38

تیل کی عالمی سیاست اور پاکستان۔۔ توانائی کا مستقبل

تیل کی عالمی سیاست اور پاکستان۔۔ توانائی کا مستقبل

تحریر: عرفان مصطفٰی صحرائی
دنیا اس وقت توانائی کے ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں عالمی سیاست، جنگیں، معاشی مفادات اور ماحولیاتی تقاضے آپس میں گتھم گتھا ہو چکے ہیں۔ تیل، جو گزشتہ ایک صدی سے عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، اب صرف ایک ایندھن نہیں بلکہ طاقت، اثر و رسوخ اور بقا کی علامت بن چکا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک، جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتے ہیں،

ان عالمی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ خاص طور پر اوپیک کے فیصلے، مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات، اور روس-یوکرین جنگ جیسے عوامل پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی اور مجموعی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔اوپیک، جس میں دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک شامل ہیں، عالمی تیل کی رسد کو کنٹرول کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ جب یہ تنظیم اپنی پیداوار کم کرتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، جبکہ پیداوار بڑھانے سے قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔

تاہم، اوپیک کے فیصلے ہمیشہ سادہ معاشی اصولوں پر مبنی نہیں ہوتے بلکہ ان میں سیاسی مفادات، عالمی تعلقات اور رکن ممالک کے داخلی حالات بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی کبھار عالمی منڈی میں طلب کم ہونے کے باوجود قیمتیں زیادہ رہتی ہیں یا اس کے برعکس بھی ہوتا ہے۔ پاکستان، جو اپنی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، ان فیصلوں سے براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔ جب عالمی قیمتیں بڑھتی ہیں تو حکومت کو یا تو سبسڈی دینا پڑتی ہے یا عوام پر قیمتوں کا بوجھ ڈالنا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ، جو دنیا کے تیل کے ذخائر کا مرکز ہے،

ہمیشہ سے عالمی توانائی کی سیاست کا اہم ترین خطہ رہا ہے۔ یہاں ہونے والے تنازعات، جنگیں اور کشیدگیاں تیل کی قیمتوں میں فوری اور شدید ردعمل پیدا کرتی ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً ایک تہائی تیل کی ترسیل ہوتی ہے، کسی بھی قسم کی کشیدگی کا مرکز بن جائے تو عالمی منڈی میں خوف و ہراس پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر اس اہم راستے کو بند یا محدود کر دیا جائے تو تیل کی سپلائی متاثر ہوتی ہے اور قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں اس علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے بارہا عالمی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کا براہِ راست اثر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑا ہے۔
اسی طرح روس-یوکرین جنگ نے عالمی توانائی کے نظام کو ایک نیا رخ دیا ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں یورپ نے روسی تیل اور گیس پر اپنا انحصار کم کرنے کی کوشش کی، جس سے عالمی سطح پر توانائی کی طلب اور رسد کا توازن بگڑ گیا۔ اس صورتحال نے نہ صرف قیمتوں میں اضافہ کیا بلکہ نئے سپلائی راستوں اور معاہدوں کو بھی جنم دیا۔ پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں، اس تبدیلی سے مزید مشکلات میں گھر گئے۔ درآمدی بل میں اضافہ ہوا، کرنسی پر دباؤ بڑھا، اور مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ عالمی سطح پر قابلِ تجدید توانائی کی طرف تیزی سے رجحان بڑھ رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ فوسل فیولز پر انحصار نہ صرف ماحولیاتی تباہی کا باعث بن رہا ہے

بلکہ معاشی عدم استحکام کو بھی جنم دے رہا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں بار بار آنے والے جھٹکے ممالک کو متبادل توانائی ذرائع جیسے شمسی، ہوا اور پن بجلی کی طرف منتقل ہونے پر مجبور کر رہے ہیں۔ اگرچہ ترقی یافتہ ممالک اس تبدیلی میں تیزی دکھا رہے ہیں، لیکن پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ عمل سست اور چیلنجنگ ہے، جس کی وجہ مالی وسائل کی کمی، پالیسی میں عدم تسلسل، اور تکنیکی مسائل ہیں۔
اگر ہم 2026 اور اس کے بعد کے سالوں کی بات کریں تو تیل کی قیمتوں کے بارے میں کوئی حتمی پیشگوئی کرنا ممکن نہیں۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر عالمی معیشت مستحکم رہتی ہے اور اوپیک اپنی پیداوار کو محدود رکھتا ہے تو قیمتیں بلند رہیں گی۔ دوسری طرف، اگر قابلِ تجدید توانائی کا استعمال تیزی سے بڑھتا ہے اور الیکٹرک گاڑیوں کا رجحان عام ہو جاتا ہے تو تیل کی طلب میں کمی آ سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں استحکام یا کمی آ سکتی ہے۔ 2030 تک کا منظرنامہ بھی اسی غیر یقینی کا شکار ہے، جہاں ایک طرف توانائی کی منتقلی جاری ہے اور دوسری طرف جغرافیائی سیاست اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔
گیس کی قیمتوں کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں۔ عالمی سطح پر قدرتی گیس کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جو کوئلے سے گیس کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ تاہم، سپلائی چین میں رکاوٹیں، سیاسی تنازعات، اور انفراسٹرکچر کی کمی گیس کی قیمتوں کو غیر مستحکم رکھتی ہیں۔ پاکستان میں گیس کی قلت پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے، اور مستقبل میں اس کے مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اگر عالمی قیمتیں بلند رہتی ہیں تو درآمدی ایل این جی مزید مہنگی ہو جائے گی، جس کا اثر صنعتی پیداوار اور گھریلو صارفین دونوں پر پڑے گا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مستقبل میں پیٹرول اور گیس کی قیمتیں کم ہوں گی؟ اس کا جواب سادہ نہیں۔ اگرچہ بعض حالات جیسے آبنائے ہرمز کا کھلنا یا اوپیک کی جانب سے پیداوار میں اضافہ قیمتوں میں عارضی کمی لا سکتا ہے، لیکن طویل المدتی طور پر قیمتوں کا انحصار عالمی معاشی حالات، سیاسی استحکام، اور توانائی کی پالیسیوں پر ہوگا۔ اس لیے یہ توقع رکھنا کہ قیمتیں مستقل طور پر کم ہو جائیں گی، حقیقت پسندانہ نہیں۔
پاکستان کے لیے اس صورتحال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنی توانائی پالیسی کو ازسرنو ترتیب دے۔ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا، مقامی وسائل کو بروئے کار لانا، اور قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر پاکستان شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو فروغ دے، تو نہ صرف وہ اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے بلکہ عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے بھی خود کو کسی حد تک محفوظ رکھ سکتا ہے۔

مزید برآں، توانائی کے استعمال میں کفایت شعاری اور مؤثر منصوبہ بندی بھی انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان میں توانائی کا ضیاع ایک بڑا مسئلہ ہے، جسے بہتر انتظام اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے۔ اگر حکومت اور عوام دونوں مل کر توانائی کے بہتر استعمال کی طرف توجہ دیں تو نہ صرف اخراجات میں کمی ہو سکتی ہے بلکہ ماحول پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ تیل کی عالمی سیاست ایک پیچیدہ اور غیر یقینی کھیل ہے، جس میں پاکستان جیسے ممالک کو ہمیشہ محتاط رہنا ہوگا۔ اوپیک کے فیصلے، عالمی تنازعات، اور توانائی کی بدلتی ہوئی ترجیحات آنے والے برسوں میں بھی پاکستان کی معیشت کو متاثر کرتے رہیں گے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم وقتی حل کے بجائے طویل المدتی حکمت عملی اپنائیں، تاکہ نہ صرف موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے بلکہ مستقبل میں ایک مستحکم اور خود کفیل توانائی نظام کی بنیاد بھی رکھی جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں