 رکنی وفد نے اس وقت وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان ، سابق وزیراعظم چوہدری عبد المجید نے مہاجرین قبضہ کی بنا پر 740 کنبہ جات کو 2000 روپے مالکانہ حقوق دیے ۔ان کو کینسل کر کے 5 لاکھ کا مہاجرین کو ٹیکہ لگایا ۔مہاجرین نے بھرپور احتجاج بھی کیا ۔اس وقت ن لیگ کے وزیر ترقیات چوہدری محمد سعید کی سابق وزیراعظم چوہدری عبد المجید نے کلاس کی ،جس پر وزیر حکومت نے سابق وزیراعظم سے وعدہ کیا کہ 5 لاکھ روپیہ کا فیصلہ واپس لیں گے لیکن واپس نہیں لیا گیا اب مہاجرین آبادیوں سے ن لیگ کو ووٹ ملنے مشکل ہیں ۔وزیر حکومت قاسم مجید نے وعدہ کیا کہ 5 لاکھ روپیہ آڈر کینسل کراؤں گا ۔اب دیکھتے ہیں مہاجرین کے اس اہم مسئلہ کو حل کیا جاتا کہ نہیں ۔
وزیر حکومت بیڈ بٹی میں بھرپور انٹری پا رہے ہیں ۔ن لیگ کے ٹکٹ کے حوالہ سے محمد عظیم بخش نے پچھلے انتخاب میں جماعت کی خلاف ورزی کی ،الیکشن میں حصہ لیا ۔دوسرا بلدیاتی انتخابات میں بری طرح شکست سے دو چار ہوئے ،اگر جماعت نے پچھلے انتخاب کو سامنے رکھا تو ٹکٹ ملنا مشکل ہے ۔
وزیر حکومت قاسم مجید خوشامدیوں سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو کے الیکشن بھاری اکثریت سے جیت سکتے ہیں ۔پی ٹی آئی کے امیدوار ظفر انور بھی نماز جنازہ ، فاتحہ خوانی میں بھرپور جا رہے ہیں ۔ان کا بنک ووٹ موجود ہے ۔بلکہ ایک سابق امیدوار سائیں ذوالفقار علی اب ان کے قافلے میں شامل ہیں ۔
ن لیگ امیدوار محبوب اصغر جو لوکل کونسل منتخب نہیں ہو سکتے ،امیدواروں میں نام شامل کرانے کے لیے ٹکٹ کے لیے درخواست دے رکھی ہے ۔حلقہ نمبر 2 میں ن لیگ کے امیدوار انتخاب میں نظر آتے ہیں ۔ اصل مقابلہ پی ٹی آئی کے امیدوار ظفر انور اور وزیر حکومت قاسم مجید کا ہو گا ۔ قاسم مجید نے اگر براہ راست ووٹر کے ساتھ رابطہ مہم اور مہاجرین آبادیوں کا بڑا مسئلہ حل کر دیا تو بھاری اکثریت سے کامیاب ہو سکتے ہیں ۔
قاسم مجید کو اپنے والد سابق وزیراعظم چوہدری عبد المجید نے کالج ، یونیورسٹیوں ، تعلیمی بورڈ کی عمارت ،ڈسٹرکٹ ہسپتال نئی عمارت ، تین میڈیکل کالج جو آزاد کشمیر عوام کے لیے بڑا تحفہ دیے ۔ ان کارناموں کی وجہ سے بھی ووٹ مل رہا ہے ۔پی ٹی آئی کا عمران خان کی وجہ سے بنک ووٹ موجود ہے لیکن موجودہ حالات میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے