فرشتہ صفت چہرہ، قاتل سودے باز نکلا !
بین الاقوامی سیاست کی بساط پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہمیشہ سے اپنے غیر روایتی انداز، بے باک گفتگو اور چونکا دینے والے بیانات کے لیے مشہور رہے ہیں، حال ہی میں جی-7 ممالک کے سربراہان کے اجلاس کے بعد ان کی پریس کانفرنس نے دنیا بھر کے سیاسی اور معاشی ایوانوں میں ایک نیا زلزلہ پیدا کر دیا ہے،صدر ٹرمپ نے نہ صرف روایتی سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے اہم اتحادی، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر غیر معمولی تبصرہ کیا، بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کے تحفظ کے حوالے سے بھی ایسے حقائق سامنے رکھے کہ جنہیں نظرانداز کرنا ناممکن ہے، اس بیان نے مودی حکومت کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں اور امریکی ،بھارتی تعلقات میں ایک نیا رخ پیدا کر دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم کو نہ صرف قاتل کہہ دیا،بلکہ پریس کانفرنس کے دوران اپنے سامنے بیٹھے نریندر مودی کو شدید حیرت اور صدمے سے دوچار کر دیا ، انہوں نے مودی کی شخصیت کے دو متضاد پہلوؤں کو انتہائی سخت الفاظ میں بیان کیا، ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مودی دیکھنے میں ایک انتہائی خوبصورت آدمی ہیں، وہ اتنے اچھے اور نرم مزاج لگتے ہیں کہ جیسے کوئی فرشتہ ہو،
لیکن اس کے بالکل برعکس حقائق ہیں،صدر’ ٹرمپ نے مزید سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی انتہائی سخت ہیں، بالکل ایسے جیسے کوئی قاتل سودے باز ہوتا ہے ،امریکی صدر کا یہ تبصرہ بظاہر مودی کے تجارتی اور سفارتی معاملات میں ضدی اور کٹر رویے کی طرف اشارہ تھا، لیکن اس کے لیے ”قاتل” کا لفظ استعمال کرنا عالمی سفارت کاری میں غیر معمولی اور توہین آمیز سمجھا جا رہا ہے۔
اس پریس کانفرنس کا ہی دوسرا اور سب سے اہم حصہ عالمی معیشت اور تزویراتی سیکیورٹی سے متعلق تھا،صدر ٹرمپ نے عالمی رہنماؤں کو متنبہ کیا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں ”آبنائے ہرمزبند رہتی تو دنیا کو 1929ء کی عظیم کساد بازاری جیسی سنگین معاشی تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا، آبنائے ہرمز دنیا کی انتہائی اہم ترین سمندری گزرگاہ ہے کہ جہاں سے روزانہ کروڑوں بیرل خام تیل اور گیس دنیا بھر کی مارکیٹوں کو فراہم کی جاتی ہے،صدرٹرمپ کے مطابق، عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے،
اس شاہراہ کی معمولی سی بندش بھی دنیا بھر میں توانائی کا بحران پیدا کر کے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا سکتی تھی، اس کا براہِ راست اثر عالمی منڈیوں کے گرنے اور معاشی پہیہ جام ہونے کی صورت میں نکلتا،اپنے روایتی اندازِ تفاخر کو برقرار رکھتے ہوئے، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بڑا دعویٰ بھی کیا کہ ان کی انتظامیہ کی سفارتی پیش رفت اور ایران کے ساتھ طے پانے والے نئے معاہدے کے نتیجے میں ہی آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا ممکن ہو سکا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو امر یکہ اسرائیل جنگ ہار چکے ہیں اور اس دلدل سے باہر نکلنا چاہتے ہیں ، لیکن دنیا پر ظاہر کر نا چاہتے ہیں کہ یہ جنگ دنیا امن کیلئے نہ صرف لڑی گئی ،بلکہ جیتی بھی گئی ہے اور انہوں نے ہی ایران کو جوہری توانائی حاصل کرنے سے روکا ہے ، انہوں نے واضح کیاہے کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ طے نہ پاتا، تو آبنائے ہرمز کے کھلے رہنے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی تھی،
کیونکہ ایرانی خطرات اور کشیدگی گزرگاہ کو کبھی بھی بند کر سکتی تھی،صدر ٹرمپ کا ماننا ہے کہ اس کامیاب ڈیل نے نہ صرف جنگ کے بادلوں کو چھانٹا بلکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو مستحکم کر کے دنیا کو ایک بہت بڑے معاشی حادثے سے بچا لیا ہے۔ یہ دعویٰ ظاہر کرتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس بات پر سب ہی متفق ہیں کہ صدر ٹرمپ کے بیانات کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا ، لیکن ان بیانات کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے،مودی کو ”قاتل سودے باز” کہنا جہاں بھارتی سفارت کاری کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، وہیں اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ امریکہ اب بھارت کو اندھی رعایتیں دینے کے موڈ میں نہیں ہے
اور تجارتی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، دوسری طرف، ایران معاہدے اور آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کی کامیابی کے دعوے ان کی داخلی سیاست اور آنے والے وقتوں میں ان کی پوزیشن کو مزید مضبوط کریں گے، اب دیکھنا ہے کہ اس تضحیک آمیز تبصرے پر نئی دہلی کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے اور کیا عالمی برادری آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی بالادستی اور ایرانی ڈیل کے دعوؤں کو تسلیم کرتی ہے یا نہیں، تاریخ گواہ ہے کہ ٹرمپ کے الفاظ صرف بیانات نہیں ہوتے ہیں، بلکہ وہ زیادہ ترآنے والے عالمی منظرنامے کی تبدیلی کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوتے ہیں۔