پشتونوں کے خون سیلاب کی طرح بہائے گئےہم پوری دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ پشتون انصاف دار قوم ہے ،محمود خان اچکزئی 202

پشتونوں کے خون سیلاب کی طرح بہائے گئےہم پوری دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ پشتون انصاف دار قوم ہے ،محمود خان اچکزئی

پشتونوں کے خون سیلاب کی طرح بہائے گئےہم پوری دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ پشتون انصاف دار قوم ہے ،محمود خان اچکزئی

گزشتہ چالیس سالوں سے پشتونوں کے سر کا ٹ دئیے جارہے ہیں پشتونوں کے خون سیلاب کی طرح بہائے گئے ایسی جنگ کبھی کسی انسانیت میں نہیں ہوئی اسکے باوجود بھی پشتون دشمن قوتوں کا عزم ہے کہ پشتونوں کو صفحہ ہستی سے مٹائے جائے ہم پوری دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ پشتون انصاف دار قوم ہے ،محمود خان اچکزئی

پشین (محیب ترین) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی چیئرمین محمود خان اچکزئی نے انتخابی مہم کے حوالے سے تاج لالا فٹ بال گراؤنڈ میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چالیس سالوں سے پشتونوں کے سر کا ٹ دئیے جارہے ہیں پشتونوں کے خون سیلاب کی طرح بہائے گئے ایسی جنگ کبھی کسی انسانیت میں نہیں ہوئی اسکے باوجود بھی پشتون دشمن قوتوں کا عزم ہے کہ پشتونوں کو صفحہ ہستی سے مٹائے جائے

ہم پوری دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ پشتون انصاف دار قوم ہے بعض قوتیں پشتون عوام کو ختم کرنے کے درپے ہیں پشتونخوامیپ پر الزامات لگائے گئے کہ انہوں نے کچھ پیسوں کے عیوض ملک کا سودہ کیا ہے ایسے پیسے ہمارے ماں باپ کیلئے زہر قاتل بنے جس سے ہمارے وطن کی ساکھ کو نقصان پہنچیں پاکستان کا سودہ نہ ہم نے فرنگی نہ مارشل لاء اور نہ کسی طاقتورپنجابی کیساتھ کیا ہے اور نہ کسی ملک دشمنوں سے کبھی پاکستان کا سودہ کیا ہے

وطن ہماری ماں ہے پاکستان ہمیں روٹی اور عزت دیتی ہے دشمن ہمارے خلاف پروپیگنڈے کررہے ہیں ہم انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ ہم بھی زبان رکھتے ہیں ہمیں کمزور نہ سمجھا جائے ہم کسی کی برائی نہیں چاہتے عام انتخابات میں جیت ایک بار پھر ہماری مقدر بنے گی پارٹی میں دن بہ دن لوگوں کی جوق درجوق شمولیت سے صاف واضح ہے کہ عوام نے پشتونخوامیپ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے

بدنیتی کی سیاست کو دفنا چکے ہیں ہماری کسی پارٹی سے کوئی اختلاف نہیں پشتونخوامیپ پر پتھر برسائے جارہے ہیں لیکن اس کے باوجود صبروتحمل کو اپنایا گیا ہے ہمیں برا بھلا کہنے والوں کو اللہ ہدایت دیں کیونکہ ہم کسی کی دل آزاری نہیں کرنا چاہتے پشتونخوامیپ اس وقت وجود میں آیا جب تمام تر محنت کے باوجود خانشہید عبدالصمد خان نے کئی دفعہ جیلیں کاٹی لیکن بدقسمتی سے مذاکرات کے میز پر یہ پشتون صوبہ بلوچوں میں شامل ہوا اور نام بلوچستان رکھا گیا

خانشہید عبدالصمد خان جہنوں نے برصغیراورپاک و ہند کی سیاست میں کئی برس گزاری جس میں قائد اعظم محمد علی جناح گاندھی نیرو اور باچا خان شامل تھے واحد خانشہید نے مجبوراً یہ کہا کہ پشتون اکثریتی علاقے جو اپنی وجود رکھتے ہیں پھر یہ کیسا بلوچستان ہے تو اکثر خانشہید کے اس بات سے متفق نہ تھے کہتے تھے کہ خانشہید پشتون بلوچ کو لڑا رہے ہیں اسی بات پر خانشہید نے باچاخان سے 60سالہ دوستی ختم کردیا اور بلوچوں کیساتھ دوستی بھی کو خدا حافظ کہہ دیا

خانشہید نے واضح کہا کہ پشتون وطن کو واپس لیکر رہینگے جس کیلئے تحریک شروع کردی کہ یہ پشتون کی سرزمین ہے بلوچوں کی نہیں وہ اشخاص کسی صورت پشتونخوامیپ کے کا رکن نہیں ہوسکتے جو دوسروں کے حق پر قبضہ جمارکھتے ہو یا اپنے حق دوسروں پر قربان کرتے ہو

بلوچ ماما ہم اورآپ بھائی بھائی ہے اگر نیک نیتی اور خوشحالی سے یہاں ہم اور آپ رہنا ہے توہمارا اور اپکا حدود معلوم ہے بلوچ ماما ایک بھائی آپ اور ایک بھائی ہم ہے نفع و نقصان دونوں مشترکہ ہونے چائیے برابری کے بنیاد پر ہمیں ایک دوسرے کو تسلیم کرنا ہوگا اگر اس پر آپ ہم سے اتفاق نہیں کرتے تو پھر پشتونخوامیپ اس صوبے کو پرانے چارپائی کی طرح اکھاڑ دینگے اور اپنی طاقت سے اپنا صوبہ بنائینگے ہم اس وطن میں رہنا چاہتے ہیں

پاکستان ہمارا ملک ہے پاکستان پشتون سندھی سرائیکی پنجابی کی مرضی سے بنایا ملک ہے جو اس وقت ایک نازک اور خطرناک موڑ پر کھڑا ہے پاکستان کو بچانے کا واحد راستہ فوری انصاف کی فراہمی ہے یہاں آئین کی حکمرانی اور قانون کی پاسداری اور پارلیمنٹ کی بالادستی وقت کا تقاضہ ہے یہاں پارٹی کی شکل میں کچھ عسکری قوتیں پیدا کئے گئے ہیں جسکو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم ایوب خان ضیاء الحق مشرف کا مقابلہ کر چکے ہیں تو آپ ہمارے لئے کیا ہو انسان کا قتل دوسروں کا گھر خراب کرنا مسلمان کو دھوکہ دینا سراسر ظلم ہے کسی کو کمزور سمجھنا اور اس پر ظلم کے پہاڑ گرانا انسان دشمن اقدام ہے

مخالفت کرتے ہیں اپنے حق کو حاصل نہ کرنا بے غیرتی ہے ظلم اور بے غیرتی نارواہے اللہ اس مذموم اور انسان دشمن اقدامات کو اپنانے کی توفیق نہ دیں ہم فوج کے جرنیلوں اور بریگیڈئیرز کو منت کرتے ہیکہ وہ الیکشن میں مداخلت نہ کریں کیونکہ سیاست میں اپ حضرات کا کوئی عمل دخل نہیں

پاکستان اس وقت سخت حالات میں ہے موجودہ ملک 1970کی طرح اب نہیں رہا ہم پاکستان کے مخالف نہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں گزشتہ چار سال صوبے میں حکومت کا حصہ بنے گورنرشپ بھی ہماری تھی ہمارے دشمن قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر کہے کہ ہم نے سرکار کا سہارا لیتے ہوئے انہیں کوئی نقصان پہنچایا ہو غلط کو غلط اور ظالم کو ظالم ہر حال میں کہتے رہیں گے۔

پشین وہ ضلع ہے جہاں کے سردار کریم خان ترین (مرحوم)نے ساتھ دیکر مجھے ایوان تک پہنچایا پشین اولیاء کرام کی سرزمین ہے جو ہوا سو ہوا اب یہاں کے عوام نے پشتونخوامیپ کا ساتھ دیتے ہوئے ہمیں کامیابی دلانی ہوگی یہ الیکشن خاص الیکشن ہے انشاء اللہ سرخرو ہونگے۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں