پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے!
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات صرف دو ملکوں کے درمیان سفارتی یا فوجی روابط نہیں، بلکہ ایک گہرا، تاریخی اور مذہبی رشتہ ہے، جو کہ کئی دہائیوں پر محیط ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے حال ہی میں واضح کیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے، یہ بیان نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ موجودہ خطے کی پیچیدہ صورتحال میں پاکستان کے کردار کی علامت بھی ہے۔
اگر ہم دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیاد کو سمجھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے
کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات مذہب اور ثقافت کی گہری جڑوں سے بُنے ہوئے ہیں، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ، جو کہ اسلام کے مقدس ترین شہر ہیں، پاکستان کے لیے خاص حیثیت رکھتے ہیں،پاکستانی عوام اور افواج کی دل کی گہرائیوں میں ان مقدس مقامات کی حفاظت ایک اعلیٰ فرض سمجھا جاتا ہے،اس لیے پاکستان کا سعودی عرب کے دفاع کے لیے عزم صرف ایک رسمی بیان نہیں ہے، بلکہ دل اور روح کی گہرائیوں سے جڑا ہوا ہے اور اس کی حفاظت کیلئے پالستران کسی بھی حدتک جاسکتا ہے۔
سعودی عرب سے ایک طرف مذہبی وابستگی ہے تو دوسری جانب خطے میں سعودی عرب کا اسٹریٹجک اور جغرافیائی کردار بہت اہمیت کا حامل ہے،اس کی تیل کی دولت، خطے میں اثر و رسوخ اور عالمی سیاسی منظر نامے میں اس کی حیثیت کا اندازہ لگانا بے حد ضروری ہے، سعودی عرب کی سلامتی خطے کی دیگر حکومتوں، خاص طور پر پاکستان کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے، اگر سعودی عرب کی سلامتی خطرے میں پڑی تو اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں محسوس کیے جائیں گے، اس میں پاکستان کا علاقائی امن و استحکام بھی شامل ہے،اس لیے پا کستان جہاں سفارتی کوشش کر رہا ہے ،وہاں باور بھی کروارہا ہے کہ اس کے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
اگرپاکستان کی سفارتی کوششوں پر نظر ڈالی جائے تو وہ انتہائی سنجیدہ اور ٹھوس ہے،اس کی جنرل احمد شریف چودھری نے بھی وضاحت کی ہے کہ پاکستان سعودی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور خطے کی دیگر حکومتوں سے مشاورت کر رہا ہے، تاکہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے ،اس میںخاص طور پر پاکستان واشنگٹن اور تہران کے مابین کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے اور اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو انتہائی اہم قرار دیے رہاہے،
جوکہ اس پیچیدہ فوجی صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ سمجھا جاتا ہے ۔یہ سفارتی کائوش صرف دو ممالک کے مفادات کی حد تک محدود نہیں، بلکہ خطے میں مجموعی طور پر امن قائم کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے،اس میںپاکستان کا کردار اس بات کی بھی غمازی کرتا ہے کہ وہ صرف دفاعی محاذ پر ہی نہیں ،بلکہ سفارتی محاذ پر بھی امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے،یہ نکتہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ خطے میں مختلف طاقتیںکہ جن میں امریکہ اور ایران شامل ہیں، اپنے آپسی اختلافات کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مثبت قدم اٹھا سکی اور اس جنگ سے نکلنے کا راستہ نکا ل سکیں ،بصورت دیگر اس جنگ کی دلدل باہر نکلنے نہیں دیے گی۔
اس وقت ایک طرف امر یکہ ایران جنگ چل رہی ہے تو دوسری جانب حو ثی سعودی عرب پر حملے کیے جارہے ہیں،اس کے پیچھے امر یکہ اسرائیل ہے یا پھر ایران بھی شامل ہے ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ، پا کستان کی کوشش ہے کہ اس معاملے کو سفارتی بنیاد پر حل کر لیا جائے ، لیکن اگر معاملہ سیدھنی انگلی سے حل نہیں ہوتا تو انگلی ٹیڑی کر ناہی پڑے گی،اگر دفاعی تعاون کی بات کی جائے تو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان نہ صرف فوجی تربیت اور ہتھیاروں کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے،
بلکہ مشترکہ فوجی مشقیں بھی منعقد کی جاتی ہیں، یہ تعلق ایک مضبوط دفاعی اتحادی کا تاثر دیتا ہے جو کہ خطے کی سلامتی کو قائم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے،پاکستانی فوج کی مہارت اور تجربہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس میںعوامی اور قیادتی وابستگی بھی ان تعلقات کو استحکام فراہم کرتی ہے، دونوں ممالک کے عوام میں مذہبی ہم آہنگی، ثقافتی مشابہت اور مشترکہ تاریخ ایسے رشتے قائم کرتے ہیں جو حکومتی سطح پر تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہیں، اس کے علاوہ، فوجی اور قیادت کے درمیان تعاون بھی اس اتحاد کو مزید تقویت دیتا ہے،تاہم، علاقے کی پیچیدہ جغرافیائی سیاسی صورتحال چیلنجز بھی پیش کرتی ہے۔ ایران، امریکہ اور دیگر خطے کے طاقتور ممالک کے مفادات پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں،
اس صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے پاکستان اپنی سفارتی حکمت عملی کو مؤثر طریقے سے بروئے کار لا رہا ہے، تاکہ خطے میں امن و استحکام قائم کیا جا سکے۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ایک جامع اور مختلف جہتوں سے بھرپور رشتہ ہیں۔ یہ رشتہ مذہبی، ثقافتی، فوجی اور سفارتی شعبوں میں گہری جڑیں رکھتا ہے، دفاع کے میدان میں پاکستان کا سعودی عرب کے لیے غیر مشروط عزم، خطے میں امن قائم کرنے کی پاکستانی کوششوں کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے لئے امید کی کرن ہے، جنرل احمد شریف چودھری کے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور خطے کی ہرپیچیدہ صورتحال میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ ہے۔