53

کسی کے دھویں میں دم ہمارا گھٹ رہا ہے !

کسی کے دھویں میں دم ہمارا گھٹ رہا ہے !

دنیاآج جس صنعتی ترقی اور تکنیکی عروج پر فخر کر رہی ہے، اس کی بنیادوں میں بارود کی بو، چمنیوں سے نکلتا زہریلا دھواں اور ماحول دشمن گیسیں شامل ہیں،گزشتہ چند دہائیوں کے دوران بڑے اور ترقی یافتہ ممالک نے صنعتی ترقی کی اندھی دوڑ میں شامل ہو کر کرہ ارض کے ماحول کو جس بے رحمی سے آلودہ کیاہے، اس کا خمیازہ آج پوری انسانیت، خصوصاً غریب اور ترقی پذیر ممالک بھگت رہے ہیں،یہ موجودہ صدی کا سب سے بڑا تضاد اور سنگین ترین المیہ ہے کہ کاربن گیسوں کے اخراج میں جن کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، اس ماحولیاتی تباہی کے فرنٹ لائن پر کھڑے ہیں،

جبکہ اس تباہی کے اصل ذمہ دار اب بھی خوابِ خرگوش میں مستانہ وار گم ہیں۔اس ماحولیاتی ناانصافی کی سب سے بڑی اور واضح ترین مثال پاکستان ہے،ایک اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم (تقریباً 0.9 فیصد) کا حصہ دار ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے مہلک اثرات کا سامنا کرنے والے ممالک کی فہرست میں ہمیشہ سرفہرست رہتا ہے،یہ ایک ایسی ستم ظریفی ہے کہ جس نے پاکستان کی معیشت، زراعت، انفراسٹرکچر اور انسانی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے

،پاکستان اپنے کیے کی سزا نہیں پا رہا، بلکہ وہ ان طاقتور ممالک کے کاربن جرائم کی قیمت چکا رہا ہے کہ جنہوں نے اپنے کارخانوں کو چلانے کے لیے زمین کے پورے توازن کو بگاڑ کر رکھ دیاہے،لیکن اس توازن کو بحال کرنے میں اپنا کوئی مثبت کردار ادا نہیں کررہے اور ان کے دھویں میں دم ہمارا گھٹ رہا ہے؟
اگر دیکھا جائے توپاکستان میں موسمیاتی تبدیلی اب کوئی نظریاتی بحث یا مستقبل کا خطرہ نہیں رہی ہے، بلکہ ایک ہولناک حقیقت بن کر ہمارے سامنے کھڑی ہے، حالیہ برسوں میں ہی جس قسم کی ماحولیاتی تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی ہیں، ان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، ملک بھر میں غیر معمولی اور بے وقت کی بارشوں نے زرعی نظام کو تباہ کر دیا ہے، جبکہ طویل اور شدید ترین ‘ہیٹ ویوزنے شہروں کا جینا محال کر دیا ہے،

پاکستان کے شمالی علاقوں میں واقع گلیشیرز، جو کہ دنیا میں قطبین کے باہر میٹھے پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ سمجھے جاتے ہیں، درجہ حرارت میں اضافے کے باعث تیزی سے پگھل رہے ہیں، ان گلیشیرز کے پگھلنے سے ایک طرف ‘ (Glacial Lake Outburst Floods) جیسے واقعات جنم لے رہے ہیں تو دوسری طرف خشک سالی کے سائے گہرے ہو رہے ہیں۔
اس بدلتی صورتحا میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس ماحولیاتی تباہی کا بنیادی سبب بننے والے ترقی یافتہ ممالک کہاں کھڑے ہیں؟ یہ انتہائی فسوسناک امر ہے کہ جن ممالک کی صنعتی ترقی نے زمین کا درجہ حرارت بڑھایا، وہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے سے مسلسل کتراتے رہے ہیں،

عالمی ماحولیاتی کانفرنسوں میں بڑے بڑے دعوے تو کیے جاتے ہیں، جذباتی تقریریں بھی ہوتی ہیں، اور ترقی پذیر ممالک کو اربوں ڈالر کی مالی معاونت اور کلائمیٹ فنانسنگ کے وعدے کیے جاتے ہیں ،لیکن اس کانفرنس کا ہال خالی ہوتا ہے، یہ تمام وعدے بھی ہوا میں اڑ جاتے ہیں،یہ عالمی برادری کی بے حسی صرف ایک سیاسی ناکامی نہیں، بلکہ ایک سنگین اخلاقی اور انسانی دیوالیہ پن ہے،لیکن اس میں کوئی تبد یلی ا ٓرہی ہے نہ ہی لائی جارہی ہے۔
پاکستان جیسے متاثر اممالک کو اب عالمی ہمدردی یا لفظی دلاسے نہیں چاہئیں، بلکہ اسے ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے عملی تعاون، جدید ترین کلین ٹیکنالوجی اور منصفانہ مالی معاونت کی ضرورت ہے ،یہ ماحو لیاتی بحران کے شکار ممالک کیلئے کوئی خیرات یا امداد نہیں ہے، بلکہ یہ ان ممالک پر عائد ہونے والا ماحولیاتی قرض ہے ،جوکہ انہوں نے ماحو لیات سے متاثرہ ممالک کو ادا کرنا ہے، اگر آج دنیا نے اپنی روش نہ بدلی تو ماحو لیاتی بحران صرف ترقی پذیر ممالک تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کی لپیٹ میں پوری دنیا آئے گی، کیونکہ موسم اور قدرتی آفات کسی ملک کی سرحدوں یا ویزا پالیسیوں کی پابند نہیں ہوتیں ہیں،یہ ا ن ممالک کا رخ بھی کرسکتی ہیں ، جو کہ اس وقت بے حسی کا مظا ہرہ کررہے ہیں۔
دنیا کو اب موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اور انتہائی سنجیدہ اقدامات کرنا ہی ہوں گے ،اس میںسب سے پہلے ترقی یافتہ ممالک کو اپنے کاربن اخراج میں فوری اور نمایاں کمی لانی ہوگی، دوسرا ،اپنے مالیاتی وعدوں کو فوری طور پر عملی شکل دینا ہو گی، تاکہ پاکستان جیسے ممالک اپنے متاثرہ انفراسٹرکچر کو دوبارہ تعمیر کر سکیں اور مستقبل کی آفات کے خلاف مزاحمت پیدا کر سکیں،

اس کے ساتھ جدید ماحول دوست ٹیکنالوجی کی متاثرہ ممالک کو منتقلی ناگزیر ہے، تاکہ شمسی اور بادی توانائی جیسے ذرائع کو اپنا کر خود کو محفوظ بنا سکیں،اس میں مزید سوچ بچار کر کے وقت کا ضیاع نہیں کر نا چاہئے ، کیو نکہ وقت بڑی تیزی سے ریت کی طرح ہاتھ سے نکل رہا ہے، پاکستان گلوبل وارمنگ کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر تن تنہا ہی لڑ رہا ہے، دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ کلائمیٹ جسٹس کے بغیر دنیا کا امن اور بقا ممکن نہیں ہے، اگر عالمی طاقتوں نے اب بھی اپنی مجرمانہ خاموشی اور بے حسی نہ توڑی، تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی، کیونکہ ماحولیاتی آلودگی سے خود کے ساتھ زمین کو بچانے کا آخری موقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں