امن کا بجھتا چراغ !
دنیا ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پرآکھڑی ہوئی ہے کہ جہاں تاریخ کی پرانی چیخیں سنائی دینے لگی ہیں،گزرے دور میں طاقت کے زور پر فیصلے ہوتے تو اس کی گونج شہروں،گلیوں بازاروں میں سنائی دیتی ، مگرآج ان کے اثرات پوری دنیا پر اثر انداز ہورہے ہیں ، جنوبی ایشیا میں نریندر مودی، مشرق وسطیٰ میں نیتن یاہو، واشنگٹن میں صدر ٹرمپ اپنی ظاقت کے زور پر تباہی، بربادی اور انسانیت کا قتل عام کررہے ہیں،
انہیں کوئی روک رہا ہے نہ ہی کسی کی مان رہے ہیں، سوال یہ نہیں کہ کون کتنا طاقتور ہے اور کتنا خود سر ہے ،اصل سوال یہ ہے کہ کیا دنیا اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ وہ تیسری عالمی جنگ کے سائے کو پہچان ہی نہیں پارہی ہے ؟آج دنیا ایک بار پھر ایسی دہلیز پر کھڑی ہے کہ جہاں بارود کی بو اور دھوئیں کے بادلوں نے امن کی ہر امید کو دھندلا دیا ہے ،مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکنے والی آگ اب ایک علاقائی تنازع نہیں رہی ہے،
بلکہ اس کی تپش خطے سے دور‘ بحرِ ہند کے پانیوں میں بھی محسوس کی جا رہی ہے، گزشتہ روز سری لنکا کے قر یب بحرِ ہند میں ایرانی بحری جہاز پر ہونے والے امریکی حملے نے اس خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے کہ جنگ کا دائرہ اب پاکستان کے مشرق تک وسیع ہو چکا ہے، یہ صورتحال عالمی نظام کے بکھرنے اور ایک بڑی عالمی جنگ کی دستک معلوم ہو رہی ہے‘ اس کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے ملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے بجا طور پر سفارتی کوششوں کو مزید تیز کر دیا ہے۔
اس وقت جنگ کی پھیلتی ہوئی چنگاریوں نے علاقائی طاقتوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے مایسے میں نیٹو کے ایک سابق کمانڈر کا بیان کہ دنیا تیسری عالمی جنگ دیکھ رہی ہے‘ محض ایک مفروضہ نہیں ہے، بلکہ ان خدشات کی عکاسی ہے، جوکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہولناک ہوتے جا رہے ہیں، ایک طرف مشرقِ وسطیٰ لہو لہو ہے تو دوسری طرف روس اور یوکرین کے تنازع نے عالمی معیشت کو مفلوج کر رکھا ہے ،
روس کی جانب سے یورپ کو گیس کی فراہمی معطل کرنے کی دھمکی نے توانائی کے عالمی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدید دور میں جنگیں صرف میدانِ کارزار تک محدود نہیں رہتیں ہیں، بلکہ معاشی ناکہ بندیوں اور توانائی کی جنگوں کی صورت میں ان کے اثرات عام آدمی کی دہلیز تک بھی پہنچ جاتے ہیں،پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ،جو کہ پہلے ہی معاشی عدم استحکام سے نبرد آزما ہے‘
یہ صورتحال دہری آزمائش سے کم نہیں ہے۔پاکستان ہمیشہ سے امن کا علمبردار رہا ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی اسلام آباد کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں‘ طاقت کا استعمال صرف نفرت کو جنم دیتا ہے، اس تناظر میں ترکیہ اور انڈونیشیا سمیت اہم علاقائی اور مسلم ممالک سے رابطے تیز کر دیے گئے ہیں،یہ سفارتی فعالیت اس امر کی غماز ہے کہ پاکستان ایک وسیع عالمی بلاک کے ذریعے اس آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہا ہے ،ترکیہ اور انڈونیشیا جیسے ممالک کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ مؤقف اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ عالمی برادری پر دباڈالا جا سکے
کہ وہ اسرائیل اور دیگر جارح قوتوں کو لگام دے، اگر عالمی طاقتوں نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو یہ چنگاری پورے کرہ ارض کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے،لیکن اس جانب کوئی توجہ دیے رہا ہے نہ ہی اس نقطہ پر فور کررہا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے براہِ راست اثرات پاکستان کی سکیورٹی پر بھی پڑ رہے ہیں،ایرانی بحری جہاز پر حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں سمندری تجارتی گزرگاہیں بھی اب محفوظ نہیں رہیں،پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ سمندری تجارت سے وابستہ ہے، لہٰذا خطے میں کسی بھی قسم کی بحری یا زمینی جنگ پاکستان کے سٹرٹیجک مفادات کے لیے براہِ راست نقصان دہ ہے،اس لیے ہی پاکستان کی سیاسی قیادت جنگ بندی کیلئے سفارتی کوششیں مزید تیز کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے،
انسانیت کی بقا بھی اسی میں ہے کہ جنگ کے شعلوں کو مزید پھیلنے سے روکا جائے اور ایک دوسرے کا دھمکیاں لگانے ، جنگ بڑھانے کے بجائے مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر باہمی مسائل حل کیے جائیں، اس نازک موڑ پر ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوامِ متحدہ اور دیگرعالمی ادارے امر یکہ کے سامنے اپنی خاموشی توڑیں، اگر مشرقِ وسطیٰ کی آگ کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو انسانیت ایک ایسے تاریک دور میں داخل ہو جائے گی کہ جہاں قیام امن کا کوئی چراغ کچھ نہیں کر پائے گا، دنیا ابھی تک مکمل اندھیرے میں نہیں ڈوبی، مگر چراغوں کو بچانے کے لیے سب کو مل کر ہاتھ بڑھانا ہوگا، کیونکہ اگر چراغ بجھ گئے تو صرف رات باقی رہ جائے گی