نیا قرض لے کر پرانا قرض کب تک چکاتے رہیں گے !
اس وقت پاکستان کی معیشت کے سامنے سب سے بڑا سوال صرف یہ نہیں کہ ملک پر کتنا قرض ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس قرض کے بوجھ سے نکلنے کا راستہ آخر کہاں ہے؟ وزارتِ خزانہ کے تازہ Annual Borrowing Plan FY2027 نے ایک ایسی مالیاتی تصویر سامنے رکھی ہے کہ جس میں اعدادوشمار محض اعداد نہیں رہے، بلکہ ملکی معیشت کی سمت کا آئینہ بن گئے ہیں،اس جون 2026 تک پاکستان کا مجموعی عوامی قرض تقریباً 86۔7 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ مالی سال 2026-27 میں حکومت کو مجموعی طور پر تقریباً 28۔647 کھرب روپے کی مالی ضرورت پوری کرنا ہوگی،
جو کہ قومی پیداوار کے تقریباً 20 فیصد کے برابر ہے۔ہماری اصل کہانی یہاں سے ہی شروع ہوتی ہے ،بظاہر حکومت کا مقصد قرض کا بہتر انتظام، اس کی مدت میں اضافہ اور مہنگے قلیل مدتی قرض پر انحصار کم کرنا ہے، تازہ منصوبے میں ٹریژری بلز کے بجائے نسبتاً طویل مدت کے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز اور سکوک کے ذریعے مالی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کی گئی ہے، حکومت نے تقریباً 4۔58 کھرب روپے کے PIBs کی خالص نئی اشاعت اور سکوک و دیگر اسلامی مالیاتی آلات کے ذریعے بھی بڑی رقم حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے،یعنی مسئلہ یہ نہیں ہے کہ حکومت قرض کے نظام کو منظم کرنے کی کوشش نہیں کر رہی ہے ،مسئلہ یہ ہے کہ قرض لینے کی بنیادی ضرورت اب بھی بہت بڑی ہے۔
اس مالیاتی مشکل کو سمجھنے کے لیے ایک بنیادی حقیقت ذہن میں رکھنا ہوگی ،حکومت کو صرف اپنے موجودہ اخراجات پورے نہیں کرنے، بلکہ پچھلے قرضوں کی اصل رقم بھی واپس کرنی ہے۔ FY2027 میں تقریباً 21۔627 کھرب روپے کے قرضوں کی میچورٹیز سامنے آ رہی ہیں، اس میں تقریباً 17۔096 کھرب روپے ملکی اور 4۔531 کھرب روپے بیرونی ادائیگیاں شامل ہیں، اس رقم کے ساتھ تقریباً 7۔02 کھرب روپے کا وفاقی مالیاتی خسارہ شامل کیا جائے تو مجموعی مالی ضرورت تقریباً 28۔647 کھرب روپے تک پہنچ جاتی ہے ،یہ اعداد اس خطرناک دائرے کی طرف لے جاتے ہیں کہ جسے عام زبان میں کہا جا سکتا ہے کہ قرض اتارنے کے لیے نیا قرض لیا جارہا ہے اور اس پر ہی گزارا کیا جارہا ہے۔
اس میں ضروری نہیں کہ ہر نیا قرض بذاتِ خود معاشی تباہی کی علامت ہو،دنیا کی بڑی معیشتیں بھی قرض لیتی ہیں،لیکن اس میں فرق ہوتا ہے کہ قرض کہاں استعمال ہو رہا ہے، اس کی لاگت کیا ہے، اس قرض سے معیشت کتنی آمدن پیدا کر رہی ہے اور قرض واپس کرنے کی صلاحیت کتنی مضبوط ہے ،اگر قرض کسی ایسے منصوبے میں لگے، جو کہ برآمدات، صنعتی پیداوار، توانائی کی کارکردگی، ٹیکس آمدن یا مجموعی معاشی پیداوار بڑھا دے تو وہ قرض مستقبل کی آمدن پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے، لیکن اگر قرض کا بڑا حصہ پہلے سے موجود قرض کی ادائیگی، سود اور جاری اخراجات پورے کرنے میں استعمال ہو تو معیشت کے لیے نئی دولت پیدا کرنے کی گنجائش محدود ہو جاتی ہے ،اس ملک کا مین مسئلہ ہے کہ قر ض بڑھتا ہی جارہا ہے اور اس سے معیشت سنبھل رہی ہے نہ ہی عوام کی زندگی بدل رہی ہے۔
ہم کب تک بجٹ کا بڑا حصہ قرض کی ادائیگی کے لیے مختص کرتے رہیں گے اور تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، تحقیق، صنعتی ترقی اور انسانی سرمایہ کاری کے لیے محدود مالی گنجائش کے ساتھ آگے بڑھیں گے؟اگر حکومت کی آمدن کا بڑا حصہ پہلے سے لیے گئے قرض کے سود میں چلا جائے تو حکومت کے پاس ترقیاتی اخراجات کے لیے کم گنجائش باقی رہتی ہے ،اس سے ترقی کی رفتار متاثر ہوتی ہے، نجی سرمایہ کاری کے مواقع محدود ہوتے ہیں، روزگار کی تخلیق سست پڑ سکتی ہے اور حکومت دوبارہ اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو تی ہے ،ایک طرف قرض بڑھنے کا مسئلہ ہے تو دوسری طرف ، ٹیکس وصولی کی صلاحیت مطلوبہ سطح تک نہ پہنچے کا مسئلہ ہے،
اگر ریاست کی آمدن مسلسل کم اور اخراجات زیادہ رہیں گے تو حکومت کو ٹیکس بڑھانا پڑے گا یا اخراجات کم کرناپڑیں گے، یا مزید قرض لینا ہوگا۔ ٹیکس بڑھانے کی صورت میں کاروبار اور عوام پر بوجھ بڑھ سکتا ہے؛ اخراجات میں کمی سیاسی اور سماجی طور پر مشکل ہو سکتی ہے؛ جبکہ مسلسل قرض مستقبل کی آمدن کو آج کے اخراجات میں استعمال کرنے کے مترادف بن سکتا ہے۔
لہٰذا پاکستان کے لیے اصل معاشی اصلاحات کا مرکز صرف قرض لینا یا قرض کی مدت بڑھانا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ primary balance، ٹیکس اصلاحات، سرکاری اداروں کی کارکردگی، توانائی کے شعبے کے نقصانات، برآمدات، سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں بنیادی بہتری لانا ہوگی،اس ملک کی جب تک معاشی پیداوار کی رفتار قرض کی رفتار سے آگے نہیں نکلے گی،اس ملک کے حالات میں کوئی بہتری نہیں آئے گی ،کیونکہ قومیں صرف قرض لے کر ترقی نہیں کرتیں،ہ قرض کو پیداوار میں تبدیل کرکے ترقی کرتی ہیں۔
آج پاکستان کے معاشی بحران کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آنے والی نسلوں کو صرف قرض کی ادائیگی کا نظام دینا ہے یا ایسی معیشت بھی دینی ہے، جو کہ اپنی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو، یہ86.7کھرب روپے کا قرض صرف ایک عدد نہیںہے،یہ اس سوال کی یاد دہانی ہے کہ ریاست اپنی آمدن، اخراجات اور ترقی کے درمیان توازن کب قائم کرے گی ،اگر پاکستان واقعی قرض کے چکر سے نکلنا چاہتا ہے تو اسے صرف یہ نہیں سوچنا ہوگا کہ اگلا قرض کہاں سے ملے گا، اسے یہ طے کرنا ہوگا کہ اگلی بار قرض کی ضرورت کم کیسے ہوگی ،اس کیلئے عوام کے بجائے اشرافیہ کو قر بانی دینا ہو گی ،اس کو اپنے اخراجات کم کر کے پوری ٹیکس کی ادائیگی بھی کر نا ہو گی ،اس ملک کی ٓمدن بڑھے گی تو ہی اصل معاشی خوشحالی کے ساتھ خودمختاری آئے گی اور ہم نیا قرض لے کر پرانا قرض اتارنے کے چکر سے نکل پائیں گے۔