ہم نے کسی امپائرکا انتظار نہیں کیا بلکہ ترقی کا سفرجاری رکھا: وزیراعظم 77

سیاستدان کی بھی جج اور جنرل کے برابر عزت ہونی چاہیے: وزیراعظم

پسرور: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہناہےکہ جتنی ایک جنرل اور جج کی عزت ہوتی ہے اتنی ہی سیاستدان کی بھی ہونی چاہیے۔

پسرور میں سیالکوٹ روڈ کو دو رویہ کرنے کے لیے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’خواجہ آصف نے 30 سال ملک کی خدمت کی، ان کی جو آمدن تھی انہوں نے اس پر ٹیکس دیا، ان کے پاس ایک اقامہ تھا جو ویزا ہوتا ہےلیکن ایک ویزے پر ساری زندگی کے لیے سیاستدان کو نااہل کردیں تو کیا یہ ملک کے حق میں ہے‘؟

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے یہ فیصلے قبول کیے اور سر آنکھوں پر رکھے لیکن اسے تاریخ قبول کرتی ہے نہ عوام، یہی سیاستدان ملک کے لیے محنت کرتے ہیں اور معاملات حل کرتے ہیں، ذمہ داری لیتے ہیں اور عوام کے سامنے پیش ہوتے ہیں لیکن کسی اور کا احتساب نہیں ہوتا صرف سیاستدان کا ہوتا ہے، شیشے کے گھر میں سیاستدان رہتا ہے، ملک کے عوام اس کی ہرچیز تولتے ہیں‘۔

وزیراعظم کا کہنا تھاکہ ’جتنی ایک جنرل اور جج کی عزت ہوتی ہے اتنی ہی سیاستدان کی بھی ہونی چاہیے، سیاستدان سب برداشت کرتا ہے پھر بھی ملک کی خدمت کرتا ہے، ملک کی ترقی چاہتے ہیں تو ووٹ اور سیاستدان کو عزت دیں، جو فیصلہ عوام پولنگ کےدن بیلٹ باکس سے کرتے ہیں اس کو عزت ملنی چاہیے اور یہی ترقی کا واحد طریقہ ہے‘۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’(ن) لیگ نےکام کرکے دکھایا، سب کہتے ہیں اگر ہمارے پاس بھی پنجاب جیسے وزیراعلیٰ ہوتے تو کام ہوتا، سب سےکم وسائل پنجاب کے پاس ہیں لیکن بات لگن کی ہے‘۔

ان کا کہنا تھاکہ ’(ن) لیگ نے جو منصوبے شروع کیے اسی دور میں ختم کیے، اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی، یہ نوازشریف کا وژن ہے، ہم نے ایسے منصوبے بھی مکمل کیے جو 30 سال سے حکومتیں نہیں کرپائیں، یہ کوئی معمولی بات نہیں، آج سڑکیں، موٹرویز بن رہی ہیں، یہ منصوبے ماضی میں بھی بن سکتے تھے‘۔

وزیراعظم نے کہا کہ ’دعویٰ ہے اگر کسی نے کام کرکے دکھایا وہ (ن) لیگ ہے، کسی لیڈر کے پاس سوچ اور عوام کے مسائل کا حل تھا تو وہ نواز شریف ہے، انہوں نے یہ سب اپنے عمل سے ثابت کیا، ہم نےکوئی گیارہ نکات نہیں رکھے، کام کرکے دکھایا، ملک میں کہیں بھی جائیں (ن) لیگ کے منصوبے نظر آئیں گے، (ن) لیگ ملک کا درد رکھتی ہے‘۔

انہوں نے سوال کیا کہ ’کیا مشرف اور زرداری کے پاس یہ وسائل نہیں تھے؟ سب کے پاس یہی وسائل تھے، آج بے پناہ مشکلات تھیں لیکن کیا وجہ ہے کہ تمام منصوبے (ن) لیگ نے شروع کیے، ہم نے اپنی نہیں عوام کی جیبیں بھریں‘۔

وزیراعظم کا کہنا تھاکہ ’جب حکومت آئی تو جی ڈی پی تین فیصد سےکم تھی لیکن آج چھ فیصد کےلگ بھگ ہے، یہی سلسل جاری رہا اور سیاست چلتی رہی، عوام نے بہتر فیصلہ کیا تو پاکستان کے مسائل کو (ن) لیگ ہی حل کرےگی‘۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’فیصلہ عوام کےپاس ہوتا ہے، کوئی اور فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے اور نہ ہی اسے ہونا چاہیے، آئین میں واضح ہے عوام نےفیصلہ کرنا ہے اور جو فیصلہ ہوگا پانچ سال اس کی عزت ہونی چاہیے‘۔

ان کا کہنا تھاکہ ’جن کو آج مختلف باتیں یاد آتی ہیں انہیں کہتا ہوں، سب کے پاس حکومت موجود تھی، پانچ سال آپ نے کیا کیا؟ کام کرکے دکھاتے، کام صرف (ن) لیگ نے کیا، ملکی ترقی سے لے کر ملکی خودمختاری کے فیصلے آپ کے سامنے ہیں، (ن) لیگ کو کسی نکات کی ضرورت نہیں، وہ اپنے ریکارڈ اور محنت پر کھڑی ہے، جو کچھ کرکے دکھایا اس کی بنیاد پر کھڑے ہیں‘۔

 
 
 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں