لوڈ شیڈنگ کا عذاب کب ختم ہو گا!
پا کستانی عوام پہلے ہی بڑھتی مہنگائی ،بے روز گاری اور دیگر مسائل کے ہاتھوں پر یشان حال ہیں ،اوپر سے پاور ڈویژن کی جانب سے ملک بھر میں شام پانچ سے رات ایک بجے کے درمیان روزانہ سوا دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے اعلان نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، پاور ڈویژن کے مطابق بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب‘ مہنگے ایندھن پر انحصار اور ممکنہ طور پر ٹیرف میں بڑے اضافے کو روکنے کے لیے ایسا فیصلہ باعث مجبوری کرنا پڑا ہے ،ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق مہنگے ایندھن کے کم استعمال سے بجلی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو روکا جا سکے گا اور عالمی سطح پر سخت حالات کے باوجود ملک میں بجلی کی پیداوار کومستحکم رکھا جاسکے گا۔
اس وقت حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تقریباً 60 فیصد بجلی درآمدی تیل اور ایل این جی کے ذریعے پیدا کی جاتی ہے،
حالیہ علاقائی کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں گیس اور پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کا اثر بجلی کی قیمت اور دستیابی پر پڑ رہا ہے، حکو مت کی بظاہر کوشش ہے کہ اس کا بوجھ عام صارف پر نہ ڈالا جائے ،اس لیے ایک طرف مار کیٹ جلد بند کرائی جارہی ہیں تو دوسری جانب لو ڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھایا جارہا ہے ، لیکن اس طر ح جہاں عام صارف پر یشان ہے، وہاں کاروباری حلقوں میں بھی انتہائی تشویش پائی جارہی ہے ، کیو نکہ بجلی کی غیر اعلانیہ طویل لوڈ شیڈ نگ نے سارا کاروبار بر باد کر رکھا ہے۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ابھی گر می آئی نہیں اورملک کے بیشتر شہری علاقوں میں چار اور دیہی علاقوں میں چھ گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، ایسے میں پیک آورز کے دوران مزید لوڈ شیڈنگ عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کررہی ہے، ملک کا توانائی کا شعبہ دہائیوں سے مسائل کا شکار ہے،اس طرح کے مسائل کو وقتی فیصلوں سے تو کسی حد تک سنبھالا جاتا رہا ہے، لیکن ایک مربوط اور دیرپا اصلاحاتی حکمت عملی کبھی سامنے نہیں لائی گئی ہے ،اس حکومت نے 2030ء تک بجلی کا 60 فیصد حصہ قابلِ تجدید ذرائع‘ خصوصاً سولر انرجی سے حاصل کرنے کا ہدف مقرر ضرور کررکھاہے،
لیکن اس میں پیش رفت انتہائی سست اور غیر مستقل مزاجی کا شکار ہے،حکومت کو بجلی بحران پر مستقل بنیادوں پر قابو پانے کے لیے جلد از جلد قابلِ تجدید توانائی پر منتقلی یقینی بنانا ہو گی ،کیو نکہ عام آدمی کی زند گی مین تبدیلی لانے اور معیشت کو فروغ دینے کے لیے بجلی کی پیداوار بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس وقت پوری دنیا میں ہتھیاروں کی جنگوں کے بجائے توانائی کی جنگ شروع ہوچکی ہے،ہر ملک اپنی توانائی کے ذرائع کے فروغ کیلئے کام کر رہا ہے اور صنعتی ترقی کیلئے توانائی بڑھا رہا ہے ، لیکن پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے صنعتی اداروں کی مشکلات میں اضافہ ہی ہورہا ہے، ملک میںایک طرف لاقانونیت’ بدامنی ہے تو دوسری طرف لوڈ شیڈنگ ہے ،اس کی وجہ سے صنعتوں کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے اور کاروباری طبقے کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں، عام آدمی سے لے کرچھوٹے چھوٹے تاجر وں تک لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نڈھال ہوگئے ہیں،
اس بڑھتی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے ایک طرف کارخانے مطلوبہ پیداوار حاصل کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں تو دوسری جانب عام کاروبار مندی کا شکار ہو نے لگے ہیں ،ملک کے تاجر اور کاروباری تنظیمیں حکومت سے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا تواترکے ساتھ مطالبہ کررہے ہیں،حکومت کی ذمے دار شخصیات لوڈ شیڈنگ کے جلد خاتمے کے دعوئے تو کررہے ہیں، لیکن ان دعوئومیں کو ئی جان نظر نہیں آرہی ہے ،اس حکو مت کے کونسے پہلے دعوئے اور وعدے پورے ہوئے ہیں، جو کہ اس بار پورے ہوں گے ،
اس حکو مت سے عوام انتہائی مایوس ہوتی جارہی ہے۔ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا کی کوئی بھی جدید معیشت توانائی کے بغیر ترقی کا سفر جاری نہیں رکھ سکتی، حتیٰ کہ روزہ مرہ کی انسانی سرگرمیاں ،مثلا تعلیم، صحت، زراعت اور روزگار کی فراہمی بھی توانائی سے جڑی ہوئی ہیں، ایسے میں بجلی پیدا کرنے کے روایتی طریقوں پر انحصار کرنے سے توانائی بحران پر مستقبل میںقابو پانا ممکن نہیں ہوگا،
اس لیے توانائی کی منتقلی ضروری ہے ، اس حوالے سے حکومت نے قابل ِتجدید توانائی کے شعبے کو فروغ دینے کے لئے نیشنل سولر پالیسی جاری کرنے کا عندیہ دیا ،اس کے بعد عوام مخالف سولر پا لیسی لائی گئی ، عوام کو کہیں سکون سے زندگی میں کوئی رلیف لینے دیا جارہا ہے نہ ہی عوام کے مسائل کا تدارک کیا جارہا ہے ، بلکہ ایک کے بعد ایک بحران سے دوچار کیا جارہا ہے ، حکو مت جب تک اپنا اور اپنی نااہلیوں کا بوجھ عام عوام پر ڈالنا بند نہیں کر ے گی ،اس وقت تک ملک سے لوڈ شیڈنگ جائے گی نہ ہی عوام کی زندگی اور معیشت میں کوئی بہتری آئے گی ۔