39

آبنائے ہرمز، عالمی طاقتوں کی کشمکش اور اسلامی فقہ کا رہنما اصول

آبنائے ہرمز، عالمی طاقتوں کی کشمکش اور اسلامی فقہ کا رہنما اصول

تحریر : عرفان مصطفٰی صحرائی
دنیا اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں طاقت، معیشت اور سفارت کاری ایک دوسرے کے ساتھ الجھ چکی ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی نظام کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ مذاکرات کی ناکامی، اقتصادی پابندیوں کا بڑھنا اور بحری راستوں پر دباؤ نے اس بحران کو صرف دو ممالک کا مسئلہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے عالمی معیشت اور امن کا سوال بنا دیا ہے۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایک نیا مؤقف اختیار کیا ہے، جس میں اس اہم آبی گزرگاہ کو اقتصادی دباؤ کے جواب میں استعمال کرنے کی حکمت عملی شامل ہے۔ دوسری طرف امریکہ نے بھی سخت اقتصادی اقدامات اور بحری پابندیوں کا راستہ اپنایا ہے۔ اس کشمکش نے عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کرنے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔

اس پورے منظرنامے کو اگر اسلامی فقہی اصولوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ محض سیاسی یا معاشی تنازع نہیں رہتا بلکہ ایک اخلاقی اور قانونی بحث بن جاتا ہے۔ اسلام نے بین الاقوامی تعلقات کے لیے جو اصول دیے ہیں، وہ عدل، معاہدات کی پاسداری، انسانی جان و مال کا تحفظ اور فساد سے اجتناب پر مبنی ہیں۔
اسلامی تعلیمات میں معاہدات کی پابندی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ قرآن کریم میں واضح حکم ہے کہ معاہدوں کو پورا کیا جائے۔ یہ اصول صرف انفرادی سطح تک محدود نہیں بلکہ ریاستی اور بین الاقوامی سطح پر بھی اسی شدت سے لاگو ہوتا ہے۔ اس تناظر میں جب ریاستیں آپس میں معاہدات کرتی ہیں تو ان کی خلاف ورزی محض سیاسی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ اخلاقی اور فقہی سوال بن جاتی ہے۔
اسی طرح آبنائے ہرمز جیسے بین الاقوامی راستے اسلامی فقہ میں ”حقِ عام” کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہ وہ راستے ہیں جو کسی ایک قوم یا ریاست کی ملکیت نہیں بلکہ پوری انسانیت کی ضروریات سے جڑے ہوتے ہیں۔ فقہاء کے نزدیک ایسے راستوں کو بند کرنا یا ان پر غیر ضروری پابندیاں لگانا اسی وقت جائز ہو سکتا ہے جب کوئی شدید دفاعی ضرورت موجود ہو اور وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ اس سے غیر محارب اور عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔
قرآن کریم کا ایک اہم اصول ”لا تَعْتَدُوا” ہے، یعنی حد سے تجاوز نہ کرو۔ یہ اصول بین الاقوامی تعلقات میں بھی بنیادی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ کسی بھی ریاست کا ایسا اقدام جو عالمی تجارت کو بلا وجہ متاثر کرے، شریعت کی نظر میں قابلِ غور بن جاتا ہے۔ کیونکہ اسلام صرف ریاستی مفاد نہیں بلکہ انسانی مفاد کو بھی ساتھ لے کر چلتا ہے۔
دوسری طرف ”لا ضرر ولا ضرار” کا اصول فقہ اسلامی میں ایک بنیادی قاعدہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ نہ نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ ایسے اقدامات کرنا جو اجتماعی نقصان کو جنم دیں۔ اگر اقتصادی پابندیاں یا جوابی پابندیاں عام لوگوں کی زندگی کو شدید متاثر کریں، خوراک، ادویات اور توانائی کی فراہمی کو مشکل بنا دیں تو یہ اصولی طور پر قابلِ اعتراض بن جاتی ہیں۔
موجودہ بحران میں ایران کی طرف سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو اقتصادی دباؤ کے جواب میں استعمال کیا جائے۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بات چیت صرف اس وقت ممکن ہے جب بیرونی دباؤ ختم ہو۔ اس مؤقف کے ساتھ داخلی دباؤ اور اقتصادی مشکلات بھی شامل ہیں، جنہوں نے ایرانی پالیسی کو مزید سخت بنا دیا ہے۔

دوسری طرف امریکہ اور اس کے اتحادی اس صورتحال کو اپنی اسٹریٹجک ناکامی کے طور پر نہیں دیکھ رہے بلکہ اسے دباؤ بڑھانے کے ایک موقع کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایک ایسا ماحول پیدا ہو رہا ہے جس میں مذاکرات کے بجائے طاقت کا توازن زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
فقہی نقطہ نظر سے یہ سوال بہت اہم ہے کہ کیا طاقت کے استعمال کو محض سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے یا اسے عدل اور انسانی مفاد کے تابع ہونا چاہیے۔ اسلامی تعلیمات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ طاقت کو ہمیشہ انصاف کے دائرے میں رہ کر استعمال کیا جائے۔ اگر طاقت ظلم یا اجتماعی نقصان کا سبب بنے تو وہ جائز دائرے سے باہر نکل جاتی ہے۔
آبنائے ہرمز کا معاملہ اس وقت عالمی معیشت کے لیے انتہائی حساس بن چکا ہے۔ دنیا کی بڑی توانائی کی ترسیل اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہو تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کی معیشت متاثر ہوتی ہے۔ اس صورتحال میں اسلامی فقہ کا اصول ”مصلحتِ عامہ” بھی سامنے آتا ہے، جس کے مطابق وہ فیصلے جو پوری انسانیت کے مفاد سے متعلق ہوں انہیں محدود سیاسی مفاد پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔

اسی طرح جنگ اور امن کے اصول بھی یہاں اہم ہیں۔ اسلام میں جنگ کو ہمیشہ آخری آپشن کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین کے دور میں بھی جنگ کے دوران عام شہریوں، معیشت اور ماحول کے تحفظ کی واضح ہدایات دی گئیں۔ درختوں کو کاٹنے، عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے اور غیر محارب افراد کو نشانہ بنانے سے منع کیا گیا۔ یہ اصول آج کے جدید معاشی اور سیاسی دباؤ کے تناظر میں بھی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
موجودہ حالات میں اقتصادی پابندیاں بھی ایک طرح کی غیر روایتی جنگ بن چکی ہیں۔ جب کسی ملک کی معیشت کو دباؤ میں لایا جاتا ہے تو اس کا اثر براہ راست عوام پر پڑتا ہے۔ خوراک کی قیمتیں بڑھتی ہیں، ادویات مہنگی ہوتی ہیں اور بنیادی سہولیات متاثر ہوتی ہیں۔ فقہی اصول اس طرزِ عمل کو اس وقت قابلِ قبول نہیں سمجھتے جب اس کا براہ راست اثر عام انسانوں پر پڑے۔
اسی طرح عالمی سطح پر اعتماد کا بحران بھی بڑھ رہا ہے۔ جب معاہدات کمزور پڑ جائیں اور طاقت غالب آ جائے تو پھر سفارت کاری کمزور ہو جاتی ہے۔ اسلام اس بات پر زور دیتا ہے کہ اعتماد اور وعدے کی پاسداری ہی بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد ہیں۔ اگر یہ بنیاد کمزور ہو جائے تو پھر تنازعات بڑھتے ہیں اور امن کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔

آبنائے ہرمز کا مسئلہ صرف ایران اور امریکہ کا نہیں بلکہ عالمی نظام کے توازن کا مسئلہ ہے۔ اس میں توانائی، تجارت، سفارت کاری اور قانون سب شامل ہیں۔ اس لیے اس مسئلے کو صرف طاقت کے زاویے سے نہیں بلکہ عدل اور انسانی مفاد کے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
آخر میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلامی فقہ ہمیں ایک متوازن راستہ دکھاتی ہے۔ نہ تو مکمل طور پر طاقت کے استعمال کی اجازت ہے اور نہ ہی مکمل طور پر دباؤ کے سامنے جھکنے کی تلقین ہے۔ بلکہ اسلام ایک ایسا راستہ پیش کرتا ہے جس میں عدل، معاہدہ، انسانی تحفظ اور مصلحتِ عامہ کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔
موجودہ عالمی صورتحال میں اگر یہی اصول اختیار کیے جائیں تو کشیدگی کم ہو سکتی ہے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ بصورت دیگر طاقت کی یہ کشمکش نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے مزید بحران پیدا کر سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں