21

پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج یا سب سے بڑا موقع !

پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج یا سب سے بڑا موقع !

پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے کہ جہاں اس کے مستقبل کا فیصلہ نہ صرف معاشی پالیسیوں، سیاسی استحکام یا بیرونی سرمایہ کاری سے ہوگا، بلکہ اس بات سے بھی ہوگا کہ اپنی نوجوان نسل کو کس حد تک تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کر پاتا ہے ،دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، آٹومیشن اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہو چکی ہے، جبکہ پاکستان آج بھی بنیادی تعلیم، ہنرمندی اور انسانی وسائل کی ترقی جیسے بنیادی شعبوں میں سنگین مسائل کا شکار ہے،اس کے باہی ملک کی ترقی کی رفتار خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سست دکھائی دیتی ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں اڑھائی کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں،اس میںسے تقریباً 86 لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں اور ان کی عمریں پانچ سے سترہ سال کے درمیان ہیں، یہ اعداد و شمار ہی نہیں، بلکہ ایسے لاکھوں خواب ہیں، جو کہ غربت، بے بسی اور وسائل کی کمی کے باعث ادھورے رہ جاتے ہیں،اس ملک میں ایک ایسا بچہ جو اسکول کی کتاب کے بجائے اینٹوں کے بھٹے، ورکشاپ، ہوٹل یا فیکٹری میں کام کرنے پر مجبور ہو، اس سے مستقبل کا معمار بننے کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
اگر دیکھا جائے تو اس ملک میں تعلیم کو اب بھی ایک سرمایہ کاری کے بجائے اخراجات سمجھا جاتا ہے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک نے کئی دہائیاں پہلے حقیقت تسلیم کر لی تھی کہ انسانی سرمایہ ہی کسی بھی قوم کی اصل طاقت ہوتا ہے ،جاپان، جنوبی کوریا، سنگاپور اور ملائیشیا جیسے ممالک نے قدرتی وسائل سے زیادہ اپنے نوجوانوں کی تعلیم اور مہارت پر سرمایہ کاری کی ہے ، اس کے نتیجے میں عالمی معیشت کے مضبوط ستون بن گئے ، اس کے برعکس پاکستان میں تعلیمی بجٹ آج بھی مطلوبہ سطح سے بہت کم ہے،

اس کے باعث نئے اسکول بن پا رہے ہیںنہ ہی موجودہ تعلیمی اداروں کا معیار بہتر ہو رہا ہے اور نہ ہی اساتذہ کی تربیت پر خاطر خواہ توجہ دی جا رہی ہے۔آج دنیا صرف ڈگری رکھنے والوں کو نہیں ،بلکہ مہارت رکھنے والوں کو ترجیح دے رہی ہے ،مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سائبر سیکیورٹی، روبوٹکس، ڈیٹا اینالیٹکس، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، گرین ٹیکنالوجی اور جدید مینوفیکچرنگ جیسے شعبے روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں،

جبکہ پاکستان میں ملازمت کے خواہشمند ساٹھ فیصد سے زائد افراد ان شعبوں میں درکار بنیادی مہارتوں سے محروم ہیں،اس کے باعث ہی ایک طرف لاکھوں نوجوان بے روزگار ہیںتو دوسری جانب صنعتیں اور کاروباری ادارے مطلوبہ مہارت رکھنے والے افراد نہ ملنے کی شکایت کرتے ہیں، یہ صورتحال تعلیمی نظام اور مارکیٹ کی ضروریات کے درمیان واضح خلا کی نشاندہی کررہی ہے۔
اگر ہم بھی نوجوان آبادی کو ایک نعمت سمجھتے ہیں تو پھر اس نعمت سے فائدہ اٹھانے کے لیے قومی سطح پر مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے ،پاکستان کی تقریباً دو تہائی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، اس کو ”ڈیموگرافک ڈیوڈنڈ” کہا جاتا ہے،

لیکن اگر یہ نوجوان تعلیم، تربیت اور روزگار سے محروم رہ جائیں تو یہ قوت سماجی بے چینی، جرائم، انتہا پسندی اور معاشی بحران کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے ،اس لیے نوجوانوں کو نظرانداز کرنا مستقبل کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہو گا جو کہ بڑی حد تک کیا جارہا ہے ،اس پر سنجید گی سے عملی اقدامات کر نے کی اشد ضرورت ہے۔حکومت دعوئیدار ہے کہ تعلیمی اداروں میں داخلوں کی تعداد بڑاھارہی ہے، لیکن اسکولوں میں صرف داخلوں کی تعداد بڑھانے تک محدود نہ رہے، بلکہ تعلیمی معیار، نصاب، اساتذہ کی تربیت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی بھرپور توجہ دے، اس انداز سے نصاب مرتب کیا جائے

کہ طلبہ صرف امتحانات پاس نہ کریں، بلکہ تنقیدی سوچ، تحقیق، تخلیقی صلاحیت ،مسئلہ حل کرنے کی مہارت اور عملی زندگی میں کامیابی کے لیے درکار قابلیت بھی حاصل کریں، اس کے ساتھ ساتھ فنی و تکنیکی تعلیم کو بھی قومی ترجیح بنایا جائے، تاکہ نوجوان عالمی معیار کی مہارتیں حاصل کر سکیں، اس قومی ذمہ داری میں نجی شعبے کو بھی شریک کرنا ہوگا، تاکہ نصاب اور تربیتی پروگرام مارکیٹ کی حقیقی ضروریات کے مطابق ہوں،اس طرح نوجوان تعلیم مکمل کرتے ہی عملی میدان میں مؤثر کردار ادا کر سکیں گے۔
اس وقت ہی ڈیجیٹل پاکستان کا خواب پورا ہوسکتا ہے، جب کہ ملک کے ہر نوجوان کو انٹرنیٹ، کمپیوٹر اور جدید ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی حاصل ہوسکے ،ہمارے علاقوں کے اسکولوں میں ڈیجیٹل لیبز، آن لائن تعلیم اور جدید تدریسی سہولیات فراہم کیے بغیر شہروں اور دیہات کے درمیان تعلیمی فرق ختم نہیں کیا جا سکتا، اس طرح ہی مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں خصوصی تربیتی پروگرام وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں، کیونکہ مستقبل کی عالمی معیشت انہی شعبوں کے گرد گھوم رہی ہے، اگر ہم نے انہیں نظرانداز کیا تو یہ ہی صلاحیت ضائع ہو کر قومی ترقی کی رفتار کو مزید سست کر دے گی۔
یہ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج اورسب سے بڑا موقع بھی ہے، یہ فیصلہ ریاست، معاشرے، والدین، تعلیمی اداروں اور نجی شعبے سب کو ہی مل کر کرنا ہوگا کہ آیا ہم اپنی نوجوان نسل کو ایک روشن مستقبل دینا چاہتے ہیں یا انہیں غربت، بے روزگاری اور محرومی کے اندھیروں میں چھوڑ دینا چاہتے ہیں، کیونکہ قوموں کی قسمت وسائل سے نہیں، انسانوں سے بنتی ہے ،پاکستان کے مستقبل کی اصل ضمانت اس کے تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور ہنرمند نوجوان ہی ہیں، اگر آج درست فیصلے کر لیے گئے تو ہمارے نوجوان کل پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور عالمی وقار کی سب سے مضبوط بنیاد ثابت ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں