30

پاکستان ورکرز فیڈریشن کے زیرِ اہتمام عالمی یومِ مزدور کے موقع پر پروقار تقریب کا انعقاد

پاکستان ورکرز فیڈریشن کے زیرِ اہتمام عالمی یومِ مزدور کے موقع پر پروقار تقریب کا انعقاد

شیخوپورہ(بیوروچیف/شیخ محمد طیب سے)پاکستان ورکرز فیڈریشن کے زیرِ اہتمام ضلع کونسل شیخوپورہ میں مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت مرکزی چئیرمین پاکستان ورکرز فیڈریشن چوہدری عبدالرحمٰن عاصی نے کی، اس تقریب میں پاکستان ورکرز فیڈریشن کی ملحقہ سرکاری، نیم سرکاری و پرائیویٹ اداروں سے تعلق رکھنے والی یونینز کے قائدین اور ورکرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی،
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چئیرمین پاکستان ورکرز فیڈریشن چوہدری عبدالرحمٰن عاصی نے کہا کہ آئینِ پاکستان مزدوروں کو بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے، جن میں تنظیم سازی کی آزادی، منصفانہ اجرت اور محفوظ کام کے حالات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان آئینی حقوق پر عملدرآمد ہی ایک منصفانہ اور مستحکم معاشرے کی بنیاد ہے۔
دیگر مقررین میں آزاد آرگنائزنگ سیکرٹری پاکستان ورکرز فیڈریشن و صدر آزاد اتحاد یونین واسا شیخوپورہ حاجی قاسم حنیف، جنرل سیکرٹری پاکستان کمیونٹی ہیلتھ ورکرز فیڈریشن میڈم راحیلہ تبسم، محمد شہباز علی،یاسر بھٹی، اسدالرحمن، شہزاد ہیرا ،محمد اظہر، محمد معصوم، مسرت بشارت، شہناز اختر، محمد اعظم جٹ اور محمد افضل سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ میڈم راحیلہ تبسم نے اپنے خطاب میں لیڈی ہیلتھ ورکرز، لیڈی ہیلتھ سپروائزرز اور پولیو ورکرز کو درپیش مسائل اجاگر کرتے ہوئے
کہا کہ یہ فرنٹ لائن ورکرز ملک کی صحت کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں مگر انہیں مستقل روزگار، مناسب تنخواہ، سوشل سیکیورٹی اور تحفظ فراہم نہیں کیا جا رہا جو فوری توجہ کا متقاضی ہے، حاجی قاسم حنیف نے کہا کہ نجکاری اور آؤٹ سورسنگ کی پالیسیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف مزدوروں کی نوکریاں غیر محفوظ ہو رہی ہیں بلکہ عوامی ادارے بھی کمزور ہو رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ نجکاری کا عمل عوامی مفاد کے خلاف جا رہا ہے اور اس کے خلاف ملک گیر سطح پر منظم جدوجہد کی جائے گی۔

تقریب کے اعلامیے میں حکومت سے درج ذیل مطالبات پیش کیے گئے کم از کم اجرت ایک پچاس ہزار روپے کی جاے اور فوری اور مکمل نفاذ، اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے، وفاق کی طرز پر صوبائی ملازمین کو ڈسپرٹی الاونس دیا جائے،
تمام کنٹریکٹ، ڈیلی ویجز اور آؤٹ سورس ملازمین کی مستقلی پنشن سسٹم کا تحفظ اور کسی بھی قسم کی نجکاری یا کٹوتیوں کا خاتمہ
ڈومیسٹک ، ہوم بیسڈ ورکرز ،چوک مزدور اور زراعت کے شعبہ سے منسلک ورکرز کو سوشل سکیورٹی اور ای۔او۔بی۔آئی میں رجسڑ کیا جائے، سوشل سیکیورٹی، ہیلتھ انشورنس اور سیفٹی اسٹینڈرڈز کا تمام شعبوں میں اطلاق لیبر قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور مؤثر لیبر انسپیکشن سسٹم کی بحالی غیر رسمی، زرعی، بھٹہ مزدوروں اور گیگ ورکرز کو قانونی دائرہ کار میں لا کر ان کے حقوق کا تحفظ، ٹریڈ یونینز کی آزادی اور مزدوروں کی نمائندگی کو یقینی بنانا
مزدور دشمن لیبر کوڈ کو ختم کیا جاِئے،
https://www.youtube.com/watch?v=8iNur_AdaRc&pp=0gcJCd4KAYcqIYzv
مزید کہا کہ موجودہ عالمی حالات، بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری، جنگی کشیدگی اور پالیسی دباؤ کے باعث مزدور طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور پائیدار ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار امن، معاشی استحکام اور ترقی کا دارومدار ایک مضبوط مزدور طبقے اور انصاف پر مبنی پالیسیوں پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کے حقوق کا تحفظ دراصل ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال معاشرے کی ضمانت ہے۔تقریب کے اختتام پر ایک ریلی بھی نکالی گئی، مزدوروں کے درمیان یکجہتی کے عزم کا اعادہ کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ مزدور طبقہ اپنے حقوق، باعزت روزگار، سماجی تحفظ اور معاشی انصاف کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا
https://www.youtube.com/watch?v=8iNur_AdaRc&pp=0gcJCd4KAYcqIYzv

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں