اسوئے سلف و صالحین پر عمل پیرائی ہی, کل مستقبل کے معمار آج کی اولادوں میں دینی اقدار باقی رکھی جاسکتی ہے
نقاش نائطی
۔+919448000010
مومن مسلمانوں کا بچپن میں پڑھایا رٹایا اور پوری طرح ذہن نشین کرایا جزء ایمان, توزیع رزق “من جانب خالق کائینات”, جب تلک ہم مسلمانوں کے ذہن و تفکر میں پوری طرح پیوست گھر کئے رہے گا, تب تلک ہمیں حصول رزق کے لئے,رزاق دوجہاں کو درکنار کئے, کسی بھی دنیوی علوم و تدابیر کو فوقیت دینے سے آمان میں رکھے گا۔ لیکن ہم ایمان والوں کو,اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ فی زمانہ عصر حاضر والی یہود و نصاری دجالی سازشی ریشہ دوانیوں نے, مشرکین ھند جیسے, ہر مادی چیزوں میں, جتنے کنکراتنے شنکر ڈھونڈنے والے جذبات کے بمثل, وحدت الوجود نظریات ہم دین دار مسلمانوں میں تک سرایت کرگئے
یا کرائے گئے,پس منظر میں, اور خصوصا نصف صد سال کے ہم ننھے بچوں میں, سرشام ذکر و أذكار کی مشترکہ محافل سجائے جاتے, “خالق کائینات عرش معلی پر مستوی رہتے ہوئے بھی,ساتوں آسمان اور ساتوں زمینوں کے نیچے گھپ اندھیرے میں, زمینی چٹانوں کی تہوں کے نیچے, پیدا کئے جانے والے کیڑے مکوڑوں تک کو وقت پر رزق پہنچانے کی ذمہ داری رزاق دوجہان بخوبی نبھانے میں جہاں قدرت رکھتے ہیں” یہ بتاتے اور ہمارے معصوم اذہان کو بخوبی ذہن نشین کراتے ہوئے, ہم نصف صد سال قبل والے بچوں کو, ایمانی جذبات سے ایسے سرشار کیا جاتا تھا کہ ھند و بیرون ھند, حصول رزق میں منہمک ہم فرزندان اہل نائطہ کی اکثریت کو, ہزار مواقع دستیاب رہتے ہوئے بھی, حرام و مشتبہ رزق حصول سے ہمیں محفوظ رکھتا تھا۔
*تہذیب اور ثقافت پر زبان کے اثرات*
*حضرت مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی*
اس تعلیمات ایمانی سے پرے, آج کی گھریلونساء,اپنی اولاد کو دینی و عصری علوم حصول رغبت دلانے, انہیں گھر آنگن میں یا سڑکوں پر, سخت گرمی میں محنت کر کماتے مزدورں کو دکھا “تم محنت سے لکھوگے پڑھوگے تو فلاں انکل کی طرح خطیب واستاد بنے یا کسی کمپنی کے بڑے مدیر بنے عزت کی رزق کمانے لائق بنوگے, بصورت دیگر ان مزدوروں کی طرح بدن توڑ محنت مزدوری کئے, اپنےاور اپنی اولاد کے لئے رزق کمانا ہوگا” اپنی لاڈلی اولادوں کو, خالق کائینات, رزاق دوجہان پر ایمان کامل بنائے رکھنے کے بجائے, انہئں حصول دنیا والے مکر وفن کا ماہر, انجانے میں ہی ان میں مادئیٹ کوٹ کوٹ کےبھری جاتی ہے کہ انہیں صالح مسلم معاشرے میں بھی, ایک حد تک حرام و مباح طریق کمائے تونگر تر بنے امراء کو دئیے جانے والی ممتازیت و افتخاریت کو دیکھ , انہیں مہیا ہر طریق حصول دولت کو ان کے لئے مرغوب و سہل ترکیا کرتا ہے۔
“علماء أمتی كأنبياء بني إسرائيل” (میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی مانند ہیں)۔ محدثینِ عظام (جیسے امام سیوطی، ابن حجر ہیتمی اور دیگر) کی تحقیق کے مطابق یہ روایت بے اصل (لا أصل لہ) اور موضوع ہے، یعنی یہ رسول اللہ ﷺ کا ثابت شدہ قول نہیں ہے۔ کسی بھی امتی کا مقام کسی نبی کے برابر نہیں ہو سکتا۔
پنے علماء کو انبیاء کے اوراپنے تونگران کو شرفاء قوم کے مقام تبریک تک پہنچانے والی ‘خصلت بنو اسرائیل’ کو, امت محمدیہ میں عود کر آنے کا ڈر آپ ﷺ کی طرف سے بتاتے جانے کے باوجود,موضوع قول رسولﷺ کو متواتر مسلم معاشرے میں دہرائے جاتے, نئی نسل مومن ومسلم کو مادئیت کیطرف غیر دانستہ دھکیلا جارہاہے۔یہی وہ اسباب ہیں جو ہم مومنین و مسلمین کو اپنے دین اسلام عقائد ایمانیہ, اپنے اسلامی زبان عربی فہمی سے ماورا, حفاظ و علوم دین و دنیا مہارت رکھنے کے باوجود, حصول دنیا میں سرگرداں مادئیت سے سرشار فقط مسلمان باقی رکھ رہا ہے۔ ایسے میں ارباب حل و عقل و فہم و ادراک قوم وطن کو یہ ضروری محسوس نہیں ہوتا؟کہ دنیادار طبقے کو ہی تو فقط عربی فہمی سے قرآن سمجھ کر پڑھنے لائق, مندرجہ ذیل جیسے آسان جزء وقتی عربی کورسز معاشرے میں مہیا کروائے جاتے, ہم مسلمانوں کو قرآن سمجھ کر پڑھنے لائق مسلمان تو بنایا جائے وبالتوفق الا باللہ ۔ ابن بھٹکلی
عربى زبان قران وحدیث کی زبان ہے اسے اپنے پچوں وبچیوں کو سکھائیں
عربى زبان اسلام اور مسلمانوں کی میراث ہے اسے اپنے گھروں میں باقی رکھنا ضروری ہے ، صرف ناظره قرآن پڑھادینے سے مقصد پورا نہیں ہوگا
بچوں وبچیوں کو روزانہ 4 الفاظ کے معنی بھی یاد دلانا شروع کریں گے توچار پانچ سال میں بہت حد تک وہ قران وحدیث سمجھنے والے بن جائیں گے
یہ کام گھروں میں، اسکولوں، شعبہ حفظ کے مدارس ، اور مسجدوں کے مکاتب میں شروع کیا جا سکتا ہے
اسی مقصد کے تحت ” ضیاء الميزان فى تعليم القرآن ” نامی کتاب اردو وانگریزی کے ذریعہ 10 جلدوں میں ترتیب دی گئی ہے
شروع کے دو جلدوں کی قیمت 500 روپئہ ہے ، ٹرانسپورٹ خرچ اس کے علاوہ ہے
جو حضرات منگوانا چاہتے ہیں وہ پیشگی رقم جون کے اخیر تک ادا کریں تاکہ کتاب پرنٹ کرنے میں آسانی ہو ، کتاب جولائی کے اواخر میں مل جائے گی
علماء ، ائمہ ، خطباء ، مدرسين ، ذمہ دارن مساجد ، وشعبہ حفظ کے مدارس ومكاتب وعربی زبان سے دلچسپی رکھنے والوں سے گزارش ہے کہ اس مہم میں ساتھ دیں اور آپنے یہاں اسے شروع کریں تاکہ آنے والی نسلوں میں عربی زبان رائج ہو
تفصیلات کے لئے رابطہ کریں
خلیل الرحمن عمری مدنی بنگلور
https://youtu.be/tkIJgPWDm1k