سرحد پار ڈرون حملے اور پا کستان کا جوابی ردعمل !
سرحد پار ڈرون حملے اور پا کستان کا جوابی ردعمل !
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات ایک بار پھر ایسے موڑ پر پہنچ گئے ہیں کہ جہاں چند ڈرونز کی پرواز محض ایک عسکری واقعہ نہیں رہی ہے، بلکہ اس کے پیچھے موجود پورا علاقائی سکیورٹی بحران نمایاں ہو گیا ہے، 23 ستمبر کو پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کی جانب سے آنے والے آٹھ ڈرونز کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد ایٔر ڈیفنس نظام نے ناکارہ بنا دیاہے ،سکیورٹی ذرائع کے مطابق چار ڈرونز طورخم کے قریب، جبکہ چار کوہٹ کے سرحدی و پہاڑی علاقوں میں گرائے گئے ہیں،اس کے جواب میں پا کستان نیافغانستان میں ڈرونز کی لا نچنگ اور ذخیرہ کرنے والے دس مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا کہ جب چند روز قبل پاکستان افغانستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائی کر چکا تھا، پاکستان کی وزارتِ اطلاعات کے مطابق 21 ستمبر کی کارروائی میں تین اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور 28 دہشت گردوں کہ جن میں خودکش حملہ آور بھی شامل تھے، کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا، دوسری جانب افغان حکام نے پاکستانی کارروائیوں کو جارحیت قرار دیا اور اقوام متحدہ نے ان حملوں میں شہری ہلاکتوں کی اطلاع دی۔یوں دیکھا جائے تو 23 ستمبر کے ڈرون واقعات کسی ایک دن کی اچانک کشیدگی نہیں، بلکہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری ایک بڑے سکیورٹی چکر کی اگلی کڑی ہیں۔
اس کڑی کا دوسرا کنارہ بھارت سے جا ملتا ہے ، بھارت دہشت گردوں کی نہ صرف سر پرستی کررہا ہے ، بلکہ ان کی معاونت بھی کررہا ہے ،اس لیے پا کستان کیلئے ضروری ہو گیا ہے کہ ان کے تھکانوں کا خاتمہ کیا جائے ،پاکستانی حکام کی جانب سے مسلسل موقف اختیار کیا جارہا ہے کہ ان کی کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف ہیں اور ان کا ہدف افغان عوام یا افغانستان کی ریاست نہیں، بلکہ وہ عناصر اور انفراسٹرکچر ہیں کہ جنہیں پاکستان اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، 21 ستمبر کی پاکستانی کارروائی کے بارے میں بھی وزارتِ اطلاعات نے کہا تھا کہ اہداف کو انٹیلی جنس کی بنیاد پر منتخب کیا گیا ہے اور اس بار بھی کہا جارہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ احتیاط برتی گئی، تاکہ شہری نقصان سے بچا جا سکے،افغانستان کی سر زمین سے پا کستان پر حملے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
افغان طالبان حکومت پاکستان کے ان الزامات کو تسلیم نہیں کررہی ہے، 23 ستمبر کے ڈرون واقعے کے بعد افغان ذرائع نے پاکستانی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان فضائیہ نے پاکستان کے خلاف کوئی ڈرون حملہ نہیں کیا ہے،یہی وہ مقام ہے کہ جہاں جنگی بیانیے اور قابلِ تصدیق شواہد کے درمیان فرق اہم ہو جاتا ہے، دونوں جانب سے الزامات سامنے آ رہے ہیں، مگر خطے کے مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ ہر بڑے دعوے کو ممکن حد تک آزادانہ شواہد، ملبے کے فرانزک تجزیے، جغرافیائی معلومات اور قابلِ اعتماد انٹیلی جنس سے جانچا جائے، کیونکہ جدید جنگ میں صرف میزائل اور ڈرون نہیں لڑتے؛ بیانیے بھی لڑتے ہیں۔
اس وقت پا کستان کا سب سے بڑا چیلنج ہے کہ افغانستان میں موجود مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کو اپنی سرزمین تک پہنچنے سے کیسے روکا جائے، گزشتہ دنوں کوہاٹ میں ہونے والے مہلک حملے اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات اور اب ڈرون حملے نے اس مسئلے کو مزید سنگین کر دیا ہے ،پاکستان ان حملوں کے تانے بانے افغانستان میں موجود گروہوں سے جوڑتا ہے، جبکہ کابل ایسے الزامات کو مسترد کرتا آرہاہے تو پھر افغانستان کی سر زمین کا استعمال کون کررہا ہے اور ان کو کس نے روکنا ہے ،یہ افغان حکو مت کا کام ہے ، مگر افغان حکو مت ان گروہوں کے خلاف کاروائی کر نے سے گر یزاں ہے تو پا کستان ہی ان کے خلاف کاروائی کرے گا؟
اگر دیکھا جائے تو ایک عرصے سے پا کستان خطے میں امن مذاکرات اور تعمیری روابط کیلئے پر عزم رہا ہے ، لیکن اس امن کی خواہش کو کمزوری سمجھا جارہا ہے ، اس لیے ہی بات درندازی سے ڈرون حملوں تک پہنچ گئی ہے ، 23 ستمبر کے واقعات میں پاکستان کا ایٔر ڈیفنس آٹھ ڈرونز کو روکنے میں کامیاب رہا، جو کہ پاکستانی حکام کے مطابق بروقت نگرانی اور فضائی دفاعی تیاری کا نتیجہ تھا، لیکن دفاعی کامیابی کا اگلا امتحان یہ ہوگا کہ مستقبل میں ایسے حملوں کی تعداد اور صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے یا نہیں،کیونکہ آٹھ ڈرونز کو گرانا ایک tactical کامیابی ہو سکتی ہے، لیکن اگر لانچنگ کا نظام، سپلائی چین، آپریٹرز اور معاون نیٹ ورک برقرار رہیں تو مسئلہ بنیادی طور پر حل نہیں ہوگا۔
اس لیے ہی پاکستان نے افغانستان میں ایسے دس مقامات کو نشانہ بنایا ہے کہ جنہیں ڈرونز کی لانچنگ یا ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، اگراسلام آباد ا ایک طرف کہتا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور عوام کے دفاع کا حق رکھتا ہے تو دوسری طرف یہ بھی کہتا ہے کہ وہ خطے میں امن، مذاکرات اور تعمیری روابط کے لیے پرعزم ہے،بظاہر یہ دونوں باتیں متضاد محسوس ہو سکتی ہیں، لیکن ریاستی سطح پر دفاع اور سفارت کاری بیک وقت چل سکتے ہیں، لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ عسکری ردعمل سفارتی راستے کو مکمل طور پر بند نہ کرے،کیو نکہ افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدگی پاکستان کے لیے بھی آسان صورتحال نہیں ہے،اس لیے موجودہ بحران کا حل صرف یہ نہیں ہے کہ ایک طرف سے حملہ ہو اور دوسری طرف سے جواب آئے، اصل حل اس وقت ہی شروع ہوگا کہ جب دونوں ممالک ایک قابلِ تصدیق سکیورٹی میکانزم پر اتفاق کریں گے۔
پاکستان کا بنیادی مطالبہ ایک ہی رہا ہے کہ افغان سرزمین اس کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو، اگر کابل واقعی یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی ہے تو سب سے مؤثر جواب محض تردید نہیں ،بلکہ قابلِ تصدیق اقدامات ہوں گے ،ورنہ ایک ڈرون کے بعد دوسرا ڈرون، ایک کارروائی کے بعد دوسری کارروائی، اور ایک الزام کے بعد دوسرا الزام دونوں ملکوں کو ایک ایسے چکر میں لے جا سکتا ہے کہ جس سے نکلنا دن بہ دن مشکل ہوتا جائے گا،اس لیے آج اصل سوال یہ نہیں ہے کہ افغان حکو مت نے در ندازی کو نہیں روکا اور پاکستان نے جواب دیا ، اصل سوال یہ ہے کہ کیا دونوں ممالک اس مرحلے تک پہنچ سکتے ہیں کہ جہاں جواب دینے کی ضرورت ہی کم سے کم رہ جائے؟کیونکہ سرحد پر ایک ڈرون گرانا دفاعی کامیابی ہو سکتی ہے، مگر سرحد کو اس مقام تک لے آنا کہ جہاں ڈرون بھیجنے کی ضرورت، گنجائش اور حوصلہ ہی باقی نہ رہے ،یہ ہی کسی بھی پائیدار سکیورٹی حکمتِ عملی کا اصل امتحان ہوگا۔