49

صحافت کی آبرو اور کردار کشی کا طوفان ،کوٹلی پریس کلب کے خلاف منظم مہم کا فکری جائزہ

صحافت کی آبرو اور کردار کشی کا طوفان ،کوٹلی پریس کلب کے خلاف منظم مہم کا فکری جائزہ

تحریر: امجد صادق چوہدری
صحافت کسی بھی مہذب معاشرے میں اس پاسبان کی مانند ہوتی ہے جو نہ صرف وقت کی نبض پر ہاتھ رکھتی ہے بلکہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے پالیسی سازوں کو عوامی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہے۔ لیکن جب اسی مقدس پیشے کو ذاتی عناد، فیک نیوز اور منظم کردار کشی کے ذریعے نشانہ بنایا جائے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ سچ کی آواز مفاد پرست ٹولے کے حلق میں کانٹا بن کر چبھ رہی ہے

۔ گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر پریس کلب کوٹلی کے معزز ممبران اور قیادت کے خلاف جو غلاظت اچھالی جا رہی ہے، وہ دراصل اس بیمار ذہنیت کی عکاسی ہے جو دلیل کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے گالی اور بہتان تراشی سے دینے پر یقین رکھتی ہے۔آج کے دور میں سوشل میڈیا ایک ایسا “بے لگام گھوڑا” بن چکا ہے جو کسی کی عزت اتارنے میں تو لمحہ بھر کی دیر نہیں کرتا، لیکن کسی کے زخموں پر مرہم رکھنے کی صلاحیت سے قطعی محروم ہے۔ بدقسمتی کا مقام یہ ہے کہ ہم “تنقید برائے اصلاح” کے سنہری اصول کو فراموش کر چکے ہیں۔ ہمارے ہاں تحقیق کا کلچر دم توڑ رہا ہے

اور کسی بھی ایسی تحریر کو بغیر سوچے سمجھے کاپی پیسٹ کر دیا جاتا ہے جس کی حقیقت کے بارے میں ہمیں ادنیٰ سی معلومات بھی نہیں ہوتیں۔ یہ “ڈیجیٹل دہشت گردی” دراصل ان لوگوں کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش ہے جو حق اور سچ کی بنیاد پر عوامی حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کردار کشی کی اس مہم میں جو الزامات لگائے جا رہے ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ ان الزامات کے خالق وہ لوگ ہیں جو خود حق گوئی سے خوفزدہ ہیں، جبکہ جن پر الزامات لگائے جا رہے ہیں وہی وہ لوگ ہیں جو آج بھی کوٹلی کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ صحافیوں کو کسی کی ہمدردی یا خیرات کی ضرورت نہیں، وہ صرف اپنے قلم کے تقدس اور معاشرے کی اصلاح کے خواہشمند ہوتے ہیں۔
اس پورے تناظر میں اگر ہم کوٹلی کے مسائل کا جائزہ لیں تو پریس کلب کی قیادت نے ہمیشہ شہر کے سلگتے ہوئے مسائل کو اپنی ترجیح بنایا ہے۔

بلدیہ کوٹلی کے حالیہ تنازعہ سے لے کر شہر میں بڑھتی ہوئی ٹریفک کی ابتر صورتحال، تجاوزات کی بھرمار، ہسپتالوں میں ادویات کی کمی اور تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی فیسوں جیسے مسائل پر پریس کلب نے ہمیشہ ایک متحرک کردار ادا کیا ہے۔ کوٹلی شہر کے انتظامی ڈھانچے میں موجود نقائص اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے جب بھی آواز اٹھائی گئی، مقتدر حلقوں نے اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا۔ عوامی حقوق کی اس جدوجہد کو ذاتی جنگ قرار دینا دراصل عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔
پریس کلب کوٹلی کے صدر عامر آزاد راٹھور کی قیادت میں صحافتی برادری نے جس اتحاد اور جرات کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ ستائش ہے۔ عامر آزاد راٹھور نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ صحافت کو کسی گروہ یا فرد کے تابع کرنے کے بجائے اسے مظلوم کی ڈھال بنایا جائے۔ حالیہ بلدیہ تنازعہ پر ہونے والے “گرینڈ جرگہ” میں ان کی فعال موجودگی نے ثابت کیا کہ وہ شہر کے مفاد پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

اسی طرح سابق صدر شوکت محمود قمر کی اس جرگے میں دی گئی بصیرت افروز تقریر محض ایک خطاب نہیں تھا، بلکہ وہ کوٹلی کے ہر اس شہری کی پکار تھی جو کرپشن اور انتظامی بدحالی سے تنگ آ چکا ہے۔ ان کے ایک ایک لفظ نے جہاں عوام کو حوصلہ دیا، وہیں ان طاقتور حلقوں کو بے نقاب کیا جو پسِ پردہ شہر کا سودا کرنا چاہتے ہیں۔
رہی بات بزرگ صحافی یحییٰ جنجوعہ کی، تو ان کی صحافتی زندگی سفید ریش اور دیانت داری کا عملی نمونہ ہے۔ جرگے کے دوران ان کی جانب سے کیے گئے تلخ اور چبھتے ہوئے سوالات دراصل وہ حقائق تھے جن کا جواب انتظامیہ کے پاس نہیں تھا۔ یہ وہ سوالات تھے جو کوٹلی کا ہر باضمیر شہری پوچھنا چاہتا تھا۔ اب جب ان کے پاس سوالوں کے جواب نہیں رہے، تو انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے کردار کشی کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب دلیل ختم ہو جاتی ہے تو اوچھے ہتھکنڈے ہی باطل کا آخری سہارا ہوتے ہیں۔
کالم کے اختتام پر یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ عوامی حقوق اور اجتماعی مسائل کو کبھی بھی ذاتی انا یا شخصی عناد کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیے۔ یہ جنگ کسی عہدے یا مرتبے کے لیے نہیں، بلکہ کوٹلی کے مستقبل اور آنے والی نسلوں کے حقوق کے لیے ہے۔ پریس کلب کوٹلی کے جانباز صحافی عامر آزاد راٹھور، شوکت محمود قمر اور یحییٰ جنجوعہ جیسے لوگ ایسے طوفانوں سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔

فیک نیوز پھیلانے والے شاید یہ بھول گئے ہیں کہ سچ کو جب دبایا جاتا ہے تو وہ مزید شدت کے ساتھ ابھرتا ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ان شرپسند عناصر کا محاسبہ کرے جو سوشل میڈیا کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے معزز شہریوں کی پگڑیاں اچھال رہے ہیں۔ کوٹلی کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ ان کا خیر خواہ کون ہے اور کون ہے جو سچ کی آواز کو دبانے کے لیے مصلحتوں کا شکار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں