خالق دو جہاں کے سامنے جواب دہی کا ڈر نہ رہے تو انیک فتنے ابھر کر سامنے آتے رہتے ہیں

خالق دو جہاں کے سامنے جواب دہی کا ڈر نہ رہے تو انیک فتنے ابھر کر سامنے آتے رہتے ہیں

ابن بھٹکلی 
نام نہاد ایمانت دار و دین دار مشہور, اہل بھٹکل کے بعض لوگوں میں، حقوق العباد کوتاہی کے چلتے,بعد الموت روز محشر اپنے خالق و مالک کو جواب دہی کا ڈر کب جاگے گا؟
دس بیس سل پہلے اسمگلنگ تجارت میں محو و مصروف ایک غیر شادی نوجوان, اپنے ایک دو دوستوں کے ساتھ لونگ ڈرایو سے وطن لوٹتے ہوئے, اسی کے ایک دوست کے اپنے غیر قانونی تجارت چھوڑ ملکی قانون کے تحت جائز تجارت کرنے کی صلاح پر,اس نے کہا تھا  کہ “وہ بھی ایسا ہی کچھ کرنے کی سوچ رہا ہے۔ اسکا پانچ کروڑ کا سرمایہ مختلف تجار دوستوں کے ساتھ غیر قانونی تجارت ہی میں حصہ داری شرط پر لگا ہوا ہے۔ ابھی سوچتا ہوں کہ اب کی وطن لوٹنے کے بعد یہ غیر قانونی تجارت ہی سے توبہ کرتے ہوئے,تمام دوستوں سے اپنا سرمایہ واپس لئے, کوئی قانونی تجارت شروع کروں” یہی کچھ باتیں کرتے ہوئے وہ وطن عزیز کی طرف رواں دواں تھے 
https://www.youtube.com/watch?v=N-FuBx9OoSw
کہ داعی اجل کو کچھ اور ہی منظور تھا  پہاڑی گھاٹ کا راستہ, اچانک ایک موڑ پر سامنے سے آتی کسی تیز رفتار  سواری کو دیکھ, کارڈرائیور کا کنٹرول  ختم ہوتے کار بےقابو ہوتے ہوئے ایک دھماکہ کے ساتھ سامنے سے آتی گاڑی سے ٹکرا گئی۔ انہیں وطن کے ہاسپیٹل  میں ہوش آنے پر پتہ چلا کہ وہ غیر شادی شدہ نوجوان تاجر اپنے مالک حقیقی کی دعوت پر لبیک کہتا محو پرواز ہوچکا تھا۔ چونکہ سب آپس میں دوست ایک دوسرے کے گھر آنا جانا تھا۔ تجہیز و تکفین کےکچھ دنوں بعد انکے گھر آپس میں بیٹھے دوران گفتگو مرحوم کی اپنا سرمایہ سمیٹ, کوئی قانونی تجارت شروع کرنے کی مرحوم کی خواہش کا تذکرہ کرتے وقت, یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ مرحوم کی وفات سے چند منٹ پہلے, انکے کہے مطابق, اسکے دیگر دوستوں کی تجارت میں سرمایہ کاری کئے, کئی کروڑ جو آنے تھے اسکے انتقال پر ہفتہ دس دن گزرنے پر بھی, کسی بھی دوست کی طرف سے سرمایہ واپسی چھوڑیئے, انکی تجارت میں لگے
مرحوم کے سرمایہ کی بات تذکرتا” تک سامنے نہیں آئی۔ چونکہ حکم رسولﷺ لین دین تفصیل کچھ لکھی ہوئی مفقود تھی تو گویا پورے پانچ کروڑ کا سرمایہ, مرحوم کے رشتہ داروں تک واپس آنے کی امید بھی نہ رہی ۔ گویا سرمایہ مانگنے والا ہی نہ رہا تو سرمایہ واپس ہی کیوں کیاجائے؟اس خیال نے مرحوم کے دوستوں کو بھی بے ایمان کردیا تھا۔ 
آج اس کلپ میں اپنے بھگوان ایشور اللہ کو ایک نہ ایک دن جواب دہی کے فقدان ہی کی وجہ, آج ہر سو لوٹ مار, بے ایمانی, دھوکہ دہی عام سی ہوکر رہ گئی ہے۔ جن دوستوں نے اس مرحوم تاجر کے پانچ کروڑ کا سرمایہ غبن کیا تھا اگر وہ واپس لوٹاتے تو شاید اس مرحوم کے رشتہ دار مستفید ہوتے لیکن انہوں نے دنیا میں وہ رقم واپس نہ کی اسکا یہ فائیدہ تو مرحوم کو یقینا”  ہوگا کہ اس پانچ کروڑ روپیوں کے بدلے, پچاس پانچ سو کروڑ یا اس سے بھی زاید رقم کا اجر و ثواب اسےآخرت میں روز محشر ملے,وہ تو حقیقتا” مستفید ہوگا
ہی لیکن نام نہاد دین دار گھرانے کے اسکے اپنے دوست محشر کے روز والے مساکین میں شاید شمار کئے جائینگے۔ آج کے اس دین دار مسلم معاشرے میں,فضائل اعمال محنت کی وجہ, نماز روزے ذکر و اذکار نفل حج و عمرے تو کثرت سے کئے جاتے, دنیا میں رہتے عذاب جہنم سے گلو خلاصی پاتے, جنت کو اپنے لئے محجور کرتے پائے لوگ پیشین گوئی رسول اللہ ﷺ حقوق العباد کی وجہ آخرت کے مساکین بنتے پائے جائیں گے۔   اس للہ ہی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں رسول خاتم الانبیاء ﷺ کے پیشین گوئی کئے,آخرت کے مساکین میں سے ہونے سے, ہمیں آمان میں رکھے۔ اور خاتمہ بالخیر ہوتے جنت کے مستحق بننے والوں سے ہمیں بنائے۔وما التوفیق الا باللہ
https://www.youtube.com/watch?v=N-FuBx9OoSw

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *