فائلوں کا استحکام، غریب کا کہرام !
پاکستان کی سیاسی اور معاشی تاریخ میں بجٹ کی پیش کش ایک ایسا معرکہ رہی ہے کہ جہاں اعداد و شمار کی جادوگری اور غریب کی بقا کی جنگ دست و گریبان نظر آتی ہیں،وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے اپنی حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کیے جانے کے موقع پر بھی ملک کی سیاسی اور معاشی فضا اسی کشمکش کا شکار ہے، ایک طرف حکومت کی جانب سے معاشی بحالی، مہنگائی میں سنگل ڈیجٹ تک کمی، اور شرح سود میں گراوٹ کے دعوے کیے جا رہے ہیںتو دوسری طرف اپوزیشن اور عوامی حلقوں کی جانب سے بجٹ دستاویز کو آئی ایم ایف کی غلامی اور عوام کش قرار دے کر مسترد کیا جا رہا ہے،
یہ تضاد محض سیاسی بیان بازی نہیں، بلکہ اس گہرے معاشی بحران کا عکاس ہے کہ جس کی چکی میں پاکستان کا متوسط اور غریب طبقہ پچھلی کئی دہائیوں سے پس رہا ہے۔اس بجٹ پروزیر اعظم شہباز شریف کا مؤقف ہے کہ یہ بجٹ انتہائی کٹھن حالات اور چیلنجز کے سائے میں تیار کیا گیا ہے، گزشتہ دو سالوں میں آئی ایم ایف کی کڑی شرائط اور ملکی ضروریات کے تحت مشکل فیصلے کرنے پڑے کہ جن کا مقصد ہچکولے کھاتی معیشت کو سنبھالا دینا تھا، حکومت کا دعویٰ اپنی جگہ وزن رکھتا ہے
کہ ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑے ملک کو استحکام کی طرف لانا کوئی آسان کام نہیں ،پچھلے چند مہینوں میں مہنگائی کی شرح میں ریکارڈ کمی اور پالیسی ریٹ کا نیچے آنا معاشی اعشاریوں کے لحاظ سے ایک مثبت پیش رفت دکھائی دیتی ہے ،اس کی ہی بنیاد پر حکومت پرامید ہے کہ یہ تیسرا بجٹ ملکی معیشت کو تیزی سے آگے لے جائے گا، اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان میکرو اکنامک اعشاریوں کے اثرات عام آدمی کی زندگی تک پہنچ پائے ہیں؟اس سوال کا جواب اپوزیشن کے سخت ردعمل اور گلی کوچوں میں پھیلی مایوسی کی صورت میں دکھائی دیتا ہے۔
اس بجٹ کو ایک بار پھر اپوزیشن نے مرعات یافتہ طبقے کا بجٹ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے، کیو نکہ پاکستان کا بجٹ سازی کا ڈھانچہ روایتی طور پر دستاویزی معیشت کے فروغ کے بجائے تنخواہ دار طبقے اور غریب عوام پر بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے پر استوار ہے، آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت جب پیٹرولیم لیوی کی مدمیں، بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر پڑتا ہے ،ایک طرف تو بڑے بڑے سرمایہ داروں، جاگیردارو کو ٹیکس چھوٹ یا مراعات دی جاتی ہیںاور دوسری طرف دال، چینی، آٹا اور ادویات خریدنے والے عام شہری سے ٹیکس نچوڑا جاتا ہے
،اس تفاوت کی وجہ سے ہی اپوزیشن کے بیانیے کو عوامی قبولیت حاصل ہوتی ہے کہ بجٹ غریب دوست نہیں ،بلکہ غریب کش ہے۔اس بجٹ کا سب سے زیادہ متنازع پہلو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں محض 7 فیصد اضافہ ہے، موجودہ دورِ حکومت میں جہاں یوٹیلٹی بلز، بچوں کی فیسیں اور روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، وہاں صرف سات فیصد کا اضافہ غریب اور متوسط طبقے کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے، مہنگائی کا جن جب پچھلے سالوں میں چالیس فیصد کی حد کو چھو چکا تواس میںسات فیصد کا ریلیف اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر بھی نہیں رہتا ہے،
ایک کلرک، ایک پرائمری اسکول ٹیچر یا ایک عام سرکاری ملازم جو پہلے ہی ادھار کی زندگی جی رہا ہے، اس معمولی اضافے کے بعد خود کو مزید بے بس محسوس کرتا ہے ،حکومت عذر پیش کرتی ہے کہ مالیاتی خسارے اور آئی ایم ایف کے دباؤ کے باعث خزانے پر مزید بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا ، لیکن عوام جب دیکھتے ہیں کہ حکومتی اشرافیہ کے پروٹوکول، غیر ترقیاتی اخراجات اور شاہانہ اخراجات میں کوئی کمی نہیں آتی تو ان کا عذر برقرار نہیں رہتاہے۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پاکستان کا اگلا بیل آؤٹ پیکیج آئی ایم ایف کی سخت ترین شرائط سے مشروط ہے،حکومت کو ہر قیمت پر ٹیکس نیٹ بڑھانا ہے، سبسڈیز ختم کرنی ہیں اور خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کرنی ہے،یہ اقدامات معیشت کی طویل مدتی صحت کے لیے شاید ضروری ہوں گے، لیکن اس کا فوری اور بے رحم بوجھ غریب عوام پرہی پڑتا ہے ،جبکہ عوام میں مزید بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رہی ہے ،اس ملک میںبجٹ کی ہر سطر جب آئی ایم ایف کے ماہرین کی ہدایات کے مطابق لکھی جائے گی تو خود مختار معاشی پالیسی کا تصور محض ایک خواب بن کر ہی رہ جاتا ہے۔
اس وقت ہم ایک ایسے دو راہے پر کھڑے ہیں کہ جہاں ایک طرف معاشی بقا کی مجبوری ہے تو دوسری طرف عوامی چیخیں ہیں،اس صورت حال میں وزیر اعظم شہباز شریف پرُ امید ہیں کہ یہ بجٹ معیشت کو تیزی سے آگے لے جائے گا، لیکن یہ اُمید تب ہی پوری ہو سکتی ہے کہ جب معاشی ترقی کے ثمرات چند خاندانوں یا مراعات یافتہ طبقے تک محدود رہنے کے بجائے نیچے کی سطح تک منتقل ہوںگے،اس ملک میں جب تک زرعی آمدنی پر ٹیکس، ریئل اسٹیٹ پر کڑی گرفت اور غیر دستاویزی معیشت کو دائرے میں لانے جیسے انقلابی اقدامات نہیں کیے جاتے ہیں،
اس وقت تک ہر سال پیش کیا جانے والا بجٹ محض ایک اعداد و شمار کا گورکھ دھندا ہی رہے گا ،حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ حقیقی معاشی استحکام وہ نہیں ہوتا جو کہ فائلوں اور لیپ ٹاپ کی اسکرینوں پر نظر آئے، بلکہ حقیقی استحکام وہ ہوتا ہے جو کہ ایک عام شہری کے کچن کے بجٹ اور اس کے چہرے کے اطمینان سے جھلکتا ہے، اگر تنخواہوں میں سات فیصد اضافے جیسی پالیسیاں برقرار رہیں تو معاشی ترقی کا ہر دعویٰ عوامی غیظ و غضب کی نذر ہو جائے گا۔