صحت عامہ کی صورتحال !
معاشرے کے ہر فرد سے جڑا صحت کا شعبہ ملک کے بڑے شعبوں میں سے ایک ہے ،عوام کے چیدہ چیدہ مسائل میں جہاں مہنگائی اور تعلیم سر فہرست ہیں، وہیں ان کی صحت سے جڑے مسائل بھی اہمیت کے حامل ہیں،اس وجہ سے ہی ہر دور میں حکومت عوام کی صحت سے منسلک مسائل کو حل کرنا اپنی ترجیح سمجھتی ہے،اس بارے تشہیری مہم بھی چلائی جاتی ہے اور صحت کا عالمی دن بھی بڑے زور شور سے منایا جاتا ہے
،لیکن نظام صحت کو بہتر بنانے کیلئے عملی طور پر کچھ نہیں کیا جاتا،حکو مت کی گزرتے وقت کے ساتھ تر جیحات بدل جاتی ہیں اور صحت کے مسائل کم ہو نے کے بجائے مزید بڑھتے چلے جاتے ہیں،اس میںنئے ہسپتالوں کی تعمیر ہو، پرانے ہسپتالوں کی ری ویمپنگ کی ہو یا وائرل امراض کی روک تھام سے متعلق اقدامات ہوں ، یا پھر میرٹ پر ڈاکٹروں اور عملے کی تعیناتیاںہوں، سارے ہی کام ادھورے رہ جاتے ہیں، اس حکو مت کے بھی عوام کی دہلیز پر سہو لیات پہنچانے کے دعوئے اپنی جگہ ، مگر یہ سارے ہی دعوئے عملی طور پر کہیں پورے ہوتے دکھائی نہیں دیے رہے ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے
کہ سرکاری اور نجی سطح پر صحت سے متعلق کی جانے والی سرگرمیوں کے باوجود پاکستان میں مجموعی طور پر صحت کے شعبے کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہے ،ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال ٹی بی کے پانچ لاکھ نئے کیسز سامنے آتے ہیں، نوے لاکھ افراد ہیپاٹائٹس بی و سی کے وائرس سے متاثر ہیں ،پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی 2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق ہیپاٹائٹس بی اور سی سے مجموعی طور پر ڈیڑھ کروڑ افراد متاثر ہیں،قومی اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں ہر سال ہی تین لاکھ ملیریا کے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، جبکہ ڈینگی کی وبا میں میں ڈرامائی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، ستمبر 2024 تک پاکستان میں 2795 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
اگر دیکھا جائے تو پا کستان کے شعبہ صحت کے حالات انتہائی خراب ہیں ، ہر دور حکو مت میں وزیر و مشیر اعدادوشمار پیش کر کے عوام کو مطمین کر نے کی کوشش ضرور کرتے رہے ہیں ،مگر زمینی حقائق بالکل ہی مختلف رہے ہیں،اس ملک میں ساری تشہیری مہم کے باوجود کوئی ایسی مرض نہیں ہے کہ جس میں کہیں کمی واقع ہوئی ہے، اس ملک میں ایچ آئی وی اور ایڈز کی شرح میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ،
جبکہ پولیو کی وبا سے محفوظ بنانے کے لیے سرکاری سطح پر کیے جانے والے سارے اقدامات کے باوجود ابھی تک ملک سے پولیو کا خاتمہ نہیں کیا جاسکا ہے، اس طرح ہی دیگر امراض کہ جن میں تھیلے سیمیا بھی شامل ہے کی شرح میں ہرگزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہی ہورہا ہے، پاکستان میں ہر سال پانچ ہزار بچے تھیلے سیمیا کے مرض کے ساتھ پیدا ہورہے ہیں، جبکہ ایک کروڑ افراد تھیلے سیمیا مائنر کا شکار ہیں ،اس کا مطلب ہے کہ ایسے افراد تھیلے سیمیا کے پھیلائوکا مزید سبب بن سکتے ہیں۔
یہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے کہ کسی بھی مرض کے پھیلنے سے قبل، اگر اس مرض کی آگاہی دی جائے اور اس کی روک تھام کے ٹھوس اقدامات کر لیے جائیں تو صحت کے مسائل پر کسی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے تو پھر یہاں ایسا کیوں نہیں کیا جارہا ہے؟کسی بھی معاشرے میں صحت کے شعبے کی زبوں حالی کی بنیادی وجہ وہاں کا ناقص نظامِ صحت، حکومتی غفلت و لاپروائی اور آگاہی کا فقدان ہی ہوتا ہے، اس کی وجہ سے امراض تیزی سے پھیلتے اور وبائی شکل اختیار کرجاتے ہیں،
اگرمرض سے متعلق عوام میں آگاہی کے ساتھ علاج معالجے کی سہولتوں کا فقدان ہو توتب بھی صحت کے مسائل جڑ پکڑتے ہیںاور ہمارے ہاں بڑی تیزی سے جڑ پکڑ رہے ہیں ، مگر حکو مت کے اعلی عہدیداروںسے لے کر شعبہ صحت کے اعلی عہد یداروں تک سب اچھا ہے کی ہی گردان کیئے چلے جارہے ہیں۔
ہرمعاشرے میں صحت کے مسائل پر قابو پانے اور ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے کہ ایک ایسا موثر اور جامع نظام وضع کیا جائے کہ جس کے تحت مریضوں کو نہ صرف علاج معالجے کی سہولتیں دستیاب ہوں، بلکہ عملہ بھی تربیت یافتہ ہو اور ان کی میرٹ پر بھرتیاں اور و تعیناتی کی جائیں ،اس کے ساتھ مختلف امراض سے متعلق عوامی آگاہی کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات بھی کیے جائیں،
ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کیلئے صحت کے شعبے کو اولین ترجیح دی جائے اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دیا جائے اور یہ سب کچھ انفرادی طور پر نہیں ہو پائے گا ، اس کیلئے اجتماعی کوششیں کر نا ہوں گی ، کیو نکہ اجتماعی کوششوں کی نتیجے ہی میں ایک پْر سکون و خوشگوار اور صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔