مہنگائی کا طوفان اور عوام پر بڑھتا معاشی بوجھ  !

 مہنگائی کا طوفان اور عوام پر بڑھتا معاشی بوجھ  !

 اس وقت پا کستان شدید معاشی دباؤ، مہنگائی، بڑھتے ہوئے ٹیکسوں اور عوامی بے چینی کے دور سے گزر رہا ہے،  ہر دور حکو مت میں ہر نئے مالی سال کے آغاز کے ساتھ عوام کو امید ہوتی ہے کہ شاید اس بار ان کے معاشی مسائل میں کچھ کمی آجائے گی، مگر عملاً اس کے برعکس ہی ہوتاہے ،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور ان پر عائد بھاری لیوی نے عام آدمی کی زندگی مزید دشوار بنا دی ہے ،یہ محض ایک مالیاتی فیصلہ نہیں ،بلکہ ایک ایسا اقدام ہے کہ جس کے اثرات معیشت کے ہر شعبے اور ہر گھر تک پہنچ رہے ہیں۔
یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان میں پیٹرول پر عائد لیوی حکومتی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے،اس پر حکومت کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ پروگرام کے تحت بعض مالیاتی اہداف حاصل کرنا ضروری ہیں، اس لیے لیوی ختم کرنا ممکن نہیں ہے ،تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ دلیل پوری حقیقت بیان نہیں کرتی، کیونکہ اگر حکومتی ادارے ٹیکس وصولی کے مقررہ اہداف مؤثر انداز میں حاصل کرلیں، ٹیکس چوری اور کرپشن پر قابو پالیں اور غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی لائیں تو اس قدر عوام پربوجھ ڈالنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے،لیکن عام عوام پر ہی مسلسل سارا بوجھ ڈالا جارہا ہے۔
اس پرسب سے بڑا سوال ہے کہ آخرعام لوگ ہی کیوں مسلسل مالی دباؤ برداشت کریں کہ جن کی آمدنی قابلِ ٹیکس ہی نہیں؟ توانائی کے شعبے سے متعلق حکومتی شخصیات کے بیانات کے مطابق پاکستان میں کروڑوں موٹر سائیکلیں استعمال ہو رہی ہیں، اکثریت ان میں سے غریب اور متوسط طبقے کے افراد کی ہیں، جو کہ روزگار، تعلیم اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں،یہ طبقہ براہِ راست انکم ٹیکس کے دائرے میں نہیں آتا، لیکن پیٹرول پر عائد لیوی اور سیلز ٹیکس کی صورت میں روزانہ ٹیکس ادا کرتا ہے ،یوں ایک ایسا نظام وجود میں آجاتا ہے کہ جس میں کم آمدنی والے افراد بھی اپنی استطاعت سے کہیں زیادہ مالی بوجھ برداشت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
یہ کتنے تعجب کی بات ہے کہ حکو مت کے اپنے ہی وزیر کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ نظام فعل ہو گیا ہے ،اس ملک میںجب روزنہ کی بنیاد پرپیٹرول کی قیمت کا تعین ہو گا اور روزنہ ہی کی بنیاد پراضافہ کیا جائے گا تو اس کا اثر صرف پمپ تک محدود نہیں رہے گا ،بلکہ یہ پورے معاشی نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے،اس سے ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، مال برداری کے اخراجات بڑھتے ہیں، صنعتوں کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے،

زرعی پیداوار کی قیمتیں اوپر جاتی ہیں اور بالآخر روزمرہ استعمال کی اشیائے خورونوش عوام کی پہنچ سے دور ہونے لگتی ہیں۔ سبزی، آٹا، دودھ، گوشت، ادویات، سکول کی فیسیں اور دیگر بنیادی ضروریات تک مہنگی ہوجاتی ہیں،اس ملک میں ایک بار بھڑی قیمتیں کبھی کم نہیں ہوتی ہیں،یوں ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی لاکھوں خاندانوں کے ماہانہ بجٹ کو شدید متاثر کرتا ہے۔
عوام کا سب سے بڑا شکوہ ہے کہ مالی مشکلات کا زیادہ تر بوجھ صرف عام شہریوں پر ڈالا جاتا ہے، جبکہ حکومتی اخراجات، پروٹوکول، سرکاری مراعات اور غیر ترقیاتی مصارف میں خاطر خواہ کمی نظر نہیں آتی ہے ،

حالا نکہ دعوئے بہت کیے جاتے ہیں،لیکن عملی اقدامات نہ ہو نے کے برابر ہیں ، ایک عام آدمی جب اپنی آمدنی کا بڑا حصہ ایندھن، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات پر خرچ کرنے پر مجبور ہو تو اس کے لیے سوال اٹھانا فطری ہے کہ کیا کفایت شعاری کا آغاز اقتدار کے ایوانوں سے نہیں ہونا چاہیے؟ اگر حکمران خود اپنے اخراجات کم کریں تو شاید عوام بھی مشکل فیصلوں کو زیادہ آسانی سے قبول کرسکیںاور اشرافیہ بھی پورا ٹیکس دینے پر راضی ہو جائے ،لیکن جب ہر ایک کی سوچ ہو کہ اس کا ٹیکس ،اس پر نہیں لگتا تو کیسے کوئی ٹیکس دیے گا

اور کیسے حکو مت کا حدف پورا ہو گا ؟
اس ٹیکس کے نظام کی کارکردگی بھی مسلسل بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے، کاروباری حلقوں اور ماہرین معاشیات کی جانب سے بارہا مؤقف سامنے آیا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، دستاویزی معیشت کو فروغ دینے اور ٹیکس چوری کی روک تھام پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی ہے، اگر محصولات جمع کرنے والے ادارے اپنی استعداد بہتر بنائیں، شفافیت کو یقینی بنائیں اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کریں تو حکومتی آمدنی میں نمایاں اضافہ ممکن ہے، ایسی صورت میں بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کم کیا جاسکتا ہے، جو کہ سب سے زیادہ غریب اور متوسط طبقے کو ہی متاثر کرتے ہیں،جبکہ اشرافیہ پوراٹیکس دیتی ہے نہ ہیان پر کوئی بوجھ پڑتا ہے اور حکو مت کا بھی ان پر کوئی زیادہ زور نہیں چلتا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو عام ا ٓدمی ہی مہنگائی اور معاشی بوجھ کی چکی پس رہا ہے، جبکہ حکومت مہنگائی اور معاشی بوجھ میں کمی  لانے کی دعوئیدار ہے ،جبکہ سارے معاشی سروے بتاتے ہیں کہ 53 فیصد عوام حکومت کے دعوئوںسے بالکل متفق نہیں ہے ، 67 فیصد لوگ مہنگائی پر قابو پانے کو ہی ملکی معیشت کی بہتری کے لیے سب سے اہم قدم قرار دیتے ہیں،اس کے باوجو مہنگائی میں اضافہ ہی ہورہا ہے ،

ایک طرف مہنگائی بڑھتا طوفان ہے تو دوسری جانب بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے بھی عوام کو متبادل ذرائع اختیار کرنے پر مجبور کیاہے ، گزشتہ چند برسوں میں ہزاروں گھروں اور کاروباری اداروں نے سولر توانائی کا رخ کیا ،تاکہ اپنے بجلی کے اخراجات کم کرسکیں، لیکناس ملک میں جب سولر نظام تیزی سے مقبول ہونے لگا تو اس سے متعلق پالیسیوں میں تبدیلی، نیٹ میٹرنگ کے قواعد میں ردوبدل یا نئے مالیاتی بوجھ کی خبریں سامنے آنے لگتی ہیں، اس سے عوام میںتیزی سے تاثر پیدا ہوتا ہے کہ عام آدمی کیلئے سستی توانائیسے لے کر رلیف  کا کوئی بھی راستہ زیادہ دیر تک کھلا نہیں رہنے دیا جاتا، حالانکہ ملک کو قابلِ تجدید توانائی کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے، لیکن ہر معاملے میں حوصلہ شکنی ہی کی جارہی ہے۔
یہ مانا کہ معاشی استحکام کے لیے سخت فیصلے بعض اوقات ناگزیر ہوتے ہیں، لیکن ان فیصلوں کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ ان کا بوجھ کس حد تک منصفانہ انداز میں تقسیم کیا جاتا ہے، اگر غریب، مزدور، کسان، سرکاری ملازم اور متوسط طبقہ ہی مسلسل قربانیاں دیتا رہے، جبکہ طاقتور طبقات، ٹیکس چور اور مراعات یافتہ حلقے نسبتاً محفوظ رہیں تو معاشی اصلاحات پر عوام کا اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے، کسی بھی معاشی پروگرام کی کامیابی صرف اعدادوشمار سے نہیں بلکہ عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری سے ناپی جاتی ہے،جبکہ اس ملک میں عام آدمی کی زندگی کا کوئی معیار ہی نہیں رہا ہے،

اس وقت ملک میںایک  ایسے جامع معاشی وژن کی ضرورت ہے، جو کہ صرف محصولات بڑھانے تک محدود نہ رہے، بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے، صنعت و تجارت کو فروغ دے، برآمدات میں اضافہ کرے، توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات لائے اور ٹیکس نظام کو زیادہ منصفانہ بنائے، اگر حکومت اپنے اخراجات میں کفایت شعاری، ادارہ جاتی اصلاحات، کرپشن کے خاتمے اور ٹیکس نیٹ کی توسیع پر حقیقی توجہ دی جائے تو عوام پر اضافی لیوی اور بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ بتدریج کم کیا جاسکتا ہے اور عام ٓدمی کی زندگی کوآسان بنایا جاسکتا ہے۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *