دہشت گردی کی لہر اور قومی یکجہتی کا امتحان!
ایک مرتبہ پھرخیبرپختونخوا کے خوبصورت اور سیاحتی ضلع سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے قریب ہونے والا خودکش دھماکہ، اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے، اس المناک حملے میں چھ پولیس اہلکاروں سمیت سترہ قیمتی جانوں کا ضیاع اور متعدد افراد کا زخمی ہونا نہ صرف خیبرپختونخوا، بلکہ پورے پاکستان کے لیے گہرے صدمے کا باعث ہے ،یہ دہشت گردی کا واقعہ اس امر کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد عناصر آج بھی ریاستی اداروں، امن و امان کے محافظوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں، مگر انہیں ہر بارہی قوم کے عزم اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کے سامنے شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس دہشت گردی کے واقعہ میںابتدائی اطلاعات کے مطابق خودکش حملہ آور کا ہدف پولیس اسٹیشن تھا، لیکن پولیس اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے تھانے کے اندر داخل ہونے سے روک دیا، اگر حملہ آور اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا تو جانی نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا،اس پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہید اہلکاروں کی فرض شناسی اور بہادری کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے درست کہا کہ انہوں نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر بے شمار زندگیاں بچائیں، ایسے بہادر سپوت پوری قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں اور ان کی قربانیاں ہمیشہ تاریخ کے سنہری صفحات میں محفوظ رہتی ہیں،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، گورنر فیصل کریم کنڈی اور دیگر سیاسی و حکومتی شخصیات کی جانب سے حملے کی شدید مذمت اور دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اظہار اہم ہے، لیکن یہ مذمتی بیانات کافی نہیں،عوام جاننا چاہتے ہیں کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے زمینی سطح پر کون سے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اگر دیکھا جائے توگزشتہ چند برسوں میں دہشت گردی کے خلاف بے مثال کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں، آپریشن ضربِ عضب، ردالفساد اور دیگر کارروائیوں نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ، مگر حالیہ عرصے میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں دوبارہ اضافہ تشویشناک ہے، اس کی کئی اہم وجوہات ہیںکہ جن میں سرحد پار سے دراندازی، دہشت گرد تنظیموں کی ازسرنو تنظیم، جدید ذرائع ابلاغ کا غلط استعمال، اور بعض علاقوں میں ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوششیں شامل ہیں،
اس قسم کے عوامل کا مقابلہ صرف فوجی کارروائیوں سے نہیں ،بلکہ جامع قومی حکمت عملی کے ذریعے ہی ممکن ہے، گزشتہ کئی برسوں سے پو لیس دہشت گردی کے خلاف پہلی دفاعی لائن کا کردار ادا کر رہی ہے، اس فورس نے محدود وسائل کے باوجود غیرمعمولی جرات، پیشہ ورانہ صلاحیت اور قربانی کا مظاہرہ کیا ہے، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ پولیس کو جدید اسلحہ، بُلٹ پروف گاڑیاں، جدید مواصلاتی نظام، نگرانی کی ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس سپورٹ اور بہتر حفاظتی سازوسامان فراہم کرے، تاکہ وہ مزید مؤثر انداز میں اپنے فرائض انجام دے سکیں،دہشت گردی صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک سماجی، معاشی اور نظریاتی چیلنج بھی ہے، اس لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ بندوق کے ساتھ قلم، تعلیم، معاشی استحکام اور قومی شعور کی بھی جنگ ہے،اس جنگ کے خلاف سب کو مل کر لڑنا ہو گا۔
ادہشت گردی کسی ایک جماعت، صوبے یا ادارے کا مسئلہ نہیں ،بلکہ پوری ریاست کے وجود کو چیلنج کرنے کی کوشش ہے ،لیکن ہمارے ہاں اکثر قومی سلامتی جیسے حساس معاملات بھی سیاسی اختلافات کی نذر ہو جاتے ہیں،اس وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، مذہبی قیادت، سول سوسائٹی، میڈیا اور ریاستی ادارے ایک مشترکہ قومی بیانیے پر متفق ہوں، تاکہ دہشت گردوں کو ایک واضح پیغام دیا جا سکے کہ پوری قوم ایک صفحے پر کھڑی ہے ،اس کے ساتھ دہشت گردی کے ہر واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئے
اور انٹیلی جنس کی خامیوں کا جائزہ لیا جانا چاہئے، داخلی اور سرحدی نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جانا چاہئے، نیشنل ایکشن پلان پر مکمل اور بلاامتیاز عملدرآمد یقینی بنایا جانا چاہئے اور ان تمام عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے، جو کہ براہِ راست یا بالواسطہ دہشت گردوں کی معاونت کرتے ہیں، ہردہشت گردی کے بعد صرف ردعمل کافی نہیں، بلکہ حملوں سے پہلے مؤثر روک تھام ہی اصل کامیابی ہے۔
اس افسوسناک سانحے نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ امن مفت حاصل ہونے والی نعمت نہیں، بلکہ اس کے لیے مسلسل قربانیاں دینا پڑتی ہیں، شہید پولیس اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ثابت کیا کہ پاکستان کے محافظ ہر قیمت پر اپنے وطن اور عوام کے دفاع کے لیے تیار ہیں، پوری قوم ان شہداء کو سلام پیش کرتی ہے،لیکن اب ریاست اور قوم دونوں کو مل کر فیصلہ کرنا ہے کہ آیا ہم ان قربانیوں کو صرف تعزیتی بیانات تک محدود رکھتے ہیں یا پھر ان کی روشنی میں ایسی مضبوط، مستقل اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرتے ہیں، جو کہ دہشت گردی کے ناسور کو ہمیشہ کے لیے جڑ سے اکھاڑ پھینکے ،اگر قومی اتحاد، مؤثر انٹیلی جنس، مضبوط داخلی سلامتی، سیاسی ہم آہنگی اور عوامی تعاون کو یکجا کر لیا جائے تو وہ دن دور نہیں کہ جب پاکستان مکمل امن، استحکام اور ترقی کی منزل حاصل کر لے گااور دہشت گردی صرف تاریخ کا ایک سیاہ باب بن کر رہ جائے گی۔