18

خیبر پختونخواکے مسائل پر پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک پیج پر، وفاق سے صوبےکے حقوق ادا کرنےکا مطالبہ کردیا

خیبر پختونخواکے مسائل پر پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک پیج پر، وفاق سے صوبےکے حقوق ادا کرنےکا مطالبہ کردیا

خیبر پختونخواکے مسائل پر پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک پیج پر، وفاق سے صوبےکے حقوق ادا کرنےکا مطالبہ کردیا

خیبر پختونخوا کے مسائل پرپاکستان تحریک انصاف کے وزیراعلیٰ، پیپلز پارٹی کے گورنر اور ن لیگ کے اپوزيشن لیڈر  ایک پیج پر آگئے۔

گورنر فیصل کریم کنڈی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور اپوزیشن لیڈر عباداللہ خان نے مشترکا پریس کانفرنس میں وفاق سے صوبے کے حقوق ادا کرنے کا مطالبہ کردیا۔

 گورنر فیصل کریم کنڈی نے وفاق کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا ہمارا گناہ یہ ہےکہ ہم آپ کو گیس اور بجلی پیدا کرکے دے رہے ہیں؟

گورنر خیبرپختونخوا کاکہنا تھا کہ ہم ریاست کو سستی گیس اور بجلی دے رہے ہیں، مائینز ہمارے پاس ہیں، ہمیں پانی کا شیئر مل جائےتو  ہمیں گندم لینی کی ضرورت نہیں، درخواست ہےکہ اس مسئلے پر نوٹس لیں، ہمارے صوبےکیساتھ زیادتی ہوگی تو ہم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا دہشتگردی کےخلاف ہم جنگ لڑ رہےہیں، پولیس اور آرمی جوانوں کے جنازے اٹھا رہے ہیں، صوبے کے لیے ہر ایک کے ساتھ بیٹھنے کو ہمیشہ تیار ہوں، وفاق اگر اس صوبے کا حق نہ دے تو یہ زیادتی ہوگی۔

گورنر بولے ایک طرف پیٹرول اور بجلی پرعوام سےقربانی مانگی گئی، دوسری جانب سی این جی پر بھی امتحان لیا جارہاہے، وفاق کے ساتھ رابطے میں ہوں، وفاق کو باربار کہا کہ یہ ہمارے صوبےکےساتھ زیادتی ہے، یہ رویہ بند ہونا چاہیے،۔

انہوں نے وزیراعظم سے اپیل کرتے ہوئے کہا صوبےکے مسائل کےحل میں بھی شہباز کی اسپیڈ سےکام کریں، یہاں غریب کو روٹی نہیں ملےگی، سی این جی نہیں ملےگی تو یہ کہاں جائیں گے؟ اس وقت بڑے بھائی کا کردار کمزور  ہے، بڑے بھائی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

وفاق کامختلف منصوبوں میں ہمارے ساتھ رویہ غیرقانونی وغیرآئینی ہے: سہیل آفریدی

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پریس کانفرنس کے دوران وفاقی حکومت کے مختلف منصوبوں میں رویےکو  غیرقانونی و غیرآئینی قرار دیا۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نےکہاکہ صوبے کو آٹا فراہم نہيں کیا  جارہا، ہم ریاست کو سستی گیس اور بجلی دے رہے ہیں لیکن ہمارے سی این جی اسٹیشنز  بند کیے جا رہے ہيں۔

سہیل آفریدی نے وزیراعظم کو سی این جی اسٹیشنز کی بندش پر خط بھی لکھ دیا  اور کہا کہ سی این جی بندش سے ہزاروں افراد کے روزگار  متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا  میرا سب سے ایک ہی مطالبہ ہےکہ غیرقانونی اقدامات میں وفاقی حکومت کا ساتھ نہ دیں، صوبے میں وفاق کی کاموں کے  لیے ہم بریج فنانسنگ بھی کررہے ہیں،  صوبے میں گیس کی بندش مکمل طور پر غیر قانونی اقدام ہے،  گیس بندش کے سلسلے میں کسی بھی غیر آئینی اقدام میں وفاق کا ساتھ نہ دیں، وفاق نےکے پی سے زیادتی کرتے ہوئے قبائلی اضلاع کے 12 ارب روپے بھی کاٹے ہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا اجلاس کے دوران میں نے صوبےکی بدامنی کا حل بتایا تھا،  بد قسمتی سےمیری کسی بھی تجویز پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔

سہیل آفریدی بولے مداخلت بند ہو اور کے پی حکومت کےساتھ مل کر حکمت عملی بنائیں تو 100 دن میں امن قائم ہوگا، حقائق ایک طرف ہیں اور  یہ دوسری جانب جا رہے ہیں،  جب رویے ایسے رہیں گے تو حالات بھی ٹھیک نہیں ہوں گے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی  نے کہا پورے پاکستان کو  آئین کی کتاب نے جوڑا ہوا ہے،  پاکستان کے 45 فیصد جنگلات ہمارا صوبہ رکھتا ہے،  آرٹیکل 158 میں صاف لکھا ہے جو صوبہ گیس پیداکر رہا ہے پہلا حق اس صوبےکا ہے،  بند کمروں کے فیصلے ہم پر مسلط کیے جا رہے ہیں، خیبر پختونخوا کے عوام کو مجبور نہ کیا جائے۔

وفاقی حکومت کام کر رہی ہے لیکن مسائل بھی توجہ طلب ہیں: اپوزیشن لیڈر

خیبرپختونخوا  اسمبلی میں  اپوزیشن لیڈر عباد اللہ نے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ وفاقی حکومت کام کر رہی ہے لیکن مسائل بھی توجہ طلب ہیں۔

انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے سب کو اکھٹا کرنے پر اسپیکر کے پی اسمبلی کا شکریہ بھی ادا کیا۔

اپوزیشن لیڈر عباداللہ کا مزید کہنا تھا کہ یہ صوبہ ہم سب کا ہے اور ہم سب مل کر اپنا ان پُٹ دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں