34

دہشت گردی کیخلاف کاروائی اور سفارتی محاذ آرائی !

دہشت گردی کیخلاف کاروائی اور سفارتی محاذ آرائی !

پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی کشیدگی کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن یہ تنازع جب افغانستان کے تناظر میں سامنے آئے تو اس کے اثرات پورے خطے کی سلامتی، استحکام اور مستقبل پر مرتب ہوتے ہیں،حالیہ دنوں پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف کارروائیوں کے بعد بھارت کی جانب سے تنقیدی بیان سامنے آیاہے، اس کو پاکستان کے دفتر خارجہ نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے نہ صرف بھارت کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیاہے ، بلکہ اس پر خطے میں دہشت گردی کی سرپرستی اور ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے سنگین الزامات بھی عائد کیے ہیں،

یہ صورتحال ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جنوبی ایشیا میں سکیورٹی، سفارت کاری اور علاقائی سیاست ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں۔اس پرپاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین طویل عرصے سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے لیے استعمال ہو رہی ہے، پا کستانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ متعدد دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی افغان سرزمین پر ہوئی اور ان حملوں میں ملوث عناصر پاکستان میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتے رہے ہیں، اس تناظر میں پاکستان اپنے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے،

اگر کسی ریاست کی سرزمین سے مسلسل دہشت گردی کی کارروائیاں ہو رہی ہوں اور متعلقہ حکومت انہیں روکنے میں ناکام رہے تو متاثرہ ملک اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے محدود اور ہدفی اقدامات کر سکتا ہے،جبکہ بھارت نے پاکستان کی ان کارروائیوں پر اعتراض کرتے ہوئے انہیں خطے کے امن کے لیے نقصان دہ قرار دیاہے۔
اس ردعمل کو پا کستان نے مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بھارت خود ایک ایسے ملک کے طور پر جانا جاتا ہے کہ جس پر مختلف مواقع پر ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، اس موقع پرپاکستانی وزارت خارجہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا بھی حوالہ دیا ہ ہے کہ بھارت کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو مسلسل دبانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، اس لیے اسے دوسروں پر اخلاقی یا قانونی اعتراض کرنے سے پہلے اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لینا چاہیے،لیکن بھارت اپنے گر باں میں جھانکنے کے بجائے پا کستان پر ہی تنقید کے وار کیے جارہا ہے۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتاہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف علاقائی اور عالمی طاقتوں کے مفادات کا مرکز رہا ہے،اگرچہ امریکی انخلا کے بعدسے طالبان حکومت قائم ہو چکی ہے، لیکن وہاں سرگرم مختلف شدت پسند گروہوں کی موجودگی اب بھی ایک بڑا سکیورٹی چیلنج سمجھی جاتی ہے، پاکستان مسلسل مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ افغان حکومت اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے،افغانستان وعدے کرتا رہا ہے کہ اپنی سر زمیں استعمال نہیں ہو نے دیے گا

،لیکن افغانستان کی سر زمین مسلسل پا کستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے، اگر یہ مسئلہ مؤثر انداز میں حل نہ ہوا تو دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا مزید متاثر ہو سکتی ہے۔
اگر دیکھا جائے توسلام آباد ماضی میں متعدد بار دعویٰ کر چکا ہے کہ بعض دہشت گرد تنظیموں کو بیرونی معاونت حاصل رہی ہے، اگرچہ بھارت ان الزامات کو مسلسل مسترد کرتا ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان اس قدر گہرا ہے کہ ہر واقعے کے بعد الزام تراشیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے

،بھارت ایک طرف الزام تراشیاں کررہا ہے تو دوسری جانب دہشت گردی کی پشت پناہی بھی کررہا ہے ، اس کے ہر بار پا کستان ثبوت بھی فراہم کررہا ہے ، اس کے باجود دہشت گردی سلسلہ رک نہیں رہا ہے ، اس صورتحال میں اصل نقصان خطے کے امن اور ترقی کو پہنچ رہاہے، کیونکہ سیاسی تنازعات کے باعث اقتصادی تعاون، تجارتی روابط اور علاقائی رابطہ کاری مزیدمتاثر ہورہی ہے۔
اس وقت پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنی داخلی سلامتی کو یقینی بنانا ہے ،گزشتہ چند برسوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے نے ملکی سلامتی کے اداروں کے لیے نئے سوالات پیدا کیے ہیں،

ایسی صورتحال میں حکومت پر عوامی دباؤ بھی بڑھ جاتا ہے کہ وہ دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات کرے ،اس تناظر میں پاکستان اپنی کارروائیوں کو قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیتا ہے ،دوسری جانب بھارت اور پاکستان کے درمیان سفارتی کشیدگی کا ایک اہم پہلو اطلاعاتی اور بیانیاتی جنگ بھی ہے، دونوں ممالک عالمی سطح پر اپنے اپنے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ عالمی رائے عامہ اور بین الاقوامی اداروں کی حمایت حاصل کی جا سکے،لیکن عالمی ادارے کسی کی حمایت کے بجائے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
اس خطے کے موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ الزام تراشیوں کے بجائے عملی تعاون کو فروغ دیا جائے، جنوبی ایشیا پہلے ہی غربت، بے روزگاری، موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت اور معاشی مشکلات جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، اگر ایسے میں علاقائی طاقتیں اپنی توانائیاں باہمی تنازعات پر صرف کرتی رہیں تو ترقی کا خواب مزید دور ہوتا جائے گا،اس خطے کے ساتھ پورے جنوبی ایشیا کا مستقبل اسی وقت محفوظ ہو سکتا ہے کہ جب تمام متعلقہ ممالک اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے، ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرنے اور اپنی سرزمین کسی بھی تیسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے اصول پر سنجیدگی سے عمل کریں،یہ ہی ایک راستہ خطے میں دیرپا امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کی ضمانت بن سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں