رزق کی فکر نہیں، رزاق پر یقین رکھیے
کالم: جاوید اقبال بٹ
انسان کی زندگی میں فکر اور پریشانی کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ کبھی روزگار کی فکر، کبھی کاروبار کے حالات، کبھی بچوں کی تعلیم، کبھی علاج کے اخراجات اور کبھی بڑھتی ہوئی مہنگائی انسان کو مستقبل کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ آج کا انسان محنت بھی کر رہا ہے، دوڑ بھی رہا ہے، وقت بھی دے رہا ہے، مگر اس کے باوجود دل میں یہ سوال موجود رہتا ہے کہ آنے والا کل کیسے گزرے گا؟
یہ سوال اپنی جگہ حقیقی ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک متوازن سوچ بھی ضروری ہے۔ رزق کے لیے کوشش کرنا ہماری ذمہ داری ہے، مگر ہر لمحہ رزق کی فکر میں گھلتے رہنا ہماری مجبوری نہیں۔
انسان کو چاہیے کہ اپنی صلاحیت کے مطابق محنت کرے، حلال ذرائع اختیار کرے، اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور بہتر مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کرے۔ لیکن ہر کوشش کا نتیجہ فوراً ہماری خواہش کے مطابق سامنے آ جائے، یہ ضروری نہیں۔ بعض اوقات راستے طویل ہوتے ہیں، بعض فیصلوں میں وقت لگتا ہے اور بعض مواقع ہماری توقع سے بالکل مختلف انداز میں سامنے آتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں صبر، امید اور توکل انسان کو اندر سے مضبوط رکھتے ہیں۔
ہم اکثر دوسروں کی زندگی دیکھ کر اپنے حالات کا موازنہ کرنے لگتے ہیں۔ کسی کا کاروبار اچھا چل رہا ہے، کسی کے پاس بڑا گھر ہے، کسی کی گاڑی بہتر ہے اور کسی کی آمدن زیادہ ہے تو ہمیں اپنا حصہ کم محسوس ہونے لگتا ہے۔ حالانکہ ہم کسی کی زندگی کا صرف وہ حصہ دیکھتے ہیں جو سامنے ہوتا ہے؛ اس کے مسائل، پریشانیاں اور ذمہ داریاں ہمیں دکھائی نہیں دیتیں۔
اس لیے اپنے نصیب کو دوسروں کے نصیب سے نہ تولیں۔
ہر انسان کا سفر الگ ہے۔ کسی کو کامیابی جلد ملتی ہے، کسی کو دیر سے۔ کوئی کم وسائل میں مطمئن رہتا ہے اور کوئی زیادہ وسائل کے باوجود بے سکون ہوتا ہے۔ اصل بات صرف یہ نہیں کہ ہمارے پاس کتنا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے، ہم اسے کس نظر سے دیکھتے ہیں۔
رزق کو صرف پیسے تک محدود کرنا بھی مناسب نہیں۔ صحت، والدین کا ساتھ، اولاد کی خوشی، مخلص دوست، اچھے تعلقات، عزت، امن اور دل کا سکون بھی زندگی کی بڑی نعمتیں ہیں۔ ہم اکثر ان نعمتوں کو معمولی سمجھتے رہتے ہیں اور صرف ان چیزوں کے پیچھے بھاگتے ہیں جو ہمارے پاس نہیں۔
کبھی انسان پوری زندگی ایک بہتر گھر کے لیے دوڑتا ہے اور اسی دوڑ میں موجودہ گھر کا سکون کھو دیتا ہے۔ کبھی زیادہ آمدن کی خواہش میں صحت اور خاندان کے لیے وقت نہیں بچتا۔ کبھی دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش میں انسان اپنے اندر کا اطمینان پیچھے چھوڑ آتا ہے۔
زندگی میں ترقی ضرور کریں، مگر اپنے سکون کی قیمت پر نہیں۔
رزق کے معاملے میں سب سے اہم چیز حلال اور دیانت دار راستہ ہے۔ کم آمدن اگر محنت اور عزت سے حاصل ہو تو وہ انسان کے کردار کو مضبوط کرتی ہے۔ اس کے برعکس ناجائز طریقے سے حاصل ہونے والی دولت بظاہر بہت کچھ دے سکتی ہے، مگر انسان کے لیے مسائل اور بے سکونی بھی پیدا کر سکتی ہے۔
اسی لیے بچوں کی تربیت میں بھی ہمیں صرف یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ زیادہ پیسہ کمانا ہے، بلکہ یہ بھی بتانا چاہیے کہ اچھا انسان بننا، محنت کرنا، دیانت دار رہنا اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا بھی کامیابی ہے۔
آج کے دور میں سوشل میڈیا نے موازنہ اور بھی بڑھا دیا ہے۔ لوگ دوسروں کی کامیابیاں دیکھتے ہیں اور اپنی مشکلات سے ان کا موازنہ کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان اپنے پاس موجود نعمتوں سے بھی بے خبر ہو جاتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہر تصویر پوری کہانی نہیں ہوتی اور ہر کامیابی کے پیچھے ایک جیسا سفر نہیں ہوتا۔
اسی طرح زندگی میں آنے والی تاخیر کو بھی ہمیشہ محرومی نہیں سمجھنا چاہیے۔ کبھی ملازمت دیر سے ملتی ہے، کبھی کاروبار کو سنبھلنے میں وقت لگتا ہے، کبھی کوئی منصوبہ ناکام ہوتا ہے اور کبھی کوئی خواہش پوری نہیں ہوتی۔ ایسے مواقع پر انسان کو حالات کا جائزہ لے کر اپنی حکمتِ عملی بہتر کرنی چاہیے، مگر مایوسی کو مستقل سوچ نہیں بنانا چاہیے۔
ناکامی ایک واقعہ ہو سکتی ہے، انسان کی شناخت نہیں۔
اگر آج حالات مشکل ہیں تو اپنی کوشش جاری رکھیں۔ اگر ایک راستہ بند ہے تو دوسرے راستے تلاش کریں۔ اگر وسائل محدود ہیں تو اپنی ترجیحات طے کریں۔ اگر آمدن کم ہے تو ہنر بڑھانے کی کوشش کریں۔ اور اگر دل بے چین ہے تو کچھ وقت اپنے آپ، اپنے خاندان اور اپنی دعاؤں کے لیے بھی نکالیں۔
کیونکہ صرف زیادہ کمانا کافی نہیں؛ بہتر زندگی گزارنا بھی ضروری ہے۔
رزق کے بارے میں سب سے خوبصورت رویہ شاید یہی ہے کہ انسان اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہ ہٹے، مگر نتیجے کے خوف کو اپنے دل پر سوار بھی نہ ہونے دے۔ محنت کرے، مگر بے چینی کے ساتھ نہیں؛ دعا کرے، مگر عمل چھوڑ کر نہیں؛ انتظار کرے، مگر امید کھو کر نہیں۔
اور جب انسان اپنی طرف سے جائز کوشش کر لے تو پھر دل کی بے چینی کو دعا میں بدل دینا چاہیے:
اے اللہ! ہمیں حلال اور پاکیزہ رزق عطا فرما، ہماری جائز محنت میں برکت دے، ہمیں اپنی نعمتوں کی قدر اور شکر کی توفیق دے۔ مشکل وقت میں صبر، درست فیصلے کرنے کی سمجھ اور حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ عطا فرما۔ ہمارے دلوں کو بے جا فکر، حسد اور مایوسی سے محفوظ رکھ، ہمارے گھروں میں سکون، ہمارے معاملات میں آسانی اور ہماری زندگی میں خیر و برکت عطا فرما۔ آمین۔
یہ دعا دراصل ہمیں ہماری ذمہ داری بھی یاد دلاتی ہے کہ رزق کی خواہش کے ساتھ حلال راستہ بھی اختیار کرنا ہے، آسانی کی دعا کے ساتھ مشکل میں صبر بھی کرنا ہے اور کامیابی کی امید کے ساتھ محنت بھی جاری رکھنی ہے۔
اس لیے رزق کی فکر میں اپنے آج کو برباد نہ کریں۔ جو آپ کے اختیار میں ہے، اسے بہتر بنانے کے لیے پوری کوشش کریں۔ جو آپ کے اختیار میں نہیں، اس کے بارے میں خود کو مسلسل پریشان نہ کریں۔
دوسروں کے حصے کو دیکھ کر اپنے نصیب سے شکوہ نہ کریں۔ اپنے حصے کی نعمتوں کو پہچانیں، اپنی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کریں اور اپنی زندگی کو موازنوں کی بجائے مقصد کے ساتھ آگے بڑھائیں۔
آخر میں بس اتنا یاد رکھیے:
محنت کا دامن نہ چھوڑیں،
حلال راستے سے نہ ہٹیں،
دعا کو زندگی سے جدا نہ کریں،
اور امید کو دل سے نکلنے نہ دیں۔
ممکن ہے آج جس راستے پر آپ کو صرف تھکن نظر آ رہی ہو، وہی راستہ کل کسی نئی آسانی تک لے جائے۔ ممکن ہے آج کی محنت آنے والے وقت کی بنیاد بن رہی ہو۔ اور ممکن ہے جس چیز کو آپ ابھی اپنی کمی سمجھ رہے ہیں، وقت گزرنے کے بعد اسی میں زندگی کا کوئی خوبصورت سبق چھپا ہوا ملے۔
رزق کی تلاش جاری رکھیے، مگر زندگی کو صرف رزق کی تلاش نہ بنا دیجیے۔
محنت کیجیے، اپنے لوگوں کے لیے وقت نکالیے، موجود نعمتوں کی قدر کیجیے اور ہر نئے دن کو امید کے ساتھ قبول کیجیے۔
دل مطمئن رکھیے، قدم آگے بڑھاتے رہیے؛
آپ کا کام کوشش کرنا ہے،
آپ کی طاقت امید ہے،
آپ کا سہارا دعا ہے،
اور زندگی کا حسن اسی سفر کو صبر، شکر اور حوصلے کے ساتھ جاری رکھنے میں ہے۔