ہر انسان اپنے اخلاق و کردار کی رونمائی جگ ظاہر کرتا پایا جاتا ہے
ابن بھٹکلی
۔ 9448000010
یہ تو ہم مسلمانوں کا وصف و ظرف ہے کہ ہم مسلمان، آفات آسمانی، انتہائی ضرورت کے وقت، اپنے آپسی گلے شکوں کو بھلائے نظر انداز کئے،بنا تفاوت مذہب و ملت، برادران وطن کی مدد و نصرت صدا کرتے پائے جاتے ہیں۔ چاہے وہ 2002 دانستہ سنگھیوں کے کئے گئے گجرات دنگوں میں، مسلم نساء کو گجرات کی سڑکوں پر ننگا جلوس نکالنے مجبور کیا گیا ہو اور بیسیوں مسلم نساء کا ساموہک بلاتکار کئے، انہیں زندہ آگ کے الاؤ میں جلانے والے واقعات ہوئے ہوں، ان گجرات دنگائیوں کو،اس 2002 والے گجرات دنگوں سے ایک سال پہلے، 26 جنوری2001 گجرات بھوج بھوکم متاثرین،ھندو برادران وطن کی مدد کرتے
،ٹوپی بردار گجراتی مسلمانوں کی خود انکی مدد و نصرت کرتی یاد بالکل ہی نہ رہی تھی۔ یا نیپال ھندو بھائیوں کے مذہبی جلوس دوران مسلم مسجد پر پھتراؤ کئے،مسجد کو آگ لگائے، آسمانی ربانی کتاب قرآن مجید تک کو جلائے واقعہ کے کچھ دنوں بعد ہی، نیپال سیلاب زد علاقوں میں، کھانا پانی کپڑے لتھے پر مشتمل راحت کاری امدادی سامان فری تقسیم کرتے داڑھی بردار مسلم ہی کیوں نہ ہوں، ہر انسان اس میں انکے والدین، انکے مذہبی پیشوا،اساتذہ کرام کی ان میں ودیعت کردہ افکار و اقدار ہی کے بموجب،اپنوں کے درمیان عمل آوری کرتے پائے جاتے ہیں۔دنیا کا ہر مذہب چاہے وہ اسلام ہو سناتن دھرم ہو، مسیحیت ہو،
یا یہودئیت یا کوئی اور مذہب ، ہر آسمانی مذہب،ہم انسانوں کے درمیان محبت، ایثار قربانی کا جذبہ ہی پروان چڑھانے کا درس دیتا پایا جاتا ہے،سوائے یہودئیت والے ذایونسٹ تفکرات ہوں یا سنگھی ھندو والے وحشی نفرتی جذبات، یہ صرف ایسے گروہ یا فرقے ہیں جو اپنی اولادوں کے صاف و شفاف معصوم اذہان میں، بچپن سےہی آسمانی مذہبی تعلیمات کے نام سے، آپسی نفرت و دشمنی پروان چڑھاتے پائے جاتے ہیں۔اور اپنے اسکولی بچوں کو تک لٹھ، تلوار و نیزے، ترشول و آتشی بندوق چلانے کی غیر قانونی تربیت دئیے، سالوں مسلسل محنت سے، انکے
معصوم اذہان میں، ایک مخصوص فرقے مسلمان و اسلام کے خلاف زہر افشانی سے, ان میں کوٹ کوٹ کر مسلم مخالف جذبات و دشمنی کی جڑیں مضبوط تر کرتے پائے جاتےہیں۔ سب سے اہم یہودیت والا زایونسٹ فرقہ ہو یا سناتن دھرمیوں والے، سنگھی ذہنت جذبات ہوں، دونوں جنونی فرقے اپنے مشترکہ دشمن مسلمان اور اسلام کے خلاف ہی، اپنی عوام کی ذہن سازی کئے، انہیں مذہبی جنونی بنا، مسلمانوں پر حملہ آوری کی کھلم کھلا نہ صرف تربیت دیتے پائے جاتے ہیں
بالکہ دھار دار نیزہ،ترشول تلوار تک، فری میں اپنے ھندو بھائیوں میں گھر گھر تقسیم کئےکروائے اور انہیں وقت آنے پر مسلمانوں کا قتل عام کرنے کی ہدایت و نصیحت کرتے پائے جاتے ہیں۔ اور سب اہم ان دونوں مذہبی جنونی فرقوں نے، اپنے گجرات مسلم قتل عام و غازہ فلسطینی مسلمانوں کاقتل عام کئے ہی، اپنوں کے درمیان، اپنی پزیرائی و مقبولیت دگنا چوگنا کی ہوئی ہے۔ اسرائیلی نیسنل سیکیورٹی وزیر”اتمام بن گویر” بغیر کسی ضرورت و دشمنی کے روزانہ کی بنیاد پر فلسطینی عوام مرد و نساء بچوں کے قتل عام کی دعوت دیتا، انسانیت عالم کے سامنے شرمسار ہونے تک پرواہ نہیں کرتا ہے تو وہیں عالم انسانیت کی سب سے بڑی سیکیولر جمہوریت کا منتخب بھارتیہ پرائم منسٹر, خود ساختہ اہشور کااوتار،مہان مودی جی، اپنے عوامی تقریروں میں تک، عوام کے پہناوے کو دیکھ ان سے سلوک احسن یا سلوک ناروا برتنے کی سرکاری امن عامہ قائم کرتی پولیس و افواج کو نصیحت یا سیکھ دیتے پائے جاتےہیں۔
سابقہ 12 سالہ مودی یوگی رام راجیہ میں، دیش کی سب سے بڑی اقلیت ہم 300 ملین مسلمانوں پر، ظلم بیجا بربریت کئے جاتے تناظر میں بھی، قدرتی آفات پس منظر میں، ہم امن پسند مسلمانوں کی طرف سے، دیش کے اکثریتی ھندو آبادی کی ہر اعتبار مدد و نصرت کرتے دیکھ کر بھی کروڑہا کروڑ سناتن دھرمی ھندو برادری مسلم منافرتی سنگھیوں ہی کی ہمنوائی کرتی پائی جاتی ہے تو، گنگا جمنی پس منظر والے دیش بھارت سے،تمام 300 ملین ہم مسلمانوں کا خاتمہ کیا جانا تو ناممکنات عمل ہے، لیکن سناتن دھرمیوں کی اس منافقانہ نفرتی چال سے 300 ملین مسلمان کروڑہا کروڑ سناتن دھرمیوں سے صدا الجھے جھگڑتے رہے
، چمنستان بھارت کی ترقی پزیری نہ صرف متاثر ہوگی بالکہ 2014 سے پہلے کانگریسی من موہن سرکار کے وقت کی سب سے تیز ترقی پزیر بھارت کو، 2030 تک وشؤگرو بناتی کانگریسی اعلی قیادت کا خواب، سنگھی ھندوؤں کے مہاویر ایشور کے اوتار نفرتی سنگھی مودی یوگی کے بارہ سالا سنگھی رام راجیہ میں، اپنے غرہب و چھوٹے پڑوسی ملکوں سےپچھڑے، بھارت کو وشؤ گرو بنانے کا کانگریسی خواب مشکل تگ ہوتا چلا جائیگا۔
ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں، کہ گنگا جمنی اس بین المذہبی دیش بھارت میں، دیش کی سیکیولر سناتن دھرمی عوام نے، ان نفرتی سنگھیوں کو کبھی بھی، اپنے ووٹوں سے اقدار پر نہیں بٹھایا ہے بلکہ یہ 2014 عام انتخاب بھی،سنگھی پونجی پتیوں اور امریکی ملینس آف ڈالر بہائے جاتے،پس منظر میں، سنگھی واجپائی زمانے میں سرکاری نوکریوں، افسر شاہوں پر بٹھائے گئے،سنگھی ذہنیت آفیسرز کی مدد سے، ای وی ایم ھیکنگ لوٹ مار سے مہان مودی جی کو ھند کے اقتدار اعلی پر بٹھایا گیا تھا اور اس وقت سے اب تک تمام ہوئے
ریاستی و مرکزی انتخاب بھی ای وی ایم چھیڑ چھاڑ سے ہی جیتے گئے تھے۔ حالیہ دہلی جنتر منتر پر اعلی تعلیم یافتہ یواؤں کے ساتھ، گجرات تڑی پار ہوم منسٹر ھند کے غنڈوں کے ہاتھوں درگت ہوتی دیکھ اور دیش بھر میں بڑھتی بے روزگاری مہنگائی کی مار جھیل رہے 1500 ملین بھارت واسیوں کے غم و غصہ کو دیکھ یہ اندازہ لگانا آسان سا ہوجاتا ہے کہ یہ سنگھی مودی سرکار کچھ دنوں کی فقط ہوکر رہ گئی ہے ہر اندھیر نگری کےبعد کانگریسی اجول، اگتے بھارت کو دیکھا جاسکتا ہے۔ اللہ ہی الأمان و الحافظ اس ہزاروں سالہ گنگا جمنی مختلف المذہبی بھارت کے لئے۔ وما التوفیق الا باللہ