جنگ کو امن میں بدلنے کاعزم!
اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر اختتام کو پہنچ گئے، امر یکی نائب صد جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ ہم نے 21 گھنٹے مذاکرات کیے، لیکن مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے‘ یہ امریکہ سے زیادہ ایران کیلئے بری خبر ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ایران واضح اور ٹھوس یقین دہانی کرائے کہ وہ کبھی بھی جوہری بم نہیں بنائے گا، جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز‘ جوہری معاملات‘ جنگی نقصانات کے ازالے‘ پابندیوں کے خاتمے اور خطے میں جنگ کے مکمل خاتمے پر بات چیت ہوئی، مذاکرات میں متعدد نکات پر اتفاق ہوا ،تاہم دو‘ تین معاملات پر اختلافِ رائے کے باعث جامع معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو دنیا اب مزید جنگ چاہتی ہے نہ تیل کی قیمتوں میں بے یقینی نہ تجارتی راستوں کی بندش اور نہ ہی کسی نئے تنازع کا خطرہ چاہتی ہے، اب سارے ہی چاہتے ہیں کہ بات چیت ہو، سمجھوتا ہواور ایک پائیدار امن کی بنیاد رکھی جائے ،لیکن مغربی دنیا کو جہاں اپنے لیے امن چاہیے، وہاں اسے سوچنا ہوگا کہ فلسطین اور لبنان کے لوگ بھی امن چاہتے ہیں، انہیں بھی اسرائیل کے مظالم سے بچانا ہوگا، لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ اس دہشت گردی کی سرپرستی امریکا ہی کررہا ہے،امر یکہ ایک جانب جنگیں رکوانے کی باتیں کررہا ہے ، دنیا میں قیام امن لا نے کی باتیں کررہا ہے تو دوسری جانب نہ صرف جنگیں لگوارہا ہے ، بلکہ خودبھی جنگ میں کود گیا ہے اوراس دلدل سے نکل ہی نہیں پارہا ہے ۔
در اصل امریکا طویل عرصے سے عالمی سیاست میں ایک غالب طاقت کے طور پر فیصلے کرتا آرہاہے ، اس کی عراق، افغانستان اور دیگر خطوں میں مداخلت نے نہ صرف ان ممالک کو تباہ کیا ،بلکہ عالمی نظام کو بھی عدم استحکام کا شکار بنایا ہے،اس میں اسرائیل برابر کا شریک کار رہا ہے، اگر آج بھی امریکا اسرائیل کی پالیسیوں کے زیر اثر فیصلے کرتا ہے اور خطے کو ایک بار پھر جنگ کی طرف دھکیلتا ہے تو یہ نہ صرف خطرناک، بلکہ ناقابل ِ قبول ہوگا، امر یکہ زبانی کلامی امریکہ فسٹ کی گردان تو کرتا ہے ، مگر ہر معاملے میں عملی طور پر سرائیل کو فسٹ رکھتا ہے م جو کہ اب نہیں چلے گا ، کیو نکہ دنیا کے ساتھ امر یکہ عوام بھی امر یکی قیادت کے قول فعل کا تذاد جان چکی ہے اور اس کے خلاف بھر پور آواز اُٹھا رہی ہے۔
دنیا کو اب امریکا کو واضح پیغام دینا ہوگا کہ یکطرفہ فیصلوں اور طاقت کے زور پر پالیسی مسلط کرنے کا دور ختم ہو چکا ہے ،اب عالمی سیاست میں شراکت داری، احترام اور توازن کی ضرورت ہے نہ کہ دھونس، دبائو اور جنگی دھمکیاں چلیں گی ، یہ اپنی اہمیت کھوچکی ہیں، امر یکہ کو طاقت کے بجائے مفاہمت کاراستہ اختیار کر نا ہو گا ، اس معاملے میں پا کستان کلیدی کردار ادا کررہا ہے اور امر یکہ ایران کو جنگ کی دلدل سے نکا لنے کی پوری کوششیں کررہا ہے ،اسلام آباد مذاکرات نے پاکستان کو ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے ،وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان آئندہ بھی سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا،یہ اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے اور اس کے لیے پر عزم ہے اور اس نے ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف میزبان، بلکہ ہر بار ایک موثر ثالث بن سکتا ہے۔
یہ پا کستا ن کا کردار تاریخی ہے، پاکستان ایک ایسا ملک ہے ،جو کہ بیک وقت امریکا، ایران، سعودی عرب اور چین کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے ، اگر پاکستان اس توازن کو برقرار رکھتے ہوئے آئندہ بھی تعطل کا شکار مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھاتا ہے، تو وہ خطے میں امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے، اس کے ساتھ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون اور خطے میں بدلتی ہوئی صف بندیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ایک نیا سیکورٹی ڈھانچہ تشکیل پا رہا ہے،ایک ایسا ڈھانچہ ،جو کہ ممکنہ طور پر امریکا کی براہِ راست مداخلت کے بغیر بھی خطے میں استحکام لا سکتا ہے، ایران کے لیے بھی پاکستان ایک قابلِ قبول شراکت دار ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ نہ صرف جغرافیائی طور پر قریب ہے، بلکہ مذہبی، ثقافتی اور اقتصادی روابط بھی رکھتا ہے، اگر پاکستان سعودی عرب اور ایران کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ ایک تاریخی پیش رفت ہوگی ۔
یہ تاریخی پیش رفت امر یکہ ایران کی مستقل جنگ بندی سے جڑی ہے ، جبکہ امر یکی صدر ٹرمپ ایک طرف مذاکرات میں پش رفت کی بات کررہے ہیں تو دوسری جانب ا ٓبنائے ہر مز کی ناکہ بندی کررہے ہیں، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان ان کے اپنے ہی دیرینہ موقف سے انحراف ہے کہ جس میں مسلسل عالمی تجارت کے تسلسل اور اس اہم گزرگاہ کو کھلا رکھنے پر زور دیتے رہے ہیں،اگر اس جارحانہ بیان کو عملی جامہ پہنایا گیا تو عالمی معیشت پہلے سے کہیں زیادہ سنگین بحران کا شکار ہو جائے گی، ایک طرف مصالحت اور دوسری طرف عالمی تجارت کی شہ رگ کو مسدود کرنے کی دھمکی دینا سفارتی آداب اور منطق دونوں کے منافی ہے، اس سے قبل کہ ایک بار پھر جنگ کی چنگاریاں پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں، عالمی قوتوں کو چاہیے کہ پاکستان کی امن دشمن کوششوں کا ساتھ دیں اور اس بحران کو ٹالنے کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں،بصورت دیگرجنگ کے بڑھتے شعلوں کو امن میں کوئی بدل نہیں پائے گا۔